”حسین علیہ السلام ”

Salam ya Hussain

Salam ya Hussain

تحریر : محمد جاوید اقبال صدیقی
اگر انسان کو ایک گلاب کا پھول سمجھ لیا جائے تو اس کی خوشبو کو روح تصور کرنا ہو گا جس طرح پھول کی خوشبو اس کی تازگی تک وابستہ رہتی ہے اسی طرح انسان کی زندگی یا روح اس کے جسم میں موجود ہوتی ہے۔ پھول مرجھایا اور خوشبو گئی۔ مگر یہاں موضوع کی جاذبیت ایسی ہے کہ صدیاں گزر گئیں مگر جوں ہی محرم الحرام کا چاند نظر آیا تو پھر نواسہ رسول ۖ کی محبت ایسے تازہ ہو جاتی ہے کہ جیسے ابھی یہ واقعہ کل ہی رونما ہوا ہو۔ محرم الحرام کا چاند نکلتے ہی نواسۂ رسول حضرتِ امام حسین رضی اللہ عنہ کا ذکر شروع ہو جاتاہے۔ اور کیسے نہ ہوپوری دنیا کیلئے نصیحت ہے حسین! تقریباًساڑھے چودہ سوسال گذر جانے کے بعد بھی شہادت امام حسین کا تذکرہ زندہ ہے۔اس کی عالم گیرشہرت اور تذکرہ میںآج تک کوئی کمی نہیں ہوئی بلکہ یہ اورزیادہ پھیلتا چلاجارہاہے یہاںتک کہ حسینیت اور یزیدیت ہردور اور ہر طبقہ میںفتنہ وفساد اورباطل کی علامت بن گئی ہے۔ امامِ عالی مقام حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کا مزار مبارک عراق میں واقع ہے۔ اور صرف محرم الحرام ہی کیا یہاں تو ہر روز ، ہر لمحہ ہی زائرین کا جمِّ غفیر ہوتا ہے۔ اور ہر نئے دن کے ساتھ حسینیت کی تبلیغ عام ہو رہی ہے۔ مسلمان ہی نہیں بلکہ آج تو انگریز بھی اس واقعہ پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں اور اس واقعے کو دنیا کا عظیم معرکہ قرار دیتے ہیں۔ آخر کیوں نہ مانیں انہیں کیونکہ وہ سید الشہداء ہیں۔ نواسۂ رسول ۖ ہیں۔ امام عالی مقام سیّدالشہداء حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی عظیم شہادت ہمیںہمہ وقت اور ہر نئے سال میں دوطرح کاپیغام دیتی ہے۔شہادت امام حسین رضی اللہ عنہ کاپیغامِ اوّل ”عملی جدوجہد” کا ہے۔ محبت حسین، تعلق ِحسین اور نسبت ِحسین کو محض رسم کے طور پر نہ سمجھا جائے اور نہ رہنے دیاجائے بلکہ اسے عمل، حال اورحقیقت کے تناظر میں تبدیل کر دیا جائے۔ اسے حقیقی زندگی کے طورپراپنایاجائے کہ یہی تعلق اور نسبت ہمارانصب العین ہے، مطلب یہ ہے کہ ہم اپنی زندگی کے ہر موڑپراسوئہ حسینی اوررسم شبیری پرعمل کرتے رہیں۔ حسینیت کاتقاضاہے کہ جہاں جہاں تمہیں یزیدیت کے کردار کا نام ونشان نظر آئے، تم حسینی لشکر کے سپاہی بن کریزیدیت کے بتوں کو پاش پاش کر دو، خواہ اس کیلئے تمہیں اپنا مال ومتاع، اپنی جان اور اپنی اولادہی کیوںنہ قربان کرنی پڑ جائیں۔

