شاہیں کبھی پرواز سے تھک کر نہیں گِرتا

Karachi Airport

Karachi Airport

پہلے کراچی ایئر پورٹ کا سانحہ پھر ماڈل ٹاؤن میں لاشوں اور زخمیوں کے انبار اور اب عین اُس وقت پرعلامہ ڈاکٹر طاہر القادری کی پاکستان آمد جب افواجِ پاکستان دہشت گردی کے خلاف مصروفِ پیکار اور محاذ پورا پاکستان ۔سمجھ میں نہیں آتا کہ ارضِ پاک کو کس کی نظر کھا گئی جو سکوں محال ہوا جاتا ہے اورمایوسیاں ہر گھر اور ہر دَر پر بال کھولے سو رہی ہیں۔

سوچتی ہوں کہ مایوسیوں کے اِس گھور اندھیرے کو مہمیز دوں یا اُمید کی جوت جگائے رکھنے کی سعی کروں۔مایوسیاں پھیلانے کے لیے تو ہمارا الیکٹرانک میڈیا بھی موجود ہے ، حکومت مخالف سیاست دان بھی اور بہت سے کالم نگار بھی اِس لیے میں نے طے کر لیا ہے کہ آگ اور خون کی برستی بارش میں بھی اپنا ہلکا پھُلکا انداز برقرار رکھتے ہوئے اُمیدوں کے چراغ روشن رکھنے کی سعی کرتی رہوں گی۔

شیخ الاسلام ڈاکٹر طاہر القادری انقلاب لانے لاہور پہنچ چکے ہیں ۔میں نے اُن کی آمد پر پہلے اپنے کالم کا عنوان ”کِس شیر کی آمد ہے کہ رَن کانپ رہا ہے” سوچاکیونکہ مُرشد کے بہت سے متوالوں نے ایسے ہی ”بینرز” اُٹھا رکھے تھے لیکن ایک تو اِس میںحکمرانوںکی شدید ناراضی کا خطرہ تھا کیونکہ پاکستان میں تو ایک ہی ”شیروں کی جماعت ”ہے اور دوسرے عین ممکن تھا کہ مُرشد بھی ناراض ہو جاتے کہ اُنہیںاُن لوگوں کے ساتھ ملا دیا جِن کے ساتھ اُن کا عشروں سے ”اِٹ کھڑکا” چل رہا ہے۔اِس لیے میں نے بڑی سوچ بچار کے بعد یہ ”شاہین” والا عنوان محض اِس لیے منتخب کیا کہ ایک تو مُرشد ہمہ وقت محوِ پرواز رہتے ہیں ( وہ پَرواز خواہ بذریعہ جہاز ہو یا بذریعہ بشارت) اور دوسرے اُنہیں جھپٹنے ، پلٹنے اور پلٹ کر جھپٹنے کا شوق ہی بہت ہے۔ وجہ بزبانِ اقبال یہ کہ
جو کبوتر پر جھپٹنے میں مزہ ہے اے پِسر
وہ مزہ شاید کبوتر کے لہو میں بھی نہیں

مُرشد کو بھی اِن ”جمہوری” کبوتروںپر جھپٹنے میں بہت مزہ آتا ہے اسی لیے تو وہ” اپنے وطن” کینیڈا سے بار بار جھپٹتے اور جھپٹ کر پلٹتے رہتے ہیں۔یہ تو طے ہے کہ مُرشد کے” انقلاب پارٹ ٹُو” پر حکومت ڈری ، سہمی ، سُکڑی اور بوکھلائی ہوئی ہے ، اسی لیے اُس نے ایمریٹس کے طیارے کا رُخ اسلام آباد سے لاہور کی طرف موڑ دیا اور چوہدری شجاعت حسین سمیت عقیدت مندوں کی کثیر تعداد اسلام آباد کے باہر مُنہ دیکھتی رہ گئی۔ سب سے بڑا ” ہَتھ”تو چوہدری پرویز الٰہی کے ساتھ ہوا جو گجرات میں مولانا کے استقبال کی تیا ریاں کر رہے تھے اور اُنہوں نے تو ”کاروانِ انقلاب” کی پَیٹ پُوجا کے لیے 500 دیگیں بھی پکا رکھی تھیں لیکن حکومتی ”شَر پسندوں” نے طیارے کا رُخ موڑ کر چوہدری صاحب کے انتظام و انصرام کا ”سَوا ستیاناس” مار دیا۔

شنید ہے کہ چوہدری صاحب کئی گھنٹے تک دیگوں کے سامنے بیٹھ کر یہ گُنگناتے رہے کہ ”ہم تو مائل بہ کرم ہیں ، کوئی سائل ہی نہیں ”۔اِس حکومتی ”دہشت گردی ” پر بھرپور احتجاج کا حق تو بنتا ہے دوستو۔اُدھر لال حویلی والے شیخ صاحب اپنے چار افراد پر مشتمل ”عظیم الشان” قافلے کے ہمراہ راولپنڈی کی سڑکوں پر گھومتے رہے لیکن اُنہیں ایئر پورٹ تک جانے والا راستہ ہی نہ ملا ۔تھک ہار کر اُنہوں نے اپنے ”محبوب” الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے علامہ صاحب تک اپنی بے بسی اور بیقراری کا عالم پہنچا ہی دیا۔ہمیں شیخ صاحب کے ساتھ دِلی ہمدردی بھی ہے اور خوشی بھی ۔ہمدردی اِس لیے کہ ایک شیخ دوسرے شیخ سے ملاقات نہ کر سکا اور خوشی اِس بات کی کہ شیخ صاحب ”پھینٹی” سے بال بال بچ گئے۔ دروغ بَر گردنِ راوی ، اطلاعات تو یہی ہیں کہ حکومتی کارندوں کو حکم دیا جا چکاتھا کہ اور کچھ ہو نہ ہو ، شیخ صاحب جہاں بھی ملیں اُنہیں بھرپور ”گیدڑ کُٹ” لگائی جائے۔

