حکومت معیشت کی بہتری کیلئے زراعت کو اولین ترجیح دے

Government Economy

Government Economy

لاہور(جیوڈیسک)نئی حکومت کو مالیاتی تجارتی خسارہ 24 ارب ڈالر سے کم کرکے 12 ارب ڈالر پر لانا ہوگا جس کے لئے ملک میں کپاس، چاول، پھل، چمڑہ وغیرہ کی پیداوار 40 فیصد سے 50 فیصد بڑھانا ہونگی۔ان خیالات کا اظہار چیئرمین ایگری فورم ڈاکٹر ابراہیم مغل نے ذرائع سے گفتگو کے دوران کیا۔

نئی حکومت کو سب سے بڑا چیلنج معیشت کا اور معیشت کی بہتری کے لئے ملکی برآمدات 25 ارب ڈالر سے بڑھا کر 33 ارب ڈالر تک لے جانا ہونگی اور درآمدات 42 ارب ڈالر سے کم کرکے 35 ارب ڈالر تک لا کر پاکستان کو معاشی طور پر بدحالی سے بچایا جا سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملکی درآمدات میں تعیش والی 4 سے 5 ارب ڈالر کی مصنوعات کا داخلہ ممنوع کرنا ہوگا اور اگر یہ اشیا بازار میں پائی جائیں تو انہیں بحق سرکار ضبط کر لینا چاہیے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملک میں 12 ارب ڈالر کا گاڑیوں کا جو تیل درآمد ہوتا ہے نئے ڈیم بنا کر تیل کی یہ درآمدات 7 ارب ڈالر تک لانا ہونگی۔

برآمدات بڑھانے کے لئے ملک میں 2 کروڑ گانٹھیں روئی اور1 کروڑ ٹن چاول پیدا کرنا ہوگا جو بہتر پلاننگ اور بروقت فیصلوں سے عین ممکن ہے۔ ڈاکٹر ابراہیم مغل نے واضح کیا کہ نئی حکومت عملی طور پر معیشت کی بہتری کے لئے زراعت کو اولین ترجیح دے جس سے معاشی بہتری کے ساتھ ساتھ روزگار، خوراک کی یقین دہانی اور دیہات کی حالت بہتر ہو پائے گی۔

انہوں نے مزید واضح کیا کہ رشتے داریوں سے بالاتر ہو کر خزانہ اور زراعت کے محکمہ جات بہتر شخصیات کے سپرد کیے جائیں تاکہ ملک ترقی کرے اور اپنے پاں پر کھڑا ہوسکے۔