بہ قولِ شاعر
غریب و سادہ و رنگین ہے داستانِ حرم
نہایت اس کی حسین، ابتداء ہے اسماعیل!
امتِ مسلمہ میں اتحاد و اتفاق، وحدت ویگانگت، بھائی چارہ ومساوات اوریکجہتی کاتصور پیدا ہو…..امت ِمسلمہ میں اتحاد و اتفاق، وحدت ویگانگت، بھائی چارہ ومساوات اوریک جہتی کاتصورپیداکرنے اوراسے تباہی و بربادی اور ہلاکت کے گڑھے میں گرنے سے بچانے کیلئے ضروری ہے کہ ہم آپس کے اختلافات کواعتدال پر رکھیں۔ قمری سال کاآغازماہِ محرم الحرام سے اور اختتام ماہِ ذوالحجہ پرہوتاہے۔ 10 محرم الحرام کو حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت وقربانی اور10ذوالحجہ کوحضرت اسماعیل علیہ السلام کی قربانی ہے۔ معلوم ہوا کہ اسلام ابتداء سے لے کر انتہاء تک قربانیوں کانام ہے، گویا کہ ایک مسلمان کی تمام زندگی ایثار و قربانی سے عبارت ہے۔ ذوالحجہ کا مہینہ ہمارے سامنے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے عشقِ الہٰی کابے پناہ جذبہ اورحضرت اسماعیل علیہ السلام کی آرزوئے شہادت کانقشہ پیش کرتاہے۔اورمحرم الحرام کامہینہ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کے عملی واقعہ کی جانب دعوت دیتاہے۔ذوالحجہ کی دسویں تاریخ کو حضرت اسماعیل علیہ السلام اللہ تعالیٰ کی خوش نودی اورضاکی خاطر اپنا سراقدس چھری کے نیچے رکھ دیتے ہیںمگر یہ سرتن سے جداہونے سے پہلے ہی بارگاہِ خداوندی میںدرجہ قبولیت پالیتاہے….اورمحرم الحرام کی دسویں تاریخ کو نواسہ رسول نہ صرف اپنی جان بلکہ اپنے جگر گوشوں، بھائیوں، عزیزوں، رشتہ داروں اور اپنے اصحاب کی گردنیںدین حق کی سربلندی، اعلائِ کلمتہ الحق، ظلم وستم کے مٹانے کیلئے اورناموسِ اسلام اورحق وصداقت کی خاطراپنے مالک ومولاکی بارگاہ میں پذیرائی کیلئے کٹادیتے ہیں…یہ تاریخ انسانیت کی بہت بڑی قربانی ہے،جوماہِ محرم الحرام میں دشتِ کربلا میں پیش آئی اوراللہ تعالیٰ نے اسے امت مسلمہ کیلئے تاقیام قیامت اسلام کے شعائر میں داخل فرما دیا ہے۔

معرکہ کربلااورشہادت امام حسین رضی اللہ عنہ اپنے مقاصدکی عظمت کے لحاظ سے تاریخ کی سب سے بڑی شہادت وقربانی ہے۔ معرکہ کربلانے اسلامی تاریخ کے دامن کو… ایثار و قربانی،حق و صداقت،10محرم الحرام کو فخرانسانیت اورجگرگوشہ رسول کواس لئے شہید کیا گیا کہ اس نے باطل کے سامنے حق وصداقت کا پرچم سر نگوں نہیں ہونے دیا۔ پوری انسانیت کے لئے یہ عظیم سبق چھوڑاکہ اگر حق وصداقت کی خاطر اپنے پورے کنبے سمیت قربانی وشہادت دینی پڑے توبھی دریغ نہیں کرنا چاہئے۔ شہادتِ امام حسین!حق گوئی وراست گوئی اورتسلیم ورضاکی لازوال داستان ہے۔وہ ایک ایساچراغ ہے کہ مظلوم جب حق و صداقت کی پاسبانی کیلئے باطل کے نرغے میں گھر جائے تویہی راہنمائی کرتاہے۔ جب سیم وزرکی جھلکیاں ایمان وایقان کو کمزور کرنے لگتی ہیںتومثالِ حسین کی یاداسے حوصلہ عطا کرتی ہے۔ جب ایک طرف دنیوی کامیابی وکامرانی ہو اور دولت واقتدار ہو اور دوسری طرف وفائے حق ہو تو فاقہ مستی میںبھی حرص وہواکابت پاش پاش کر دیا جاتاہ ے، یہی تقلید حسین ہے۔

