دھند ،ٹریفک حادثات اور احتیاطی تدابیر !

Fog

Fog

تحریر:اختر سردار چودھری ،کسووال
یوں تو پورا پاکستان دھند کی لپیٹ میں ہے۔ دو ہفتے ہو گئے پنجاب اور خیبر پختوخوا میں شدید دھند کا راج ہے ۔اس دوران قومی شاہراوں پر ٹریفک حادثات میں اضافہ ہوا ہے ہر روز اخبارات میں پڑھتے ہیں آج دھند کے باعث ،ٹریفک حادثات میں اتنے افراد جا ں بحق ہو گئے ۔ قومی شاہرائیں بند کر دی گئیں۔ملکی اور بین الاقوامی پروازوں کا شیڈول بری طرح متاثر ہوا ہے ۔جن سے مسافروں کو بے پناہ پریشانی کا سامنا ہے ۔ بلکہ کہنا چاہیے کہ رل گئے ہیں ۔کیونکہ دھند کی وجہ سے ائر پورٹس بند کر دیئے جاتے ہیں۔

ٹرینیں تاخیر کا شکار ہو رہی ہیں ۔ دھند کے باعث حد نگاہ صفر ہونے سے ملک بھر میں ٹریفک کا نظام درہم برہم ہے ۔صوبہ بنجاب خاص کر جنوبی پنجاب میں دھند کا شدید راج ہے ۔اب تک اس دھند کے ہاتھوں درجنوں افراد جان کی بازی ہار گئے ہیں۔اب تک کی اخباری اطلاعات کے مطابق سینکڑوں زخمی ہو چکے ہیں محکمہ موسمیات کے مطابق آئندہ چند روز میں بارش کے ہونے کا امکان نہیں ہے ۔ یعنی سردی اور دھند ابھی اور رہے گی۔ عام طور پر دن کے وقت حد نگاہ 10 میٹر تک ہوتی ہے اور رات کو خاص کر آدھی رات کے بعد سے دن کے 10 گیارہ بجے تک حد نگاہ صفر ہو جاتی ہے جس وجہ سے ٹریفک حادثات میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے ۔ان حادثات سے بچا جا سکتا ہے یا ان حادثات میں نمایا ںکمی ہو سکتی ہے۔

ا س کے لیے چند احتیاطی تدابیر پر عمل کرنے سے ان میں سے سب سے اہم تیز رفتاری ہے ۔انسا ن جلد باز ہے اس میں تو اللہ سبحان تعالی نے قرآن پاک میں واضح طور پر فرمایا ہے ۔عام طور پر دیکھا گیا ہے کہ ڈرائیور گاڑ ٰ ی کو چلانا نہیں اڑانا چاہتے ہیں ان کو اس سے کوئی غرض نہیں ہوتی کہ ان کی بے احتیاطی سے کتنی جانیں جان سے گزر جائیں گی ۔اس لیے اگر ڈرائیور دھند میں گاڑی کو آہستہ چلائیں بہت آہستہ تو کافی حد تک حادثات سے بچا جا سکتا ہے دوسری چیز ہے لائٹ کا استعمال ڈرائیونگ کے دورن گاڑی کی چاروں لائٹس خاص کر فوگ لائٹ کا لازمی استعمال کریں ۔کیونکہ آپ آہستہ چلا رہے ہیں اس لیے کوئی دوسری گاڑی پیچھے سے آ کر آپ سے ٹکرا کر حادثے کا سبب نا بن جائے ۔دھند میں سڑک پر آنے والے موڑ نظر نہ آ نے سے گاڑی الٹ سکتی ہے رفتار آہتہ ہونے سے موڑ دیکھا جا سکتا ہے۔

