دوہزار تعلیمی ادارے بھی سیلاب کی لپیٹ میں

Floods

Floods

دریائے چناب کے سیلابی ریلے نے ملتان کے نواحی علاقے شیرشاہ میں تباہی مچادی، جس کے باعث سیکڑوں بستیاں زیرآب آگئیں، لوگوں کی علاقے سے نقل مکانی جبکہ ملتان مظفرروڈ ٹریفک کے لیے بندکردیا گیا ، مظفر گڑھ میں دریائے چناب کا بہائو ساڑھے 4 لاکھ کیوسک سے زائد ہوگیا۔ راجن پور میں دریائے سندھ بھی اپنا زور دکھانے لگا ہے، دریائے چناب کے منہ زور ریلے کے آگے مضبوط بند کمزور پشتے ثابت ہورہے ہیں،سیلابی ریلے کا دبائو کم کرنے کے لیے ملتان میں شیرشاہ بند پر شگاف ڈالا گیا تھا۔ مظفرگڑھ میں چناب پل کے مقام پر دریائے چناب کا بہائو ساڑھے 4 لاکھ کیوسک سے زائد ہے۔

بہاولپور میں ہیڈپنجند پر پانی کا بہائو 2 لاکھ 30 ہزار کیوسک ریکارڈ کیا گیا ہے جس میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ دریا سے ملحق علاقے بیٹ لنگا،سڑی بستی اور خیرپور ڈاہا کے مزید درجنوں دیہاتوں میں پانی داخل ہوگیا ہے۔پنجاب میں تباہی مچانے والا سیلاب سندھ کی جانب بڑھنے لگا ہے۔ راجن پور میں دریائے سندھ کے کنارے چار دیہات کچا میراں ، کچا جمال، رکھ سبزانی اور موضع پونگ زیر آب آچکے ہیں۔ ضلعی انتظامیہ کے مطابق دریائے سندھ میں پانی کی سطح مزید بلند ہونے کی صورت میں 83 چھوٹے دیہات زیر آب آسکتے ہیں۔ دریائے چناب میں کبیروالا کے مقام پر اونچے درجے کا سیلاب ہے

جس کے باعث 48 دیہات زیر آب آچکے ہیں، چھ ہزار ایکڑ سے زائد کھڑی فصلیں بھی تباہ ہوگئی ہیں۔ حکومت سندھ نے ممکنہ سیلاب کے خطرے کے پیش نظر فلڈ ایمرجنسی نافذ کر دی ہے اور متعلقہ حکام کو ہنگامی صورت حال سے نمٹنے کے لئے ہائی الرٹ رہنے کا حکم دیدیا۔ این ڈی ایم اے نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ سندھ کے کچے کے علاقوں میں سیلاب آنے کی صورت میں چھ لاکھ افراد متاثر ہو سکتے ہیں۔ وزیراعلیٰ سندھ نے بھی سکھر اور گڈو کے مختلف علاقوں کا طوفانی دورہ کرکے دریائے سندھ کے حفاظتی بندوں کا معائنہ کیا۔ پاک فوج کا سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں ریسکیو اور ریلیف آپریشن جاری ہے۔ ہیلی کاپٹر اور کشتیوں کے ذریعے اب تک انتیس ہزار دو سو پچانوے افراد کو محفوظ مقام پر منتقل کیا گیا۔ دوسری طرف پاک بحریہ نے بالائی سندھ میں امدادی ٹیمیں اور ضروری سامان بھیج دیا ہے۔

