الوداع افتخار چوہدری

Iftikhar Mohammad Chaudhry

Iftikhar Mohammad Chaudhry

بطور چیف جسٹس اپنے دور میں نہ صرف ایک آمر کو للکارنے والے بلکہ اپنے دور میں بلا خوف و خطر فیصلے دینے والے چیف جسٹس افتخار چوہدری 8 سال 5ماہ اور 11 دن چیف جسٹس رہنے کے بعد مدت ملازمت پوری ہونے کے بعد ریٹائرڈ ہو گئے۔ افتخار محمد چودھری 12 دسمبر 1948 کو بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں پیدا ہوئے۔

ان کا آبائی شہر فیصل آباد کاایک گائوں تھا ، ان کے والد چودھری جان محمد 1947 ہی میں اپنے خاندان کو لے کر فیصل آباد منتقل ہو گئے تھے؛ چودھری جان محمد صاحب ایک پولیس کانسٹیبل تھے۔ افتخار محمد چودھری 2000 میں عدالت عظمیٰ کا جج بننے سے قبل سارا وقت بلوچستان ہی میں رہے، ان کے تین بھائی ہیں، جو بیرون ملک مقیم ہیں، یہ بھائیوں میں دوسرے نمبر پر ہیں، دو بیٹے ارسلان اور احمد بالاچ ہیں، تین صاحب زادیاں عائشہ، اِفراء اور پلوشہ ہیں۔افتخار محمد چوہدری نے جامعہ سندھ (جام شورو) سے آرٹس میں بیچلر اور ایل ایل بی کیا، 1974 میں بار میں شامل ہوئے، 1976 میں عدالت عالیہ کے ایڈووکیٹ ہوئے اور 1985 میں سپریم کورٹ کے وکیل بنے۔ 1989 میں انہیں اس وقت کے وزیراعلیٰ نواب اکبر بگٹی نے اٹارنی جنرل بلوچستان مقرر کیا، 6 نومبر 1990 کو بلوچستان ہائی کورٹ کے ایڈیشنل جج بنے، اس عہدے پر 21 اپریل 1999 تک فائز رہے۔ 22 اپریل کو اسی عدالت کے چیف جسٹس تعینات ہوئے، اس کے ساتھ ہی بینکنگ جج، جج سپیشل کورٹ فار سپیڈی ٹرائلز، جج کسٹمز اپیلیٹ کورٹس اور کمپنی جج کے طور پر بھی فرائض انجام دیتے رہے۔

اس کے علاوہ ہائی کورٹ بار ایسوسی ایشن کوئٹہ کے صدر بھی رہے۔ دو بار کونسل کے رکن بھی منتخب ہوئے۔ 1992 اور 1998 میں چیئرمین بلوچستان لوکل کونسل الیکشن اتھارٹی کے طور پر فائز رہے، ریویو بورڈ بلوچستان کے مسند نشیں بھی رہے اور دو بار پاکستان ہلال احمر سوسائٹی بلوچستان کے چیئرمین بھی رہے۔4 فروری 2000 کو افتخار چوہدری سپریم کورٹ کے اب تک کے کم عمر ترین جسٹس نام زد ہوئے، اسی لیے انہیں پاک عدلیہ کی تاریخ میں بہ طور چیف جسٹس خدمت کا سب سے طویل ترین عرصہ میسر آیا۔ 30 جون 2005 کو سپریم کورٹ آف پاکستان کے چیف جسٹس بنے، اس کے ساتھ ہی وہ چیئرمین پاکستان بار کونسل کی انرولمنٹ کمیٹی اور سپریم کورٹ بلڈنگ کمیٹی کے چیئرمین کے طور پر خدمات انجام دیتے رہے۔