علامہ صاحب کے طیارے نے جب لاہور ایئر پورٹ پر لینڈ کیا تو کچھ حکومتی اہل کاروں نے طیارے کے اندر جا کر کہا کہ اسلام آباد آ گیا ہے ، باہر تشریف لے چلیں ، آپ کے ہزاروں چاہنے والے آپ کے دیدار کے منتظر ہیں ۔تَب مُرشد جلال میں آ گئے اور ڈانٹتے ہوئے فرمایا ”میں نے ساری زندگی جہازوں پہ سفر کیا ہے کوئی ”تانگوں” پر نہیں ۔میں جانتا ہوں کہ یہ لاہور کا ایئر پورٹ ہے اسلام آباد کا نہیںاِس لیے میں ہر گز نیچے نہیں اتروں گا کیونکہ مجھے ”بشارت” ہوئی ہے کہ باہر پنجاب حکومت نے دہشت گردوں کو پولیس کی وردیاں پہنا کر کھڑا کیا ہوا ہے جن سے میری جان کو شدید خطرہ ہے۔

میں تبھی طیارے سے باہر آؤں گا جب فوجی قیادت بنفسِ نفیس مجھے ”جان کی امان” کی گارنٹی دے گی” ۔ علامہ کے اِس انکار پر وزیرِ اطلاعات پرویز رشید صاحب نے میڈیا پر آ کر یہ”رَولا” ڈال دیا کہ ڈاکٹر طاہر القادری نے طیارہ ہائی جیک کر لیا ہے ۔میں نے جب ایک ”نواز لیگیئے” سے کہا کہ طیارہ تو حکومت نے اغوا کر کے اسلام آباد کی بجائے لاہور پہنچا دیا اور اب مُرشد پر الزام تراشی کی جا رہی ہے تو اُس نے جواباََ کہا ”آپ کی بات بالکل بجا ، ہم تو طیارے کو صرف ایک ایئر پورٹ سے دوسرے ایئر پورٹ کی طرف لے کر گئے لیکن ہمیں کیا پتہ تھا کہ طیارے کے اندر ایک بڑا ”دہشت گرد” بھی موجود ہے جو پورے طیارے کو ہی ہائی جیک کر لے گا ”۔اُس کے اِس بے تُکے اور فضول جواب پر میں سوائے جَل بھُن کر سیخ کباب ہونے کے اور کر بھی کیا سکتی تھی۔

Shaykh-ul-Islam

Shaykh-ul-Islam

ہمارے شیخ الاسلام پورے 5 گھنٹوں تک طیارے کی فرسٹ کلاس میں فوجی قیادت کا انتظار کرتے رہے۔ وہ فوجی قیادت کی تلاش میں”چراغِ رُخِ زیبا ”لے کر طیارے سے باہر بھی نہیں آ سکتے تھے کہ جان کا خطرہ تھا اور نہ ہی اُن کے پاس اے ایف آئی سی جیسا کوئی ٹھکانہ، جہاں وہ پرویز مشرف کی طرح پناہ لے لیتے اِس لیے چار و ناچار اُنہوں نے اپنی شرائط میں نرمی کرتے ہوئے صرف اسی پر اکتفا کر لیا کہ اُنہیں بُلٹ پروف گاڑی مہیا کی جائے، اُن کے اپنے سکیورٹی گارڈز کو طیارے تک آنے کی اجازت دی جائے اور گورنر پنجاب اُنہیں لینے کے لیے خود طیارے میں آئیں کیونکہ گورنر صاحب برطانیہ کے شہری رہ چکے ہیں اِس لیے اُن پر اعتبار کیا جا سکتا ہے۔

بوکھلائی ہوئی حکومت نے اُن کی ساری شرائط مَن و عَن تسلیم کر لیں اور وہ جہاز سے باہر آ گئے ۔ جہاز سے باہر آ کر پتہ نہیں اُنہیں کیا ”بشارت” ہوئی کہ اُنہوں نے چوہدری پرویز الٰہی کے ساتھ بُلٹ پروف گاڑی میں سفر کرنا مناسب سمجھا اورچوہدری صاحب کی ایئر پورٹ آمد کے بعد ہی وہ محوِ سفر ہوئے۔ اِس طرح ہمارے انقلاب کا پہلا ”سِین” اختتام پزیر ہوا۔اب مُرشد ماڈل ٹاؤن میں محوِ استراحت ہیں، جونہی وہ باہر آئیں گے دوسرا ”سین” شروع ہو جائے گا۔

حرفِ آخر یہ کہ راولپنڈی میں مُرشد کے دیوانوں ، پروانوں اور مستانوں نے خوب دھمال مچائی اور پولیس کی ایسی ”دھلائی” کی کہ ”کوئی یہاں گِرا ، کوئی وہاں گرا”۔ راولپنڈی کے ہسپتال زخمی پولیس والوں سے بھر ے پڑے ہیں۔یقیناََ حکومت کو بھی پتہ چل گیا ہو گا کہ شیخ الاسلام کا انقلاب کیسا ہو گا۔ اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ مولانا ایک دفعہ پھر کینیڈا واپس چلے جائیں گے تو یہ اُس کی بھول ہے کیونکہ اب کی بار تو اُنہوں نے اپنی پُرانی جرابیں تک بھی کینیڈا میں نہیں چھوڑیں۔وہ سفینے جلا کر آئے ہیںاور اب انقلاب لا کر ہی دَم لیں گے۔

Professor Riffat Mazhar

Professor Riffat Mazhar

تحریر:پروفیسر رفعت مظہر