سیلاب سے متاثرہ جھنگ، ملتان، بہاولپور، اور رحیم یار خان کے علاقوں میں پاک فوج کی امدادی کارروائیاں جاری ہیں ،آئی ایس پی آر کے مطابق ہیلی کاپٹر اور کشتیوں کے ذریعے اب تک 29 ہزار 295 افراد کو محفوظ مقام پر منتقل کیا جا چکا ہے۔ جھنگ میں آرمی کے 5 ہیلی کاپٹر امدادی کاموں میں جبکہ ملتان میں دو ہیلی کاپٹر ریسکیو آپریشن میں مصروف ہیں۔ آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ جوانوں نے آج مظفر گڑھ، احمد پور شرقیہ ، پنجند اور ملتان سے 550 افراد کو ریسکیو کیا ،دوسری طرف جھنگ، چنیوٹ اور تریموں میں تین میڈیکل کیمپ قائم کئے گئے ہیں جہاں متاثرین کو طبی سہولیات دی جا رہی ہیں۔ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں 52.176 ٹن راشن بھی پہنچایا گیا،بہاولپور اور ملتان کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں 4 موبائل میڈیکل یونٹ بھی کام کر رہے ہیں۔ دوسری طرف پاک بحریہ بھی چنیوٹ اور جھنگ کے سیلاب متاثرین کی ہر ممکن مدد فراہم کرنے میں مصروف ہے۔

امدادی ٹیموں میں ہیلی کاپٹر، کشتیاں اور غوطہ خور شامل ہیں، ٹیموں نے ضلع جھنگ میں بڑے پیمانے پر امدادی آپریشن کیا۔ بالائی سندھ میں بھی پاک بحریہ نے امدادی ٹیمیں اور ضروری سامان بھیج دیا ہے۔ ملتان میں شیر شاہ بند کے قریب امدادی کارروائیوں کے دوران کشتی الٹنے سے ریسکیو اہلکاروں سمیت 25 افراد ڈوب گئے ،دلہا سمیت3 افرادجاں بحق، پاک بحریہ،فلاح انسانیت فائونڈیشن کے رضاکاروں نے ڈوب جانے والے افراد کو سیلابی پانی سے بچانے کی کوشش کی۔ ریسکیو اہلکار سیلاب سے متاثرہ افراد کو محفوظ مقامات کی جانب منتقل کر رہے تھے کہ اسی دوران کشتی کا توازن خراب ہوگیا اور وہ گہرے پانی میں الٹ گئی۔دو افراد کشتی الٹنے سے پانی میں ڈوب کر جاں بحق ہو ئے جن کی لاشیں فلاح انسانیت فائونڈیشن کے غوطہ خوروں نے نکالیں جبکہ پندرہ افراد کو بھی ریسکیو کر لیا گیا،ڈوبنے والوں میں کمسن بچے اور خواتین بھی شامل تھیں۔

Boat

Boat

دو بچوں سمیت سات افراد تاحال لاپتہ ہیں جنکی تلاش کے لئے پاک بحریہ اور فلاح انسانیت فائونڈیشن کے غوطہ خور سیلابی پانی میں سرچ آپریشن کر رہے ہیں۔ کشتی میں سوار ایک شخص جس کی آج شادی تھی پانی میں ڈوب کر ہلاک ہوگیا،اسے تشویش ناک حالت میں ہسپتال لایا گیا لیکن وہ جانبر نہ ہو سکا۔جماعة الدعوةلاہور کے امیر مولانا ابوالہاشم نے سیلاب سے متاثرہ رانا ٹائون،رچنا ٹائون، حیدر روڈ و دیگر علاقوں کا دورہ کیا اورامدادی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔متاثرہ علاقوں میں تاحال سیلاب کا پانی موجود ہے اور علاقے تالاب کا منظر پیش کر رہے ہیں۔جماعة الدعوة لاہور کی طرف سے رانا ٹائون میںریلیف کیمپ بھی لگایا ہے

جہاں سے متاثرین میں امدادی اشیاء تقسیم کی جا رہی ہیں۔موٹر بوٹس کے ذریعے پانی میں پھنسے افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنے کے علاوہ گھروں میں موجود افراد تک پکی پکائی خوراک بھی پہنچائی جا رہی ہے۔رانا ٹائون میں امدادی کیمپ کے انچارج حافظ حبیب الرحمان نے مولانا ابوالہاشم کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ ایک ہفتہ گزر چکا ہے لیکن بارشوں کا پانی نہ نکلنے کہ وجہ سے علاقہ میں وبائی امراض پھیل رہے ہیں ۔جماعة الدعوة کے میڈیکل کیمپ پرگزشتہ روز 2303 مریضوں کا معائنہ کیا گیا اور مفت ادویات تقسیم کی گئیں ۔جماعة الدعوة کے کیمپ پر اور کشتیوں کے ذریعہ 2500 سے زائد افراد تک پکی پکائی خوراک پہنچائی گئیں۔اسی طرح 150 افراد کو موٹر بوٹس کے ذریعہ پانی سے نکال کر محفوظ مقام پر منتقل کیا گیا۔جماعة الدعوة کے رضاکار چوبیس گھنٹے خدمت خلق میں مصروف ہیں۔