سوموٹو ایکشن لینے کے حوالے سے مشہور سابق چیف جسٹس کے دلیرانہ فیصلوں کی وجہ سے پاکستان سمیت دنیا بھر کے میڈیا میں مقبولیت کے ریکارڈ قائم کئے۔ دیگر ممالک کے عدالتی فیصلوں سے آگاہی کے باعث دیگر ججز میں ممتاز مقام رکھتے ہیں۔ انہیں امریکہ سے جاری ہونیوالے دی نیشنل لاء جرنل نے چیف جسٹس کو لائر آف دا ائر 2007ء کے ایوارڈ سے نوازا۔ دی نوا سائوتھ ایسٹرن یونیورسٹی نے انہیں ڈاکٹر آف لاء کی اعزازی ڈگری دی۔ دی ایسوسی ایشن آف دی بار آف سٹی آف نیویارک نے انہیں عدلیہ اور وکلاء کی آزادی کا نشان قرار دیتے ہوئے ایسوسی ایشن کی اعزازی ممبر شپ سے نوازا۔ عدلیہ کی آزادی میں ثابت قدم رہنے پر ہارورڈ لاء سکول نے میڈل آف فریڈم دیا۔ افتخار محمد چودھری پہلے پاکستانی اور تیسرے شخص ہیں جنہیں میڈل آف فریڈم سے نوازا گیا۔ افتخار محمد چودھری سے پہلے یہ ایوارڈ نیلسن منڈیلا اور چارلس یملٹن ہاسٹن کو دیا گیا ہے۔ برطانیہ کی سپریم کورٹ کے صدر لارڈ فلپس نے انٹرنیشنل جسٹس ایوارڈ 2012ء پیش کیا۔ جسٹس افتخار کو انٹرنیشنل جسٹس ایوارڈ انٹرنیشنل جیورسٹ کونسل کی جانب سے پاکستان میں تمام تر مشکلات کے باوجود عدلیہ کی سربلندی قائم رکھنے پر پیش کیا گیا۔

Pervez-Musharraf

Pervez-Musharraf

بھارتی تنظیم پیٹا نے انہیں پاکستان کے صوبہ پنجاب میں مہلک پتنگ کے مانجھے پر پابندی لگانے پر ہیرو ٹو اینیمل ایوارڈ سے نوازا گیا۔ سابق آمر پرویز مشرف نے انہیں معزول کیا مگر ملکی عدالتی تاریخ میں یہ پہلا موقع تھا جب کسی چیف جسٹس نے آمر کی بات ماننے سے نہ صرف انکار کیا بلکہ ایسی تحریک چلائی جس کے نتیجے میں وہ پورے وقار کے ساتھ بحال ہوئے۔ یہیں سے پاکستان میں عدالت کی ایک نئی تاریخ شروع ہوتی ہے۔ چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری اپنے فیصلوں کی صورت میں جہاں حکمرانی کرتے رہے وہیں انہوں نے بدمست بیوروکریسی کو نکیل بھی ڈالی اور بدعنوان سیاستدانوں اور بیوروکریٹس پرقانون کی گرفت مضبوط کی۔ عدلیہ کی نافرمانی کے جرم میں سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کو گھر بھیجا جبکہ دوسرے وزیراعظم راجا پرویز اشرف تاحال رینٹل پاور اور دیگر کیسز بھگت رہے ہیں۔

چیف جسٹس کو نظربند کرنے پر جنرل (ر) پرویز مشرف کو آج آئین کے آرٹیکل 6 کے تحت غداری کے مقدمے کا سامنا ہے۔ جسٹس افتخار محمد چوہدری نے حکمرانوں کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر تاریخی فیصلے کئے۔ انہوں نے این آر او کو کالعدم قرار دیا۔ ان کے خلاف کئی اسکینڈل بنائے گئے مگر وہ سْرخ رو رہے۔ سوموٹو نوٹس ان کی مدت کا خاصا رہا۔ انہوں نے دو ایسے کیسوں کی بھی سماعت کی جن سے براہ راست ارکان پارلیمنٹ متاثر ہوئے۔ ان میں سے ایک جعلی ڈگری اور دوسرا دہری شہریت کا کیس تھا۔ دہری شہریت کیس میں وزیر داخلہ رحمن ملک اور فرح ناز اصفہانی سمیت کئی ممتاز شخصیات کو نا اہل قرار دیا گیا۔ کئی ارکان پارلیمنٹ کو جعلی ڈگری پر گھر جانا پڑا۔ چیف جسٹس نے این آئی سی ایل، ای او بی آئی اور حج انتظامات میں بدعنوانیوں کا بھی از خود نوٹس لیا۔ شاہ زیب کا قتل ہو یا نہتے سرفراز شاہ کا، انہوں نے ازخود نوٹس لئے۔ حکومت کچھ نہ کر سکی تو بلوچستان میں بد امنی، کراچی میں ٹارگٹ کلنگ اور لاپتا افراد کے معاملے پر بھی چیف جسٹس نے از خود نوٹس لیکر اہم فیصلے دیئے۔

