یورپ: بم کی سازش میں ایرانی سفارت کار کے خلاف عدالتی فیصلہ

Protest

Protest

بیلجیئم (اصل میڈیا ڈیسک) بیلجیئم کی ایک عدالت ایک ایرانی سفارت کار کو پیرس میں ایک جلاوطن اپوزیشن گروپ کی میٹنگ میں بم دھماکے کی منصوبہ بندی کے الزام میں جمعرات کو سزا سنائے گی۔

ایران میں سن 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد سے یورپی یونین کی جانب سے دہشت گردی کے الزام میں کسی ایرانی عہدیدار کو سزا دینے کا یہ پہلا معاملہ ہے۔

بیلجیئم میں اینٹورپ کی عدالت نے گزشتہ برس سماعت مکمل کرلی تھی اور جمعرات کے روز یہ فیصلہ سنائے گی کہ آیا ویانا میں مقیم ایرانی سفارت کار اسد اللہ اسعدی اور تین دیگر افراد پیرس کے نزدیک جون 2018 میں ایرانی جلا وطن گروپ ‘نیشنل کونسل آف ریزیسٹینس آف ایران’ (این سی آر آئی) کی ایک ریلی میں مبینہ بم دھماکے کا منصوبہ بنانے کے لیے ممکنہ طورپر پر دہشت گردی کے قصور وار ہیں یا نہیں؟ جرمن، فرانس اور بیلجیم کی پولیس نے اس منصوبے کو نا کام بنا دیا تھا۔

ایک یورپی ملک کی عدالت کی طرف سے یہ فیصلہ ایسے وقت آنے والا ہے جب ایران کے ساتھ مغربی ملکوں کے تعلقات انتہائی حساس موڑ پر ہیں۔ نئے امریکی صدر جو بائیڈن اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ ایران پر عائد ان پابندیوں کو ختم کیا جائے یا نہیں جنہیں ان کے پیشرو ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ عالمی طاقتوں کے تاریخی جوہری معاہدے سے امریکا کو الگ کر لینے کے بعد نافذ کر دیے تھے۔

بیلجیئم کے وکلائے استغاثہ اسعدی کے لیے زیادہ سے زیادہ بیس برس قید کی سزا پر زور دے رہے ہیں۔ اسعدی نے عدالت میں حاضر ہونے سے انکار کر دیا تھا اور ان الزامات پر بھی کوئی تبصرہ نہیں کیا کہ وہ تہران کے حکم پر کام کر رہے تھے۔

خبر رساں ایجنسی روئٹرز کے مطابق تفتیش کاروں کا کہنا ہے کہ اسعدی ایران سے ایک کمرشیئل فلائٹ کے ذریعہ دھماکہ خیز مادہ لے کر آسٹریا آئے تھے۔ جسے مبینہ طور پر منصوبے کے مطابق ایرانی جلا وطن گروپ کی ریلی میں دھماکے کے طور پر استعمال کرنا تھا۔

این سی آر آئی میں شامل ایران کی پیپلز مجاہدین آرگنائزیشن کے پیرس میں مقیم ترجمان شاہین غبادی کا کہنا تھا”اس دہشت گردانہ منصوبے میں ایرانی حکومت کی اعلی قیادت کی شمولیت کے حوالے سے خاطر خواہ شواہد موجود ہیں۔”

ایرانی وزارت خارجہ کے ایک ترجمان نے نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی ایرانی اسٹوڈنٹس نیوز ایجنسی کو 24 جنوری کو بتا یا تھا کہ اسعدی کو سفارت کار کی حیثیت سے حاصل سفارتی استشنی کی خلاف ورزی کی گئی ہے اور وہ مغربی سازش کا شکار بن گئے ہیں۔

جرمنی میں حکام، جنہوں نے وہاں چھٹیاں منانے کے دوران اسعدی کو گرفتار کیا تھا، کا کہنا ہے کہ اسعدی کو ویانا میں ایرانی سفارت خانے میں تھرڈ قونصلر کی طور پر حاصل سفارتی استشنی کا اطلاق آسٹریا سے باہر نہیں ہوتا اور انہیں حوالگی کے ذریعہ بیلجیئم لایا گیا جہاں ایک عدالت نے انہیں حراست میں لینے کا حکم دیا تھا۔

استغاثہ کا کہنا ہے کہ اسعدی کے دو مشتبہ ساتھیوں کو دھماکہ خیز مادے اور ڈیٹونیٹر کے ساتھ بیلجیئم میں گرفتار کیا گیا تھا۔

ایران ان الزامات کو مسترد کرتا ہے۔ تہران این سی آر آئی کو دہشت گرد گروپ قرار دیتا ہے اور اس کا کہنا ہے کہ این سی آر آئی کی طرف سے حملے کے الزامات ‘جھوٹے دعوی‘ کے سوا کچھ بھی نہیں۔

تہران کے جوہری پروگرام پر روک لگانے کے لیے ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان معاہدے کے بعد سے یورپی یونین تہران کے ساتھ قریبی سفارتی اور اقتصادی تعلقات قائم کرنے کا خواہاں ہے تاہم یونین نے واضح کر دیا ہے کہ وہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں یا دہشت گردی کے سلسلے میں آنکھ موند نہیں سکتا۔

یورپی یونین خارجہ پالیسی کے سربراہ جوسیپ بوریل سے جب پوچھا گیا کہ کیا عدالت کے فیصلے کا ایران کے ساتھ تعلقات پر کوئی اثر پڑے گا تو انہوں نے کوئی جواب دینے سے منع کر دیا۔

یورپی ممالک ایران پر اپنے مخالفین کے خلاف کارروائی کے الزامات عائد کرتے رہے ہیں۔ ان میں نیدر لینڈ میں سن 2015 اور سن 2017 میں دو افراد کی ہلاکتوں اور ڈنمارک میں قتل کی ایک ناکام کوشش شامل ہے۔ ایران ان الزامات کی تردید کرتا ہے۔