فلسطین میں قیامت صغری کا منظر

Palestine

Palestine

ارض فلسطین پر اسرائیل نے ایک مرتبہ پھر قیامت برپا کر دی ہے۔ اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں ننھے منے فرشتے بھی جامِ شہادت نوش کر گئے اور بے بس ممتائیں اجڑی ہوئی گودوں سمیت لحد میں اتر گئیں۔ غزہ کی بستی جلتی ہوئی چتا کا منظر پیش کر رہی ہے۔ عالم اسلام مظلوم فلسطینیوں کے قتل عام پر بے بس اور خاموش کیوں ہے۔ مظلوم فلسطینی مدد مدد پکار رہے ہیں اور مسلم حکمران محض مذمت مذمت کہہ کر اپنے فرائض سے سبکدوش ہو رہے ہیں۔ نہتے فلسطینیوں کے خلاف اسرائیلی جارحیت انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ اسرائیل نے غیرمسلح اور نہتے فلسطینیوں کے خلاف ہمیشہ ریاستی طاقت کا وحشیانہ استعمال کیا۔

اسرائیل اور حماس کے درمیان یکطرفہ جنگ بندی کی کوشش ناکام ہونے پر صیہونی فوج نے ایک مرتبہ پھر غزہ میں فضائی کارروائی شروع کردی اور گزشتہ 9 روز سے جاری بمباری کے نتیجے میں شہادتوں کی تعداد 200 سے تجاوز کرگئی۔ حماس کی جانب سے جنگ بندی کی مصری یکطرفہ تجویز مسترد کئے جانے کے بعد طاقت کے نشے میں چور اسرائیل نے ایک مرتبہ پھر غزہ میں محصور فلسطینیوں پر بمباری شروع کردی جبکہ گزشتہ 9 روز سے جاری بربریت کے دوران شہید ہونے والے نہتے فلسطینیوں کی تعداد 203 ہوگئی۔

تازہ کارروائی میں اسرائیلی فضائیہ نے حماس کے سینئر رہنما محمود الزہر کے گھر پر حملہ کیا تاہم حملے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا جبکہ صیہونی جیٹ طیاروں نے شمالی شہر رفع میں بمباری کی جس کے نتیجے میں 3 افراد شہید ہوگئے، اسی طرح زمینی کارروائی کے دوران اسرائیلی ٹینک نے یونس خان کے علاقے میں گولہ باری کی جس کی زد میں آکر ایک نوجوان شہید ہوگیا۔اس سے قبل اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتین یاہو نے حماس کے خلاف بھرپور فوجی کارروائی شروع کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے ہمارے لیے بھرپور جوابی کارروائی کے سوا کوئی راستہ نہیں چھوڑا، حماس نے لڑائی جاری رکھنے کا راستہ اپنایا اور اب انہیں اس فیصلے کی قیمت چکانی پڑے گی۔

بینجمن نیتین یاہو کا کہنا تھا کہ جنگ بندی کا معاملہ سفارتی بنیادوں پر زیادہ بہتر طریقے سے حل کیا جا سکتا تھا اور ہم نے مصر کی جانب سے جنگ بندی کی تجویز منظور کر کے ایسا کرنے کی کوشش بھی کی لیکن حماس نے ہمارے بھرپور انداز میں جارحانہ حملے کرنے کے سوا کوئی راستہ نہیں چھوڑا۔ دوسری جانب حماس کے ترجمان فوزی برہوم کا کہنا تھا کہ کسی بھی جنگ کے دوران پہلے مذاکرات اور پھر جنگ بندی نہیں ہوتی، ان کی تنظیم کسی بھی معاہدے تک پہنچے بغیر جنگ بندی مسترد کرتی ہے۔8 جولائی سے جاری صیہونی فوج کی بربریت کے دوران معصوم بچوں اور خواتین سمیت 203 فلسطینی لقمہ اجل بن چکے ہیں جبکہ اس دوران 1200 سے زائد افراد زخمی بھی ہوئے جن میں کمسن بچوں اور خواتین کی تعداد نمایاں ہے۔

جبکہ اسرائیلی بربریت پر امریکا سمیت اقوام متحدہ خاموش تماشائی بنے بیٹھے ہیں۔پاکستانی وزیراعظم نوازشریف نے کہا ہے کہ کھلی اسرائیلی جارحیت پر عالمی برادری کا چپ رہنا سمجھ سے بالا تر ہے جبکہ مسلم اْمہ کی خاموشی نے بھی اسرائیل کو جارحیت کا موقع دیا۔انہوں نے اسرائیلی جارحیت کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل غزہ میں نہتے فلسطینوں سمیت بچوں اور خواتین پر بدترین ظلم کررہا ہے اور یہ جارحیت نسل کشی کے مترادف ہے۔

معصوم فلسطینیوں پر اسرائیلی مظالم کی حالیہ تاریخ میں کوئی مثال نہیں ملتی ۔عالمی برادری اسرائیل کی ننگی جارحیت فوری طور پربند کرائے۔پاکستان کی دینی و سیاسی جماعتوں نے غزہ پر اسرائیلی جارحیت کی سخت الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا کہ عالم اسلام بالخصوص مسلم حکمران بیدار ہو ں غزہ کے مظلوم مسلمانوں کے دکھ درد کو محسوس کرے ورنہ کل کوئی بھی شہر غزہ بن سکتا ہے اسرائیل کی زمینی کاروائی پر اس کے خلاف پورا عالم اسلام اٹھ کھڑا ہو۔ اوآئی سی کا طرز عمل اور خاموشی افسوسناک ہے۔

