ہوس کا رنگ ابھی دیکھنا باقی ہے

Karachi

Karachi

روشنیوں کا شہر اب روشنیوں کا نہیں گرتی لاشوں کا شہر ہے عرصہ پہلے اس بد قسمت شہر سے ایک لوٹنے والے نے کہا شہر کی دیواروں پر یہ نعرہ جا بجا نظر آتا ہے کراچی کی مجبوری ہے نصیر اللہ بابر ضروری ہے آج ہماری صفوں میں کوئی نصیر اللہ بابر بھی نہیں جو امن کی پیاس بجھا سکے تین سو شہداء کی راکھ پر سیاست کرنے والے درندے دندناتے پھر رہے ہیں جنوبی پنجاب کے ضلع لیہ کے مولاداد کا دکھ سوا ہوا جاتا ہے کہ بھائی کو الوداع کہنے فخرالحسن ایئر پورٹ آیا تو ایک مسخ لاش کی شکل میں ماں نے بیٹے کا چہرہ دیکھا مجھے مظفر گڑھ کے گھروں میں پھیلی آہ و بکاآج تک نہیں بھولی کہ اس بد قسمت ضلع کے سو سے زائد نوجوان فیکٹری کو لگنے والی آگ میں راکھ ہو گئے بھتہ مافیا کا تسلط ہے جو شاید ٹوٹ نہ سکے حکیم سعید جیسا بے ضرر محب وطن بھی ایک مافیا کے ہاتھوں موت کی بھینٹ چڑھا ، فیکٹری مالکان سے بھی اس مافیا نے بھتہ مانگاتو انھوں نے شہر چھوڑنے میں عافیت سمجھی اور بھتہ مافیا نے تین سو انسانوں کو راکھ کا ڈھیر بنا دیا پھر اس ڈھیر پر سیاست کی جاتی رہی انسانی زندگیاں ہیں کہ شہر قائد پر مسلط مافیا انہیں نگلتا جا رہا ہے۔

سچائی پر جھوٹ کی ملمع کاری کر کے اس کی ہیئت تبدیل نہیں کی جاسکتی حادثاتی واقعات کا تناظر مجرموں کا تعین کیا کرتاہے ہفتہ12مئی 2007 کی صبح طلوع ہوئی تو روشنیوں کے شہر میں خوف و ہراس ، موت اور دہشت کے عفریت نے اپنے منحوس پر پھیلا دیے سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری کو ہائیکورٹ بار سندھ کی طرف سے گولڈن جوبلی کی تقریب میں شرکت کی دعوت ملی معزول چیف جسٹس عازم سفر ہوئے تو کراچی ائیر پورٹ پر نہ تو ان کے میزبان و کلا کو آنے دیا گیا اور نہ ہی سکیورٹی موجود تھی اعتزاز احسن جو اس وقت ان کے ہمراہ تھے نے کہا کہ چیف جسٹس کو اغوا کرنے کی کوشش ہوئی۔معروف عوامی شاہراہ فیصل 25 کلومیٹر تک گاڑیوں سے بلاک تھی چیف جسٹس کے استقبال کیلئے آنے والے اپوزیشن کے کارکنوں نے بمشکل تمام جب اپنے سفر کا آغاز کیا تو دہشت گردپوزیشنیں سنبھال چکے تھے پھر لاشیں گرنے اور گاڑیوں کو آگ لگنے کا لامتناہی سلسلہ چل نکلا انسانی چیخیں سننے اور انھیں بچانے کیلئے دور دور تک سکیورٹی کا کوئی انتظام نہ تھا روشنیوں کے شہر پر اقتدار کی دسترس موجودہ حکومت کی تھی اور آج بھی وہی حکومت اقتدار میں ہے یہ سوال موجودہ چیف جسٹس سے بھی جواب مانگتاہے کہ 12مئی کے شہداء کے قاتلوں کا تعین کیوں نہیں کیا جاسکا کہ اس واقعہ کا ذمہ دار شہر قائد پر اقتدار کی دسترس رکھنے والا حکمران طبقہ تھا کراچی شہر کے امن پر از خود نوٹس لیا گیا تو بھی اس کے امن کو ادھیڑ نے والے مافیا کا تعین نہ ہوسکا ۔ فیکٹری کو آگ لگانے کا واقعہ بھی دانستہ تھا کہ بھتہ مافیا نے سوچے سمجھے منصوبے کے تحت خون کی ہولی کھیلی چمن کی بہار نوچنے والے باغبان نہیںصیاد ہوا کرتے ہیں اور جن کی آنکھوں سے زہر ، ہوس اور آستینوں سے لہو کی بوندیں ٹپک رہی ہوں وہ لیڈ ر نہیں بزدل ہوا کرتے ہیں ،شہر قائدمیں ظالموں ، قاتلوں اور قزاقوں سے خون ناحق کا ایک ایک قطرہ حساب مانگتا ہے ،بے گناہوں کا لہو جو تاریک راہوں میں مارے گئے ایک لہو وطن کو زندگی حسن و توانائی بخشتا ہے اور ایک لہو جب بہتا ہے توپوری انسانیت مر جاتی ہے۔