اس سنہری قول پر عمل کریں کہ کبھی منزل پر نہ پہنچنے سے بہتر ہے دیر سے پہنچ جائیں۔اس بات کو اچھی طرح سمجھ لیں کہ بہادری ،احتیاط ،بزدلی ،بے وقوفی اور بے خوفی میں فرق ہوتا ہے ۔ایک دفعہ میں اپنے دوست سے ملنے ان کے گھر گیا ہم باہر گلی میں کھڑے تھے میرے دوست کا پندرہ سالہ بیٹا چھت پر منڈیر پر بڑی بے خوفی سے چل رہا تھا باپ میرے ساتھ باتیں کرنے کے ساتھ ساتھ بار بار اپنے بیٹے کو دیکھ رہا تھا اس کے ہر قدم کے ساتھ باپ کا دل دھڑک جاتا میں نے اس کے بیٹے کی تعریف کی کہا بہت بہادر ہے آپ کا بیٹا تو میرے دوست نے جو بات کی میں واپس گھر تک اسے سوچتا رہا اس نے کہا یہ بہادری نہیں بے وقوفی ہے ۔گاڑی تیز چلانا بہادری نہیں اور وہ بھی اتنی دھند میں بے وقوفی ہے۔ لیکن ہماری ہاں بے وقوفی کو بہادری خیال کیا جاتا ہے ۔اسی وجہ سے اتنے حادثات ہوتے ہیں۔

Traffic Rules

Traffic Rules

ٹریفک حادثات سے بچنے کے لیے ٹریفک قوانین کے بارے میں جاننا ضروری ہے۔ موٹر وے پولیس کے ترجمان کا کہنا ہے کہ اشد ضرورت کے علاوہ سفر نہ کریں ۔اور جی ٹی روڈ پر سفر کرنے کو ترجیح دیں اسی طرح شہری سفر سے پہلے موٹر وے پولیس کی ہیلپ لائین 130 پر رابطہ کر کے موسم کی صورت حال کے بارے میں معلومات حاصل کریں ۔اسی طرح موٹر سائیکل سوار ہیلمٹ کا لازمی استعمال کریں۔ تاکہ حادثے کی صورت میں زیادہ نقصان سے بچا جا سکے ۔سفر تو کرنا ہی پڑتا ہے پاپی پیٹ جو پالنا ہوتا ہے ۔ کاروباری سلسلے کی وجہ سے ،کوئی خاندان میں فوتگی ہو جائے یا کسی میٹنگ ،شادی میں جانا ہو ،بارش ہو دھند ہو ،گرمی ہو یا سردی ہو سفر تو کرنا پڑتا ہے ۔صبح کے وقت کام پر بھی جانا ہوتا ہے زیادہ مشکل کا سامنا غربا کو کرنا پڑتا ہے۔

برق جب بھی گرتی ہے بیچارے غریبوں پر اس لیے تو سپریم کورٹ کے جج نے بھی فیصلہ سنایا تھا کہ پاکستان میں غریب ہونا سب سے بڑا جرم ہے ۔بعض افراد کی تو موجیں خاص کر ان کی جو سرکاری نوکری کر رہے ہیں ۔دیر سے آفس جانا اور جلدی آنا اچھی بات ہو کہ نا ہو مگر ایسا ہی ہوتا ہے مشکل تو ان کے لیے ہے جو غریب ہیں ،دہاڑی دار ہیں ،ان کے لیے تو مشکل بڑھ گئی ہے ان کو وقت پر جانا ہوتا ہے ،ڈیوٹی پر نا جائیں لیٹ ہو جائیں تو چھٹی ہو جاتی ہے ، اور بے روز گاری اتنی ہے کہ ایک کی جگہ پر دس نوکر ملتے ہیں بقول شاعر ایک ڈھونڈو ہزار ملتے ہیں ۔بات ہو رہی تھی کہ سفر تو کرنا پڑتا ہے لیکن اتنی دھند میں
سفر صرف اشد ضرورت کے تحت ہی کریں ۔سفر سے پہلے سفر کی دعا لازمی پڑھیں۔

دوران سفر ذکر و اذکار کرتے رہیں رسول اکرم ۖ نے فرمایا ہے کہ مسافر کی دعا رد نہیں کی جاتی اس لیے دوران سفر اللہ کی حمد کے ساتھ ساتھ تمام مسافروں کے لیے دعا کریں ۔خاص کر اپنے ڈرائیور کے لیے کہ اسے گاڑی احتیاط سے چلانے کی توفیق ہو ۔اس کے علاوہ موسم کو مدنظر رکھ کر سفر کریں ،دن کے وقت سفر کرنے کی کوشش کریں ۔اوپر درج احتیاطی تدابیر پر عمل کریں ۔دعا ہے کہ اللہ تعالی تمام مسافروں کو اپنی حفظ آمان میں رکھے۔

Akhtar Sardar Chaudhry

Akhtar Sardar Chaudhry

تحریر:اختر سردار چودھری ،کسووال