امت کا مقدر صرف رونا اور احتجاج کرنا نہیں ہے امت مسلمہ پر ہونے والے مظالم کی روک تھام کا بندوبست کریں۔اقوام متحدہ اسرائیلی ظالمانہ کارروائیوں کا نوٹس لے کراس پر دبا ؤڈالے اور غزہ پر حملے رکوانے کے لئے جنرل اسمبلی کا ہنگامی اجلاس طلب کرے ۔جماعہ الدعوة پاکستان نے اسرائیل کی فلسطین پر بمباری اور نہتے فلسطینیوںکے قتل عام کے خلاف 18جولائی جمعہ کو ملک گیر یوم احتجاج کا اعلان کر دیا۔صوبائی دارالحکومت سمیت مختلف شہروں میں نماز جمعہ کے بعد احتجاجی مظاہرے کئے جائیں گے ،ریلیاں نکالی جائیں گی اور سیمینارزو کانفرنسوں کا انعقاد کیا جائے گا۔خطبات جمعہ میں علماء کرام اسرائیلی مظالم کو موضوع بنائیں گے اور نماز جمعہ کے اجتماعات میں مذمتی قراردادیں پیش کریں گے۔

Hafiz Mohammad Saeed

Hafiz Mohammad Saeed

امیر جماعةالدعوة حافظ محمد سعید کی ہدایات پر ملک بھر میں 18جولائی جمعہ کواسرائیلی بربریت کے خلاف اور فلسطینیوں سے اظہار یکجہتی کیلئے احتجاجی مظاہروں اور ریلیوں کے پروگرام ترتیب دیے جارہے ہیں۔ جماعةالدعوة کی طرف سے دیگر مذہبی و سیاسی جماعتوں کو بھی ان پروگراموں میں شریک کیاجائے گا تاکہ پوری دنیا میں مضبوط آواز بلند کی جاسکے۔ حکومت پاکستان فلسطینیوں کی نسل کشی اورقتل وغارتگری روکنے کیلئے او آئی سی کا فوری اجلاس طلب کرے جس میںاسرائیل کی اس جارحیت کے خلاف تمام مسلم ممالک کوئی ٹھوس لائحہ عمل کا اعلان کریں تاکہ روز روز کی اسرائیل کی اس دھشت گردی کا کوئی سدباب ہوسکے۔ اقوام متحدہ کا فرض بنتا ہے کہ وہ کسی دباؤ میں آئے بغیر اسرائیل کی اس دھشت گردی کو رکوانے کی بھرپور سعی کرے اور بین الاقوامی قوانین پر عمل کرانے کیلئے اپنا بھرپور اثرورسوخ استعمال کریے۔

او آئی سی اور مسلم دنیا کے حکمرانوں کی خاموشی افسوسناک ہے ،امت مسلمہ کے نوجوان اور باصلاحیت لوگ میدان عمل میں نکلیں اور امت کی نشاہ ثانیہ کے لیے کردار ادا کریں ، اس وقت غزہ اور دنیا کے دیگر خطوں میں امت جس کربناک صورتحال سے دوچار ہے دنیا کے دیگر خطوں بالخصوص پاکستان میں رہنے والے مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اپنے بھائیوں کا دکھ درد محسوس کریں ورنہ یاد رکھیں کل کوئی بھی شہر غزہ بن سکتا ہے۔کل جماعتی حریت کانفرنس گ کے چیرمین سید علی گیلانی نے درجنوں معصوم بچوں اور خواتین سمیت سینکڑوں نہتے فلسطینیوں کی دلدوز ہلاکتوں پر گہرے رنج وغم اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اسرائیلی دہشت گردی کے خلاف 18جولائی جمعہ کو نماز کے بعد احتجاجی مظاہرے کرنے اور کالج ویونیورسٹی کے طلبا سے بازوں پر کالی پٹیاں باندھنے کی اپیل کی ہے۔

امریکہ، برطانیہ اور کنیڈا کی اسرائیلی حملوں کی حمایت کرنے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے گیلانی نے مسلم حکومتوں کے رول پر بھی زبردست افسوس اور برہمی کا اظہار کیاجو اسرائیلی جارحیت کی بجائے حماس کیخلاف بیان بازیاں کرتی ہیں اور جن کی بے حسی کی وجہ سے شہ پاکر اسرائیل نہتے شہریوں پر مسلسل بم برسا رہا ہی۔ امریکہ اور برطانیہ اسرائیلی جرائم میں برابر کے شریک ہیں اور وہ غزہ میں مظلوم فلسطینی بچوں کے قتل عام کی باضابطہ طور سے حمایت کررہے ہیں۔کیا فلسطین میں مارے جارہے بچوں میں سے کوئی ملالہ یوسف زئی نہیں ہے جس کے مرنے سے اوبامہ اور ڈیوڈ کیمرون کے دل پسیج جاتی۔ صہیونی حکومت کے جنگی جرائم پر عالمی برادری کی معنی خیز خاموشی، دنیا کی تلخ حقیقت کی ایک ہولناک تصویر ہی۔ امریکہ، برطانیہ اور دیگر یورپی ممالک کی نام نہاد مہذب حکومتیں پوری طرح سے ایکسپوز ہوگئی ہیں کہ انہوں نے مسلمانوں کے خون کو حلال قرار دے دیا ہے اور وہ ان کو صفحہ ہستی سے مٹانا چاہتی ہیں۔

Shahid Mehmood

Shahid Mehmood

تحریر: محمد شاہد محمود