حکومت کا تحریک منہاج القرآن سے انتظامی طور پر نمٹنے کا فیصلہ

Government

Government

اسلام آباد (جیوڈیسک) حکومت نے طے کر لیا کہ مار چ اور مظاہرے کرنے والوں کے ساتھ جیسے کو تیسا، فارمولا اپنایا جائے گا۔ پولیس لاہور میں منہاج القرآن سیکریٹر یٹ کو گھیرے ہوئے ہے۔

جبکہ عمران خان کو قابو کرنے کےلیے سیاسی حربے آزمائے جارہے ہیں۔ آزادی مارچ اور انقلاب مارچ سے کیسے نمٹنا ہے ، تازہ اقدامات نے حکومت کی حکمت عملی واضح کر دی۔

حکومت کو للکارنے اور کارکنوں کو انتظامیہ کو سبق سکھانے کا درس دینے پر طاہر القادری سے انتظامی طریقے سے نمٹا جائے گا جس کا عملی مظاہرہ اس وقت بھی لاہور میں دیکھا جا سکتا ہے۔ پاکستان عوامی تحریک کو کنٹرول کرنے کے لیے پولیس حرکت میں آگئی ہے۔

دوسری جانب تحریک انصاف کے آزادی مارچ کا سیاسی توڑ نکالا جارہاہے۔ حکومت کی بھرپور کوشش ہے کہ جس حد تک ممکن ہوبڑی جماعتوں کو کپتان سے دور رکھ کر انہیں تنہا کر دیا جائے اور حکومتی قلعے کو مضبوط سے مضبوط بنایا جائے۔

اسی لیے نسبتاً قریب سمجھی جانے والی شخصیات سے مشاور ت کے بعد نواز شریف ، سخت حریفوں سے بھی ملنے کےلیے تیار ہیں۔ تلخ تجربات کو ایک طرف رکھ کر ایم کیو ایم کے وفد کی نواز شریف سے ملاقات ہو گی۔

دوسری جانب ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ امیر جماعت اسلامی سراج الحق، عمران خان سے ملاقات کے بعد جو تجاویز لائے تھے۔ وزیر اعظم کے ساتھیوں نے انہیں قبول کرنے کی حمایت کی ہے۔ دوسری کل وزیراعظم سے ملنے والے اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ بھی آج پیغام لے کر عمران خان کے پاس جائیں گے۔