کیا جمہوری دور ایسا ہوتا ہے ؟

Job

Job

تحریر۔۔۔مقصود انجم کمبوہ

چند ماہ پیشتر خاتون شیریں علی عباسی کا ایک مراسلہ پڑھا جس میں اس نے ایک سچا واقعہ رقم کیاہے وہ لکھتی ہیں کہ انہوں نے ایک یوتھ کانفرنس میں ایک مہمان خصوصی کے خطاب میں دل دہلا دینے والا واقعہ سنا۔مہمان خصوصینے اپنے خطاب میں کہاکہ وہ ایک نوکری کے لیے انٹرویو لے رہے تھے، ایک لڑکا انٹرویو دینے کے لیے آیا، ہم جو بھی پوچھتے وہ سہی جواب دیتا چلا گیا۔ ہم نے اس لڑکے سے چالیس سے زائد سوال کئے اس نے ایک بھی غلط جواب نہیں دیا۔

اس کی ذہانت دیکھ کر ہم دنگ رہ گئے۔ وہ لڑکا جاتے ہوئے یہ کہہ گیا کہ مجھے معلوم ہے کہ آپ منسٹر کی دی ہوئی لسٹ والوں کو نوکری دیں گے مجھے نوکری نہیں ملے گی ۔مہمان خصوصی نے بتایا کہ ہم جب متعلقہ وزیر صاحب کے پاس گئے اور اپنی بنائی ہوئی لسٹ دی جس میں اس لڑکے کا نام بھی ہم نے شامل کیا تھایہ دیکھ کر منسٹر نے وہ لسٹ پھاڑ دی ۔ اس کے بعد انہوں نے بتایا کہ دو برس بعد اخبار میں پولیس مقابلے میں مرنے والے ڈاکوئوں کی لاشوں کی تصویر آئی جس میں اس ذہین لڑکے کی بھی تصویر تھی ۔ اس واقعے کے بعد ہال میں ہر آنکھ اشک بار تھی اور میں سوچنے لگی کہ قصور وار کون تھا؟ وہ لڑکا یا میرٹ کا قتل عام کرنے والے؟

یہ صرف ایک ہی واقعہ نہیں ۔جمہوری دور میں ایسے سینکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں دل دوز واقعات سننے اورپڑھنے کو ملیں گے جبکہ ایسا واقعہ آپ لوگوں کو مارشلاء دور میں کبھی سننے یا پڑھنے کو نہیں ملا ہو گا۔میرے شہر کے کئی ایسے غریب نوجوان میرے علم میں ہیں جنہیں مارشلاء دور میں میرٹ پر نوکریاں ملیں اور آج وہ آمروں کو دعائیں دیتے نہیں تھکتے۔ جنرل ضیاء الحق مرحوم کے دور میں لاکھوں غریب اور مفلس خاندانوں کے چراغ سرکاری نوکریوں سے لطف اندوز ہو رہے ہیں

Democracy

Democracy

جبکہ جمہوری دور میں کبھی ایسا نہیں ہوابلکہ انٹرویو میںمیرٹ لسٹ پر آنے والے ہزاروں ذہین و فطین نوجوان میرت لسٹ سے خارج ہوجاتے ہیں منسٹروں کی دی ہوئی لسٹ کے مطابق اپوائنٹ منٹ لیٹر جاری ہوتے ہیں۔ میرٹ سے خارج ہوجانے والے مضبوط اعصاب کے نوجوان صبر کے جام پی کے چپ سادھ لیتے ہیں اور کمزور اعصاب والے یا تو نفسیاتی مریض بن کر پاگلوں کی طرح اوٹ پٹانگ باتیں کرنے لگتے ہیں یا پھر بعض زہریلی گولیاں کھا کر خود کو موت کے حوالے کر دیتے ہیں کچھ ایسے نوجوان بھی ہوتے ہیں جو باغی بن کر ملک کو نقصان پہنچاتے ہیں ۔

یہی وجہ ہے کہ عوام کو جمہوریت سے آہستہ آہستہ نفرت ہوتی جارہی ہے اور میں نے بہت سے لوگوں کو مارشلائوں کے آمروں کے گیت گاتے ہوئے سنا ہے ۔ بعض پرانے بزرگوں کو جنرل محمد ایوب خان مرحوم کی ترقیاتی اسکیموں، منصوبوں اور انصاف کو سراہتے ہوئے سنا ہے اور متعدد کو جنرل محمد ضیاء الحق کے دور کو سنہری دور گردانتے سنا ہے۔ لاکھوں نوجوان جنرل پرویز مشرف کے فین بنتے جارہے ہیں یہ حقیقت ہے کہ جمہوری حکمرانوں نے وہ جلوے دکھائے ہیں جس سے جمہوریت کا چہرہ سیاہ ہوگیا ہے اور آمریت کی بلے بلے ہونے لگی ہے۔

Maqsood Anjum

Maqsood Anjum

تحریر۔۔۔مقصود انجم کمبوہ