fbpx

کورونا وائرس لاک ڈاؤن کے بعد پہلی ’ماحولیاتی ہڑتال‘، تبصرہ

Strike

Strike

رواں برس عالمی وبا کی وجہ سے ماحولیاتی ہڑتال کا جو سلسلہ رک گیا تھا، وہ آج دوبارہ سے شروع ہو رہا ہے۔ ڈی ڈبلیو کی تمسین والکر کا تبصرہ۔

میں ایک دکان کے سامنے سے گزر رہا تھا جب مجھے ایک نوجوان لڑکی کی تصویر دکھائی دی۔ جس کے چہرے پر ایک غیریقنی سے عبارت ادھوری مسکراہٹ تھی۔ ساتھ ہی لکھا تھا، ”مستقبل روشن ہے‘‘۔ یہ ایک بڑا دعویٰ ہے۔ اس لڑکی کے چہرے ہی کو دیکھا جائے، تو خاموشی ایک بالکل مختلف سرگوشی کرتی ہے۔

یوں لگتا ہے، جیسے یہ لڑکی جانتی تھی کہ وہ ایک نادرست بات کا پوز دے رہی ہے۔ اس روشن مستقبل کے بالکل برخلاف دنیا بھر میں ماحولیاتی وجوہ کی بنا پر جنگلاتی آگ، درجہ حرارت میں اضافہ اور قطبین پر تیزی سے پگھلتی برف نظر آر ہی ہے۔ جب کہ فاسل فیول اور ہائیڈروکاربن کا استعمال اب بھی اس طرح جاری ہے، جیسے اس سے بہتر کچھ ممکن نہیں۔ اس سے مستقبل میں خشک سالی، سیلاب، سمندری طوفان اور جانے کیا کیا ہمارا منتظر ہے، جب کہ سیاست دانن موجودہ راہ ترک کرتے نظر نہیں آتے۔

یہ وہ حقیقیتیں ہیں یا ایک مکمل تباہی سے یہ وہ لاتعلقی ہے، جنہیں آج کی ماحولیاتی ہڑتال کا مرکزی موضوع بنایا جا رہا ہے۔ بین الاقوامی ماحولیاتی تحریک ‘فرائیڈیز فار فیوچر‘ (FFF) اس ہڑتال کی منتظم ہے۔ یہ تنظیم ایک عرصے سے ان ہڑتالوں اور مظاہروں کے ذریعے ماحولیات کے موضوع پر توجہ مبذول کروانے کی کوشش میں ہے۔ نوجوانوں کی یہ تنظیم زور دے دے کر کہہ رہی ہے کہ ہمارے پاس فقط ایک سیارہ ہے۔

دو برس سے زائد عرصہ قبل سویڈش پارلیمان کے ساتھ اپنی پہلی ہڑتال میں فرائیڈیز فار فیوچر کی بانی گریٹا تھونبرگ نے اس موضوع کی اہمیت پر زور دیا تھا۔ اس کے ایک ہی برس بعد اسکول کی اس لڑکی کی یہ تحریک دنیاکے ایک سو پچاس ملکوں میں پھیل گئی اور ماحولیاتی اقدامات کا مطالبہ کرنے والوں کی تعداد ساٹھ لاکھ سے بھی تجاوز کر گئی۔

اس دوران تاہم سائبریا، آسٹریلیا اور امریکا میں غیرمعمولی درجہء حرارت ریکارڈ کیے گئے، جب کہ عالمی سطح پر بھی درجہ حرارت میں ریکارڈ اضافہ دیکھا گیا۔ اسی طرح گلیشیئرز بدستور پگھلتے رہے اور افریقہ کو سمندری طوفانوں کی تباہی کا سامنا رہا۔ یورپ میں خشک سالی کی وجہ سے زراعت کا شعبہ شدید متاثر ہوا، اسی طرح ایمازون کے خطے میں جنگلات کی کٹائی جاری ہے جب کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے الاسکا سے متصل آرکٹک خطے میں تیل اور گیس نکالنے کی اجازت دے دی، ادھر جرمنی بھی کوئلے سے بجلی کی تیاری پر انحصار سن 2038 تک ختم کرتا نظر نہیں آتا۔

وبا کے دنوں گو کہ یہ مظاہرے فقط آن لائن ہو پائے، تاہم فرائیڈیز فار فیوچر تحریک مسلسل عالمی رہنماؤں کو ماحولیاتی تبدیلیوں کے انسداد کے لیے ٹھوس اقدامات اٹھانے کے حوالے سے دباؤ میں مصروف رہی ہے۔