چین میں وائرس سے ہونے والی ہلاکتیں ڈھائی سو سے تجاوز کر گئیں

Virus in China - Patients

Virus in China – Patients

بیجنگ (اصل میڈیا ڈیسک) چین میں نمونیا کا باعث بننے والے وائرس میں مبتلا مریضوں کی تعداد بارہ ہزار سے بڑھ گئی ہے۔ یوں ان مریضوں کی تعداد سارس وائرس میں مبتلا ہونے والے افراد سے کہیں زیادہ ہو چکی ہے۔

چین میں کورونا وائرس سے متاثرہ مریضوں کے دم توڑنے کا سلسلہ جاری ہے اور اب ایسی ہلاکتوں کی تعداد 259 ہو گئی ہے۔ چینی حکومت نے مرنے والے افراد کے لواحقین کو ہدایت کی ہے کہ آخری رسومات کو مختصر رکھا جائے تا کہ مرنے والے شخص سے وائرس کا پھیلاؤ نہ ہو سکے۔

اس کے علاوہ بارہ ہزار مریضوں میں اس وائرس کی موجودگی کی تشخیص بھی کی جا چکی ہے۔

ہفتہ یکم فروری کو پچاس کے قریب مریض اپنی زندگی اس مرض کی وجہ سے ہار گئے۔ بیجنگ حکومت نے شدید متاثرہ علاقوں میں شادی رچانے والے جوڑوں سے کہا ہے کہ وہ اس مقصد کے لیے پلان کی گئی تقریبات موخر کر دیں۔

وائرس کی گرفت میں آنے والے مریضوں کے ہسپتال پہنچانے میں بھی شدت پیدا ہو گئی ہے۔ گزشتہ چوبیس گھنٹوں میں دو ہزار سے زائد افراد میں نمونیا کے اِس وائرس کی تشخیص کی گئی ہے۔ خدشہ طاہر کیا گیا ہے کہ جس طرح مریضوں کی تعداد بڑھ رہی ہے، ویسے ہی ہلاکتوں میں بھی بتدریج اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔

چینی وزیراعظم لی کیچیانگ نے یورپی ممالک سے کہا ہے کہ وہ درکار ادویات کی فراہمی یا ترسیل کو یقینی بنانے میں سستی مت برتیں۔

یہ امر بھی اہم ہے کہ سن 2002 میں چین میں پھیلنے والے سارس وائرس میں مبتلا مریضوں کی تعداد سات ہزار کے لگ بھگ تھی جب کہ اس کے باعث ہونے والی ہلاکتیں 774 تھیں۔ سارس وائرس سے زیادہ تر ہلاکتیں چین اور ہانگ کانگ میں رپورٹ کی گئی تھیں۔

نئی قسم کے وائرس کے پھیلاؤ سے چین بقیہ دنیا سے رابطے کے اعتبار سے کٹتا جا رہا ہے۔ بین الاقوامی پروازوں کا سلسلے محدود ہوتا جا رہا ہے۔ ہمسایہ ممالک بھی اپنی سرحدیں بند کر رہے ہیں۔ مغربی اقوام میں بھی اس مناسبت سے پیدا تشویش گھمبیر ہوتی جا رہی ہے۔ عالمی ادارہٴ صحت کے گلوبل ہیلتھ ایمرجنسی کے بعد امریکی حکومت نے ملک کے اندر نیشنل ایمرجنسی کا نفاذ کر دیا ہے۔

اسی طرح کا فیصلہ آسٹریلوی حکومت نے بھی کیا ہے اور کسی بھی غیر ملکی کے چین سے آسٹریلیا پہنچنے پر پابندی عائد کر دی ہے۔ ایسے ہی اقدامات چین کے ہمسایہ ملک منگولیا نے کیے ہیں اور سنگا پور نے بھی چین سے آنے والے غیر ملکیوں کے اپنی حدود میں داخل ہونے کی ممانعت کر دی ہے۔ روس اور شمالی کوریا نے چین کے ساتھ اپنی سرحدیں بند کرنے کا اعلان کر رکھا ہے۔

چین کے اقوام عالم سے کٹنے کے تناظر میں جاپان، برطانیہ، جرمنی اور کئی دوسرے ممالک نے اپنے شہریوں کو ہدایت کی ہے کہ وہ چین کا سفر مت اختیار کریں۔ دوسری جانب چینی حکومت کا اصرار ہے کہ وہ اس نئے اور پراسرا وائرس کے خلاف مدافعت پیدا کرنے والی دوا جلد ہی تیار کرنے کے علاوہ اس وائرس کے پھیلاؤ پر کنٹرول حاصل کرنے میں مکمل کامیابی بھی حاصل کر لے گی۔

چینی حکام نے اعتراف کیا ہے کہ وائرس کے پھیلاؤ کو کنٹرول کرنے کے حوالے سے ردعمل کسی حد تک بروقت نہیں تھا اور اس میں تساہلی برتی گئی۔ بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ طبی حکام اسے سارس وائرس خیال کر کے سابقہ ادویات سے مریضوں کو شفایاب کرنے کی کوشش میں تھے لیکن اُس دوا نے کوئی اثر نہیں کیا۔

چینی شہر ووہان کی انتظامیہ کو بھی بروقت عملی اقدامات میں تاخیر برتنے پر تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ بیجنگ حکومت نے مقامی انتظامیہ کے خلاف کسی قسم کے تادیبی اقدام کرنے کا کوئی ذکر نہیں کیا، لیکن حکمران کمیونسٹ پارٹی کے بعض اعلیٰ اہلکار خاصی ناراضی کا اظہار کر رہے ہیں۔

مختلف ممالک میں چینی باشندوں کی سخت نگرانی شروع کر دی گئی ہے۔ اس کی ایک مثال انڈونیشیا ہے جہاں ایک انڈسٹریل پارک پر متعین پانچ ہزار چینی باشندوں کو کوارنٹائن کر دیا گیا ہے۔ سمارٹ فون بنانے والے امریکی ادارے ایپل نے چین میں اپنے تمام اسٹورز بند کر دیے ہیں۔

اس پراسرار چینی وائرس کی نشاندہی قریب دو درجن ممالک میں کی جا چکی ہے۔ اسی طرح مختلف ممالک نے اپنے اپنے شہریوں کے چین سے انخلا کا سلسلہ بھی شروع کر دیا ہے۔ انخلا کے لیے خصوصی اور چارٹرڈ پروازوں کا انتظام بھی کیا جا رہا ہے۔