fbpx

کمانڈو کی رہائی کے لیے ماؤ نوازوں کا ثالث مقرر کرنے کا مطالبہ

Security Forces

Security Forces

چھتیس گڑھ (اصل میڈیا ڈیسک) پولیس حکام کے مطابق ماؤ نواز باغیوں کے ساتھ جھڑپ کے دوران فورسز کے 22 اہلکار ہلاک ہوئے جبکہ ایک کمانڈو اب بھی لا پتہ ہے۔ اس تناظر میں کمانڈو کی رہائی کے لیے ماؤ نوازوں نے ثالث مقرر کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

پولیس حکام کا کہنا ہے کہ گزشتہ سنیچر کو ماؤ نواز باغیوں کے ساتھ ہونے والی جھڑپ کے بعد سے کوبرا یونٹ کے لا پتہ کمانڈو راکیشور منہاس سنگھ کا پتہ نہیں چل سکا ہے کہ آخر وہ کس حالت میں ہیں۔ تاہم ماؤ نواز باغیوں نے ان کی اپنی تحویل میں ہونے کی تصدیق کی ہے اور کہا ہے کہ ان کی رہائی کے لیے حکومت کو ایک ثالث مقرر کرنے کی ضرورت ہے۔

گزشتہ روز ماؤ نواز گروپ ’وکلپ‘ کے ایک مقامی ترجمان ڈنڈا کرانیا کی جانب سے جاری کردہ ایک پریس نوٹ میں کہا گيا،’’حکومت کو چاہیے کہ وہ بات چيت میں شامل افراد کے ناموں کا اعلان کرے۔ اس کے بعد ہی ہم اس پولیس افسر کو رہا کریں گے، جو ہماری حراست میں ہے۔ اس وقت تک وہ ہماری تحویل میں محفوظ ہیں۔‘‘

کوبرا یونٹ کے راکیشور سنگھ منہاس کا تعلق جموں سے ہے، جو گزشتہ ہفتے ماؤ نوازوں کے خلاف ہونے والے آپریشن میں شامل تھے اور اس کے بعد سے ہی وہ لا پتہ ہیں۔ اس دوران حکام نے ان کے اہل خانہ سے ملاقات کر کے اس بات کی یقین دہانی کرائی ہے کہ حکومت ان کی رہائی کے لیے ہر ممکن کوشش کرے گی۔

منگل کے روز ہی ریاست چھتیس گڑھ میں بستر علاقے کے انسپکٹر جنرل آف پولیس پی سندر راج نے بتایا کہ گم شدہ کمانڈو کا ابھی تک کچھ بھی پتہ نہیں چل سکا ہے جبکہ ان کی تلاش کی مہم زور شور سے جاری ہے اور اس سلسلے میں حکام مقامی گاؤں والوں اور دیگر برادریوں سے رابطے میں ہیں۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پولیس حکام ماؤ نوازوں کی جانب سے جاری ہونے والے اس پریس نوٹ کا بھی جائزہ لے رہے ہیں، جس میں اس بات کا دعوی کیا گيا ہے کہ لا پتہ کمانڈو ان کی حراست میں ہيں۔

بھارت کی وسطی ریاست چھتیس گڑھ میں چار اپریل کو سکیورٹی فورسز اور ماؤ نواز باغیوں کے درمیان ہونے والی جھڑپوں میں سکیورٹی فورسز کے کم از کم 22 اہلکار ہوئے تھے۔ ماؤنوازوں کے خلاف اس آپریشن میں بھارت کی مختلف یونٹوں کے دو ہزار سے بھی زیادہ اہلکاروں نے حصہ لیا تھا تاہم جنگلوں میں ہونے والی اس لڑآئی میں باغی غالب رہے اور بھارتی سکیورٹی فورسز کو کافی نقصان پہنچا۔

سکیورٹی فورسز نے 22 افراد کی ہلاکت کے ساتھ ہی درجنوں افراد کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے تاہم ماؤ نواز باغیوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے 24 فوجی اہلکاروں کو ہلاک کیا اور 31 زخمی ہوئے۔ ان کا کہنا ہے اس میں ان کے چار افراد بھی مارے گئے۔

بائیں بازو کے نظریات کا حامل ماؤ نوازوں کا گروپ بھارت کی مرکزی حکومت کو تسلیم نہیں کرتا ہے اور اس گوریلا گروپ نے اپنے حقوق کے لیے مسلح تنظیمیں بنا رکھی ہیں۔

بھارت کی کئی مرکزی اور جنوبی ریاستوں میں ماؤ نوازوں کا اثر و رسوخ ہے تاہم ریاست چھتیس گڑھ ماؤنواز باغیوں کا گڑھ تصور کی جاتی ہے اور وہاں گزشتہ دو عشروں کے دوران تقریبا ساڑھے تین ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ اس میں باغی، سکیورٹی اہلکار اور عام شہری بھی شامل ہیں۔

بھارتی حکومت نے ماؤ نواز باغیوں کو داخلی سکیورٹی کے لیے سب سے بڑا خطرہ قرار دے رکھا ہے۔ ماؤ نواز باغیوں کا دعویٰ ہے کہ وہ زمین، ملازمتوں اور غریب قبائلی گروپوں کے حقوق کی جنگ لڑ رہے ہیں۔