Hussain

Hussain

یوم شہادت امام حسین!اپنے اندرہمارے لئے ایسا عظیم اور اعلیٰ وارفع سبق لئے ہوئے ہے کہ جس میں معراج انسانیت مضمرہے۔ جس میں حق پرستی کے عزائم نظر آتے ہیں۔ بُردبادی ،اثبات و استقامت اور صبر و رضا کی اعلیٰ اقدار کا درس ملتا ہے۔ان ہی اقدار کو پھر سے تازہ کرنے کیلئے یوم امام حسین منایا جاتا ہے۔ واقعہ کربلا! اس قدر کرب وبلا اور مصائب وتکالیف سے پُرہے کہ اسے سن کرپتھرسے پتھردل بھی موم ہوکربے اختیار رو پڑتا ہے۔ امام عالی مقام!اس قدرپختہ عزائم رکھتے تھے کہ انہوں نے اپنے اہل وعیال، عزیز و اقارب اور اصحاب سمیت اپنی قربانی دے دی، مگر باطل کے آگے جھکنے سے انکار کر دیا۔ اہل ایمان کے لئے شہادتِ امام حسین رضی اللہ عنہ کادوسرا پیغام”امن و سلامتی”کا پیغام ہے کتنے دکھ اور افسوس کی بات ہے کہ جب نواسہ رسول کی شہادت کا مہینہ”محرم الحرام”آتا ہے تو پورے پاکستان میں فتنہ وفسادات کے خطرات لاحق ہوجاتے ہیں۔بعض اوقات سرعام گولیاں چلنے لگتی ہیں، قتل و غارت گری، دہشت گردی اورجنگ و فسادکی حالت بن جاتی ہے۔اوراس ماہ ِمقدس میں مسلمان قوم دوسروں کیلئے جنگ ہنسائی اور طعنہ زنی کا نشانہ بن جاتی ہے۔

موجودہ دورمیںیہ بات بڑی توجہ طلب اورخاص اہمیت کی حامل ہے کہ ہمارے آپس کے اختلافات کوکس طرح اعتدال پر رکھا جائے تاکہ نظم وضبط، جرأت وبہادری، شجاعت و بسالت، حرمت فکر، عزم وہمت، ہم دردی وغمگساری اورصبرورضاکاوسیع مفہوم عطاء کیااوراس دولت سے دامنِ اسلام کوبھردیاہے اور اس کا سلسلہ آج بھی جاری ہے اورانشاء اللہ تاقیام قیامت جاری وساری رہے گا۔یہ ایک ایسی روشن مشعل ہے جو انقلابی انسانوں کیلئے راستہ کو روشن بنارہی ہے اورتخت وتاج پرقائم ہونے والی بنیادوںکومنہدم کررہی ہے۔یہی انقلاب! انقلابیوں کیلئے شمع ہدایت ہے اوریہی انقلاب !اپنے حق سے دفاع کرنے والوں کیلئے آخری امیداورسہارا ہے۔ واقعہ کربلا! کل بھی تاریخ کی ایک حقیقت تھی اور آج بھی ایک اٹل حقیقت ہے، نام حسین قلب و دماغ اور ضمیر میں زندہ ہے۔ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ نے اپنی قربانی وشہادت سے اپنے عظیم ناناجان،اپنے والد محترم، اپنی والدئہ ماجدہ اورسب سے بڑھ کراسلام کانام بلند کر دیا۔ ہر مسلمان کو چاہئے کہ وہ آپ کی عظیم زندگی سے سبق سیکھے اور آپ کی ذات سے ہدایت و راہنمائی حاصل کرے۔

قتل حسین اصل میں مرگِ یزید ہے
اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد!
معرکہ کربلا اور حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کے بارے میں گزشتہ چودہ سو سالوں میں لاتعداد لوگوں نے اپنی آراء اوراپنی تحقیق کا اظہار کیا ہے، لیکن یہ موضوع اب بھی تشنہ طلب اورتشنہ تحقیق ہے۔ حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی شخصیت کا ہر فکر میں ہربار ایک نیا پہلو سامنے آتا ہے، لیکن قلم میںتاب وطاقت نہیں ہے کہ وہ اتنا کچھ بیان کر سکے۔
تاریخ نے لکھاہے بہت، ذکرِ کربلا
جس طرح لکھنا چاہئے اب تک لکھا نہیں گیا!
امام عالی مقام حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ ظاہری نگاہوںسے اوجھل ہو گئے، لیکن اہل باطن کے سامنے آج بھی وہ رونق افروز ہیں۔ آج پھر نگاہوں اور گمراہیوں کے اندھیروں میں حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کے عظیم کردار اور پاکیزہ سیرت کے روشن چراغ جلانے کی انتہائی ضرورت ہے۔ اس دورِ پر فتن میں مسلمانوں کے عروج کیلئے ایک بار پھر ”ضربِ حسینی” کی ضرورت ہے۔

Jawed Siddiqui

Jawed Siddiqui

تحریر: محمد جاوید اقبال صدیقی