چیف جسٹس نے عوامی مفاد کے کیسوں اور بجلی، گیس، تیل، چینی کی قیمتوں کے خلاف بھی سوموٹو نوٹس لیے اور نئی گائیڈ لائن وضع کی گئیں۔ انہوں نے بارہا ایسے فیصلے دئیے جو پارلیمنٹ کیلئے قانون سازی کا محرک بنے۔ سپر یم کورٹ میں غریبوں کی شنوائی اور داد رسی کے لئے مستقل ہیومن رائٹس سیل قائم کیا۔ سپریم کورٹ کے فل کورٹ اجلاس سے الوداعی خطاب میں سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری نے کہا کہ ماضی میں عدلیہ کو غیر فعال کیا گیا، جدوجہد کے ذریعے عدلیہ کی بحالی ہوئی، ایک عظیم جدو جہدکے نتیجے میں بحال ہونے والی عدلیہ نے بہترانداز میں کام کیا، یقین ہے کہ ان کے بعد کی عدلیہ بھی بہتر انداز میں کام کرے گی، دنیاوی منصب عارضی ہیں، جسٹس تصدق جیلانی میں عدلیہ کومتحد رکھنے کی صلاحیت ہے، بطور چیف جسٹس اپنے فرائض احسن طریقے سے انجام دینگے، اداروں میں تبدیلی نہ ہو تو بہتری کا امکان کم ہو گا، اصل مضبوطی اداروں کی ہونی چاہیے۔

سپریم کورٹ کی باگ ڈورمحفوظ ہاتھوں میں دے کر جا رہا ہوں،افراد آتے اور چلے جاتے ہیں،ادارے کی مضبوطی ہماری اولین ترجیح رہی ہے شکر ہے کہ آج ہم عزت و وقار کے ساتھ اپناسر بلند کر کے چلنے کے قابل ہیں،اپنی ذمے داری اپنے سے زیادہ اہل اورقابل شخص کے سپرد کر رہاہوں،5 سال تمام ساتھی ججزنے انتھک محنت کی،ہم اس دن کامیاب ہوںگے جس روزپاکستان میں امیراور غریب، چھوٹااوربڑا قانون کی نظر میں برابردیکھے جائیں گے،تمام شہریوں کومساوی حقوق ملیں گے، نامزدچیف جسٹس تصدق جیلانی نے کہاکہ قانون کی حکمرانی، آئین کی بالادستی اورجمہوریت کے استحکام کے لیے چیف جسٹس افتخار چوہدری کو سلام پیش کرتا ہوں، ان کی مثالی محنت نے قانون کی حکمرانی قائم کرنے کے پیغام کو عام کیا۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ افتخار چوہدری کی ٹیم کا حصہ ہونا ان کے لئے باعث فخر ہے اور اپنے پوتوں کو بھی بتائیں گے کہ انہوں نے چیف جسٹس کے ساتھ کام کیا ہے، جسٹس مشیر عالم کا کہنا تھا کہ چیف جسٹس کی ریٹائرمنٹ کے بعد عوام کو مایوس نہیں کریں گے، ان دیکھے کا خوف اب دل سے نکل گیا اور اب ہم بلا خوف آتش نمرود میں کودنے کو تیار ہیں۔ جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ افتخار محمد چودھری کرکٹ اور ہاکی ٹیموں کے کپتان کی طرح ہیں، وہ سپریم کورٹ کے سچن ٹنڈولکر ہیں جنہوں نے بہترین انداز میں اپنی اننگز کھیلی، سابق چیف جسٹس افتخار چوہدری کی خصوصیات کو گنا نہیں جاسکتا، وہ بہت زیادہ وسیع النظری کے مالک ہیں اور ان کا ہر فیصلہ مسلم اور فصیح ہے، ان جیسی قیادت صدیوں میں پیدا ہوتی ہے اور افسوس ہے کہ ہم چیف جسٹس افتخار چوہدری کی قیادت سے محروم ہو جائیں گے۔

Mumtaz Awan

Mumtaz Awan

تحریر:ممتاز اعوان
برائے رابطہ:03215473472