fbpx

کورونا وائرس اور بھارتی عوام کی چالاکیاں، حکومت پریشان

Indian People

Indian People

دہلی (اصل میڈیا ڈیسک) بھارت میں کورونا وائرس کے کیسز میں اضافہ ہو رہا ہے۔ حکام کے مطابق انفیکشن پر قابو پانے میں بڑی رکاوٹ، لوگوں میں اسکریننگ اور قرنطینہ کی سرکاری کوششوں پر عدم اعتماد ہے۔

اطلاعات کے مطابق، کئی مسافروں نے خود کو ایئرپورٹ پر حکام کی اسکریننگ سے بچانے کے لیے لینڈنگ سے ایک گھنٹہ پہلے پیراسیٹامال یا دوسری دوائیں کھالیں تاکہ اگر انہیں بخار ہو تو بھی انہيں پکڑا نہ جائے۔ ایسے واقعات بھی رپورٹ ہوئے کہ جن لوگوں کو بخار یا دیگر علامات کی وجہ سےحکام نے قرنطینہ میں رکھا ان میں سے کئی لوگ اپنے ٹیسٹ کے نتائج کا انتظار کیے بغیر ہسپتالوں سے فرار ہوگئے۔

مشتبہ مریضوں کی طرف سے قرنطینہ توڑنے کے متعدد واقعات کے بعد بعض بھارتی ریاستوں میں حکام نے ان کا سراغ لگانے کی کوششیں کیں اور ان کی نقل و حرکت کاپتہ لگانے کے ليے سیسی ٹی وی فوٹیج، موبائل فون ریکارڈ اور جی پی ایس ٹکنالوجی تک کا استعمال کیا۔ مغربی ریاست مہاراشٹرا میں کورونا کے کیسز تیزی سے بڑھنے لگے تو حکام نے بیرون ملک سے آنے والے مسافروں کے ہاتھوں پر مستقل سیاہی کے ساتھ “گھریلو قرنطینہ” کے الفاظ، اس کی مدت اورتاریخ کے ساتھ اسٹیمپ کرنا شروع کردیے۔

ریاست کے وزیر صحت راجیش ٹوپی نے ایک بیان میں کہا اب اگر یہ لوگ گھر سے باہر جاتے ہیں، تو دوسرے لوگوں کو پتہ لگ سکے گا کہ انہیں دراصل گھر پر رہنا چاہیے۔ ممبئی میں کورونا کی وجہ سے بڑے بڑے ہوٹلوں کا کاروبار متاثر ہوا ہے۔ ایسے میں حکام ان کے کمروں کو قرنطینہ کے لیے مختص کررہے ہیں، تاکہ اگر پیسے والے مریض وہاں کرایہ دے کر قیام کرنا چاہیں تو ان کے پاس یہ سہولت ہو۔

لیکن ایسے میں وہ لوگ کہاں جائیں جن کے پاس اتنا پیسہ نہیں اور انہیں سرکاری نظام پر اعتبار نہیں؟ ماہرین کا کہنا ہے کہ حکومت کو لوگوں کو صحت کی صاف ستھری سہولیات دے کر ان کا اعتماد بحال کرنا ہوگا۔ نئی دہلی میں واقع پبلک ہیلتھ فاؤنڈیشن آف انڈیا سے وابستہ گیری داھر بابو کے مطابق، ”مسئلہ یہ ہے کہ لوگوں میں قرنطینہ کے سرکاری مرکز کے حوالے سے خوف اور عدم اعتماد پایا جاتا ہے۔”

ان کے مطابق ان مراکز میں صفائی ستھرائی نہیں ہوتی اور لوگوں کو کچھ پتہ نہیں ہوتا وہاں کے حالات کیا ہوں گے۔ “وہ اس بارے میں فکر مند ہیں کہ وہاں ان کے رشتہ داروں کے ساتھ کیا سلوک ہوگا۔” ان کے مطابق اس لیے ضروری ہے کہ حکام لوگوں کو سمجھائیں کہ اگر وہ قرنطینہ نہیں جاتے یا وہاں سے نکل جاتے ہیں تو وہ نہ صرف اپنے لیے بلکہ اپنے پیاروں کے لیے بھی چلتا پھرتا خطرہ بن جاتے ہیں۔