ایک پلیٹ بریانی

Tragedy Model Town

Tragedy Model Town

تحریر : روہیل اکبر

ملک میں ایک نہیں دو نہیں تین بھی نہیں بلکہ درجن بھر سے بھی زائد قوانین موجود ہیں جنکا اطلاق غریب پر اور امیر پر اور اور حکمران طبقہ پر اور طرح سے ہوتا ہے اور رہی سہی کسر ہمارے ان ورکروں نے پوری کررکھی ہے جو ایک پلیٹ بریانی کی خاطر اپنا سارا دن ضائع کردیتے ہیں اگر نہیں یقین تو آپ ماڈل ٹاؤن کا واقعہ دیکھ لیں جب نیب حمزہ شہبازکو گرفتار کرنے جاتی ہے تو ن لیگی جیالے ڈھال بن کر کھڑے ہو جاتے ہیں شریفوں کے وکیل چھٹی والے دن حفاظتی ضمانت کے لیے ہائیکورٹ پہنچ جاتے ہیں اور پھر سب نے دیکھا کہ اسی دن درخواست دی جاتی ہے اسی روز سماعت ہوتی ہے اور پھر منی لانڈرنگ کے زریعے غریب عوام کا خون نچوڑنے والوں کو حفاظتی ضمانت مل جاتی ہے نیب اہلکار واپس روانہ ہوتے ہیں تو ساتھ ہی ن لیگ کے شیروں کو بریانی پیش کردی جاتی ہے یہ وہ طبقہ ہے جنہوں نے عوام کو بھیڑ بکریاں بنائے رکھا ملکی دولت پر خوب ہاتھ صاف کیا اور جب احتساب شروع ہونے لگا تو قانون کو بھی آنکھیں دکھا کر اپنے دروازے سے واپس موڑ دیا۔

پاکپتن میں ایک غریب محنت کش نے کسی کی جیب پر ڈاکہ ڈالے بغیر اپنی خواہشوں کا گلا گھونٹ کر اپنی تخلیقی صلاحیتوں کو آزماتے ہوئے جہاز بنا ڈالا اور جب آڑانے کے لیے سڑک پر لایا تو وہاں کی پولیس نے ایسے ہلہ بولا جیسے کسی ڈاکو کو پکڑ لیا دن رات مزدوری کے بعد بننے والے جہاز کو جب پولیس نے روایتی انداز میں ٹریکٹر ٹرالی پر پھینکاتووہ پرزے پرزے ہوگیا اس وقت فیاض کی آنکھوں میں آنسو آگئے اور پولیس اپنے اس کارنامہ پر فخر کرتی ہوئے جہاز اور اسکے بنانے والے فیاض کو تھانہ میں لے گئی پولیس کا یہ رویہ آج سے نہیں ہے بلکہ شروع دن سے ہے اور اس رویہ کا بنانے میں ہمارے سیاستدانوں کی کئی برسوں کی محنت ہے شامل ہے جنہوں نے اپنے اپنے دور اقتدار میں اپنے جیالوں اور متوالوں کو بغیر کسی میرٹ کے پولیس سمیت مختلف اداروں میں بھرتی کیا میاں نواز شریف ،میاں شہباز شریف ،بھٹو خاندان اور چوہدری برادران کے بھرتی کیے ہوئے افراد آج اہم عہدوں پر براجمان ہیں یہی وجہ ہے کہ غریب اور محنت کش اپنے اوپر ہونے والے مظالم کا حساب لینے جب ان اداروں میں جاتا ہے تو وہاں کاغذی کاروائیوں میں اس طرح الجھا دیا جاتا ہے کہ اس کی زندگی تک فیصلہ نہیں ہوپاتا بعض افراد کو سزائے موت کے بعد باعزت بری کیا گیا اور بعض کے ابھی تک فیصلے نہیں ہوپائے ہماری پولیس کے اندر احساس اور ندامت نام کی کوئی چیز نہیں کیونکہ بھرتی ہونے سے پہلے بھی وہ سیاسی طور پر حکمرانوں کے غلام تھے اور پھر بعد میں اپنی ترقی کے لالچ میں حکمرانوں کے تلوے چاٹتے رہے یہ ملازمین کبھی بھی آئین ،قانون ،ملک ،قوم سے وفادار نہیں رہے۔

