ایران کا عراق میں امریکی فضائی اڈوں پر بیلسٹک میزائلوں کا انتقامی حملہ

Iran Attack

Iran Attack

تہران (اصل میڈیا ڈیسک) ایران نے عراق میں دوامریکی فضائی اڈوں پر ایک درجن سے زائد بیلسٹک میزائلوں سے حملہ کیا ہے۔

غیرملکی خبررساں اداروں کے مطابق ایران کی جانب سے عراق میں 2 فوجی اڈوں پر12 سے زائد زمین سے زمین پرمارکرنے والے ایرانی میزائل داغے گئے تاہم ابھی تک ان حملوں میں کسی جانی نقصان کی اطلاعات نہیں ہیں۔

امریکی محکمہ دفاع پینٹا گون نے بھی عراق میں امریکی فوج کے اڈے پرحملے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ایران نے عراق میں 2 فوجی اڈوں پر ایک درجن سے زائد میزائل داغے گئے۔

ایرانی سرکاری ٹی وی کے مطابق پاسداران انقلاب نے امریکا کودوبارہ جارحیت پرشدید ردعمل کی دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ یہ جنرل قاسم کی ہلاکت پرجوابی کارروائی ہے، اس حملے کا نام ’آپریشن سلیمانی‘ رکھا گیا ہے، ملٹری بیس پرکامیاب حملہ کیا گیا ہے اور امریکا نے حملے کا جواب دیا توتباہ کن ردعمل دیں گے۔ فرانسیسی میڈیا کے مطابق پاسداران انقلاب نے اسرائیل پرحملے کی بھی دھمکی دیتے ہوئے کہا کہ امریکی جارحیت میں معاون ممالک کوبھی نشانہ بنایا جائے گا۔

وائٹ ہاؤس کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ عراق میں ملٹری بیس پرحملے سے آگاہ ہیں، صدرٹرمپ کوعراق میں راکٹ حملےکا بتادیا گیا اورامریکا صورتحال پرگہری نظررکھے ہوئے ہے۔

اس متعلق امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ اب تک سب ٹھیک ہے، ہمارے پاس دنیا کی سب سے بہترین اورطاقتور فوج ہے۔عراق میں 2 فوجی اڈوں پر ایرانی میزائل حملے میں ہونے والے نقصانات اور ہلاکتوں کا اندازہ لگایا جارہا اورمیں اس ضمن میں بدھ کی صبح بیان جاری کروں گا۔

اس سے قبل ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ ایرانی جنرل قاسم کی ہلاکت امریکیوں کے قتل کا بدلہ ہے، ایران نے جوابی کارروائی کی توہم دوبارہ حملہ کرنے کوتیارہیں، ایران نے کوئی کارروائی کی توخمیازہ بھگتے گا۔

ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف نے اپنے ٹوئٹ میں کہا کہ ایران کی جانب سے مناسب جواب مکمل ہو گیا، اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت اپنے دفاع میں کارروائی کی، ہم کوئی جنگ نہیں چاہتے لیکن کسی بھی جارحیت کیخلاف اپنا دفاع کریں گے۔