ایک سوال اٹھتاہے کہ اندھیرا کیا اور اجالا کیا ہے ؟ وطن فروشی یقینا اندھیرا ہے اور حب الوطنی اجالاہے اندھیروں میں سفر کرنے والے روشنی کی لذت سے محروم ہوگئے ،لوٹ مار، کرپشن اور ہوس اقتدار کی خاطر انسانیت کا ناحق خون بہانے والے عوام کی عدالت میں اپنے نا پسندیدہ اعمال کی تصویر بن جاتے ہیں وقت کسی کے چشم و ابرو کی طرف نہیں دیکھتا بلکہ آنکھیں دکھاتا ہے اہل نظر سے ملووہ دل میں انجانا خوف لیے پھرتاہے ،ستارہ شناس ستاروں کی نحوست کی بات کرتا ہے وہ خلق خدا جو ووٹ کاسٹ کرنے کے بعد 11 مئی 2013 کو ووٹ کاسٹ کرنے کے بعد قارون کے خزانے کی منتظر تھی غربت و افلاس کی گہرائیوں میں گم ہوگئی تسلیوں کا نشتر ایک سال سے عوام کی پیٹھ میں گھونپا جا رہا ہے وقت فیصلہ صادر کرنے والا ہے ہوس اقتدار کی آگ ہے کہ بجھنے میں نہیں آرہی عوامی نمائندگی کا جنہیں دعویٰ ہے ان کا دامن کرپشن، لوٹ مار سے تار تار ہے جمہوریت نے تو آمریت کو مات دیدی اذیت ناک لمحہ وہ ہوتاہے جب صبح کے آثار شروع ہوں اورسورج نکلنے کا نام نہ لے۔جمہوریت کی ، صبح کاذب کی تھکا دینے والی تکلیف ایک ناسور کی شکل اختیار کر چکی ہے۔

Democracy

Democracy

ترقی کے لفظ آہستہ آہستہ سوتیلے ہوتے جا رہے ہیں حکمرانوں کے عوام دوستی کے چہرے بے نقاب ہوچکے پیچھے قدم لے جانے کے تمام راستے مسدود ہو چکے کہ اکثر اوقات مہلت کا آخری لمحہ بھی ریت کے ذرات کی مانند ہاتھوں سے پھسل جاتا ہے روشنیوں کا شہر وطن دشمنوں کی ریشہ دوانیوں کی زد میں ہے محب وطن اور خیر کی قوتوں کے اٹھنے، زندگی کا ثبوت دینے کا وقت آپہنچا، وہ امن جس کے پیچھے طاقت نہ ہو ریت کی دیوار ثابت ہو اکرتا ہے اور وہ اقتدار جس میں قوت فیصلہ اور بروقت قدم اٹھانے کا حوصلہ نہ ہو اپنے بوجھ تلے ہی دبتا چلا جاتا ہے۔

قائد کا شہر مردانِ کار کو پکار رہا ہے کہ بڑھیں اور خوف و خطر کی ساری بندشیں توڑ ڈالیں حالات کی باگ اپنے ہاتھوں میں تھامیں اور شہر میں مسلط بدی کو سرنگوں ہونے پر مجبور کر دیں۔آنکھیں جو دور تک دیکھ سکتی ہیں سوچ میں ڈوبی ہیں اندیشہ ہائے دور دراز سے جی گھبرارہا ہے مگر یقین اور امید کے شفاف جذبے ہنوز سینوں میں باقی ہیں کہ جنرل راحیل، جنرل ظہیر الاسلام جیسے محب وطن کا وجود بھی اندھیرے میں روشنی کی کرن ہے۔

M.R Malik

M.R Malik

تحریر : ایم آر ملک