انہوں نے ہمیشہ اپنے ان مالکان کے ساتھ وفا کی جنہوں نے انہیں پارٹی ٹکٹ دیکر اسمبلیوں میں پہنچایا یا کسی نہ کسی جگہ نوکری لگوائی ہماری پولیس کے جوان صرف انہیں پکڑنے میں پھرتی دکھاتے ہیں جن سے کچھ نظر نیاز ملنے کی توقع ہو یا جسکے کے آگے پیچھے کوئی نہ ہو غریب کے گھر میں گھس کر عورتوں کے کپڑے پھاڑنا مردوں کو ننگا کرکے مارنا پولیس کا محبوب مشغلہ ہے مگر قومی دولت لوٹنے والوں کی حفاطت اپنی جان سے بڑھ کرکروانا ان میں موجود کالی بھیڑوں کا محبوب مشغلہ ہے ہمارے تھانوں کی حوالاتیں پولیس ملازمین کے نجی ٹارچر سیل اور ہماری جیلیں چیخ چیخ کر کہہ رہی ہیں کہ ہمارے اندر موجود بے گناہوں کا کیا قصور ہے جوتی چور ،مرغی چور ،لوٹا چوراورسائیکل چورکا جرم تو ان منی لانڈرنگ کرنے والوں سے بڑا تو نہیں ہے جو کئی کئی برس سے جیل کی ہوا کھا رہے ہیں کیاان کے لیے بھی کسی عدالت کے دروازے چھٹی والے دن نہ سہی کسی کام والے دن ہی کھل جائیں اور وہ بھی اپنی زندگی آزاد شہری کے طور پر گذار سکیں مگر ہمارے حکمرانوں نے جو کلچر بنا دیا ہے اس میں غریب ،محنت کش اور مزدورایڑی سے چوٹی تک غربت کی دلدل میں دھنسا ہوا ہے جبکہ کروڑوں اور اربوں روپے لوٹنے والے خوشحالی کی زندگی بسر رہے ہیں پاکستان کے امیر ترین افراد کی ہسٹری دیکھ لیں ان کو بھی چھوڑیں بہت مشکل کام ہے آپ صرف پراپرٹی کنگ ملک ریاض کو پڑھ لیں اگر پڑھنے کا وقت نہیں تو اسکا وہ تاریخی انٹرویو سن لیں کہ کیسے ملک میں امیر ہوا جاتا ہے اچھا چلیں چھوڑیں پرانا انٹرویو ہے کہاں ڈھونتے پھروگے چند دن پہلے ہمارے ایک معروف گلوکار اور برابری پارٹی کے چیئرمین جواد احمد نے اپنے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ پاکستان میں چور بازار سے امیر ہونے والے لوگوں کے پا س ہی پیسہ ہے باقی سب رزق حلال کے چکر میں صبح سے لیکر شام تک خوار ہورہے ہیں۔

انکی روٹی پوری ہوتی ہے نہ ہی انکے بچوں کی فیسیں جبکہ ملک اور قوم کے مال پر ہاتھ صاف کرنے والے خود بھی پر سکون زندگی گذار رہے ہیں اور انکے بچے بھی بیرون ملک بیٹھ کر غریب پاکستانیوں کی بے بسی پر ہنس رہے ہیں غریب عوام کا خون چوسنے والے انہی لٹیروں نے قانون کو بھی اپنا غلام بنا رکھا ہے جنکے ہوتے ہوئے غلام کی مجال اور جرات نہیں کہ وہ اپنے آقا کی طرف آنکھ اٹھا کردیکھ بھی لے مگر عمران خان کے دور میں یہ تو ہوا کہ نیب کسی بڑے کو پکڑنے پہنچ گئی وہ الگ بات ہے کہ عدلیہ نے چھٹی والے دن ان کی حفاظتی ضمانت لے لی ورنہ لاکھوں ڈالر کی غیر قانونی سمگلنگ میں مبینہ طور پر ملوث پائے جانے والے حمزہ شہباز کانیب دفتر پہنچتے ہی سارا پول کھل جانا تھا اس موقعہ پر وزیر اطلاعات فواد چوہدری کا دبنگ بیان بھی سامنے آگیا کہ پیسے واپس کردیں یا پھر جیل جائیں میں فواد چوہدری کے اس بیان پر پوری طرح متفق ہوں کہ جنہوں نے بھی ملکی دولت لوٹی ہے ان سے پیسے واپس لیے جائیں تاکہ غریب ورکر جو ایک بریانی کی پلیٹ کی خاطرعمر بھر جیالے اور متوالے بنے رہتے ہیں انکے گھر میں بھی خوشحالی آئے صرف ایک پلیٹ نہیں بلکہ پوری دیگ وہ خود بنوائیں کھائیں اور انکی حکمرانوں کے غلام بن کردنیا سے رخصت ہوجانے سے جان چھوٹے جو خود تو ساری عمر ایک سیاسی ورکر کے طور پر نعرے لگاتے رہے مگر انکے بچے اس کلچر سے باہر آسکیں اس لیے اگر ہم اپنے لیے ،اپنے خاندان اور ملک کے لیے خوشحالی چاہتے ہیں تو پھر ہمیں ان لٹیرے سیاستدانوں کی ڈھال بننے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔

Rohail Akbar

Rohail Akbar

تحریر : روہیل اکبر

03004821200