شہد، زیتون، مچھلی سمیت مختلف درآمدی اشیاء مہنگی کر دی گئیں

Imported Items Expensive

Imported Items Expensive

کراچی (جیوڈیسک) حکومت نے مختلف درآمدی اشیاء پر ریگولیٹری ڈیوٹی میں 5 سے 45 فیصد تک اضافہ کر دیا۔

پاکستان تحریک انصاف نے حکومت میں آکر ضمنی بجٹ پیش کیا جس میں درآمدی اشیاء پر ڈیوٹی بڑھانے کا اعلان کیا گیا۔

ذرائع کے مطابق حکومت نے مختلف درآمدی اشیاء پر ریگولیٹری ڈیوٹی بڑھادی اور فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) نے بعض اشیاء پر پہلی بار ڈیوٹی کا نفاذ کیاہے جب کہ مختلف مصنوعات پر ڈیوٹی میں تبدیلی نہیں کی گئی۔

سگریٹ، مہنگے موبائل، لگژری آئٹم پر ڈیوٹی بڑھانے، کم از کم پینشن 10 ہزار کرنے کی تجویز

ذرائع کے مطابق شہد پر ڈیوٹی20 سے بڑھا کر 30 فیصد، پنیر پر 35 سے بڑھ کر 50 فیصد، مشروم، زیتون اور مختلف سبزیوں پر 10 فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی عائد کی گئی ہے۔

اس کے علاوہ مچھلی سمیت مختلف امپورٹڈ سمندری خوراک پر بھی 10 فیصد ڈیوٹی عائد کی گئی ہے جب کہ امپورٹڈ کاغذ پر 5 فیصد، اسپورٹس سامان اور جوتوں پر ڈیوٹی میں 5، الیکٹرک ساونڈ ایمپلیفائرز پر بھی 5 فیصد ڈیوٹی عائد کردی گئی ہے۔

ذرائع کے مطابق امپورٹڈ فرنیچر پر ڈیوٹی 10 سے بڑھا کر 45 فیصد، فانوس سمیت مختلف الیکٹرک لائٹس اور سجاوٹ پر ڈیوٹی 10، امپورٹڈ تعمیراتی پتھر پر، پلاسٹک مصنوعات اور بوتلوں پر ڈیوٹی میں 5 فیصد، ٹوائلٹ پیپر پر 5 بھی فیصد جب کہ جوسز پر ڈیوٹی میں 10 فیصد اضافہ کیا گیا ہے۔

اسپورٹس فور بائے فور گاڑی پر ڈیوٹی میں 10 فیصد اضافہ کیا گیا ہے جب کہ مختلف گاڑیوں کے پرزوں کی امپورٹ پر ڈیوٹی 10 فیصد، بانس سے بنے فرنیچر پر ڈیوٹی میں 10 فیصد اور پھولوں کی درآمد پر بھی 10 فیصد ریگولیٹری ڈیوٹی عائد کر دی گئی ہے۔