مولانا ابوالہاشم نے دورہ کے موقع پر کہا کہ موجودہ نازک صوت حال میں سیلاب متاثرین کی مدد کرنا ہماری اولین ترجیح ہونی چاہئے۔ جماعة الدعوة ہنگامی بنیادوں پر سیلاب سے متاثرہ لوگوں کی بلا امتیاز مدد کر رہی ہے۔ سیاسی، مذہبی و رفاہی تنظیمیں تمام تر اختلافات کو ترک کرکے متاثرین کی مدد کے لیے کردار ادا کریں۔جماعة الدعوة مختلف شعبہ ہائے زندگی میں وسیع پیمانے پر خدمت خلق اور دعوت و اصلاح کا کام کر رہی ہے۔ حالیہ طوفانی بارشوں اور بھارت کی جانب سے دریائوں میں پانی چھوڑنے کے نتیجے میں تباہ کن سیلاب کے باعث متاثرہ لوگوں کی مدد و خدمت کرنا ہمارا دینی و اخلاقی فریضہ ہے۔

پنجاب میں سیلاب و ہنگامی صورتحال کے موقع پر حکومتی سطح پرتعلیمی نظام کو جاری رکھنے کے حوالے سے کوئی انتظامات نہ کرنے کے باعث تعلیمی نظام درہم برہم ہوکر رہ گیا،سیلاب کے باعث 21لاکھ سے زائد بچوں کی پڑھائی متاثر ہوئی ہے۔پنجاب کے 11اضلاع میں1954سکول اور51سے زائد کالجزمتاثر ہوئے ، ان سکولز و کالجز کی بحالی کیلئے سرکار کو7ارب80کروڑ روپے سے زائد درکارہوں گے۔محکمہ تعلیم نے ابتدائی تخمینہ لگانے کے لئے اقدامات شروع کر دئیے جبکہ اب تک سیلاب سے متاثر ہونیوالے سکولوں کی تفصیلی رپورٹ سے اعلیٰ حکام کو آگاہ کر دیا گیا ہے جس میں بتایا گیا کہ سب سے زیادہ جھنگ میں 426سکولز متاثر ہوئے جبکہ کئی کالجز کو بھی شدید نقصان پہنچا ہے۔ شیخوپورہ 250سے زائد،سیالکوٹ 178، چنیوٹ 143، نارووال 80، حافظ آباد 160 او ردیگر کئی اضلاع میں متعدد سکولز کو شدید نقصان پہنچا ہے اور کئی سکولز ختم ہو گئے ہیں،یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ بعض سکولز ایسے بھی تھے جن کی عمارتوں کو خطرناک قراردیا گیااور ان کی دوبارہ تعمیرکیلئے اقدامات کرنے کیلئے درخواست کی گئی تھی۔

حکومت کو ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کرنے کے لئے ان سکولز و کالجز کی بحالی کے لئے فوری طورپر 5ارب روپے جاری کرنا ہوں گے تاکہ لاکھوں طلبااپنی تعلیم کو جاری رکھ سکیں۔ اس حوالے سے محکمہ تعلیم حکام کا کہنا ہے کہ 2ہزار کے قریب سکولز متاثر ہوئے ہیں، اعلیٰ حکام کو آگاہ کر دیا گیا ہے تاکہ وہ لاکھوں طلبا کی تعلیم جاری رکھنے کیلئے اقدامات کریں۔

Faisal Mahmood

Faisal Mahmood

تحریر:فیصل محمود