عراقی وزیراعظم کا قومی اتفاق رائے کی حکومت تشکیل دینے سے انکار

Nouri al-Maliki

Nouri al-Maliki

بغداد (جیوڈیسک) یہ پیش رفت ایک ایسے وقت سامنے آئی ہے کہ جب عراقی منظر نامہ گنجلک ہوتا جا رہا ہے اور اس پیچیدہ صورتحال کے تناظر میں نوری المالکی سے اقتدار چھوڑنے کے مطالبات زور پکڑتے جا رہے ہیں۔

عراقی وزیر اعظم نے ملک کو بحران سے نکالنے کے لئے قومی اتفاق رائے کی حکومت تشکیل دینے کے مطالبات ماننے سے انکار کر دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ عراقی پارلیمان کا افتتاحی اجلاس بلوانے کے پابند ہیں تاکہ نئی حکومت تشکیل دی جا سکے۔ دوسری جانب عراق کے مختلف حصوں میں انقلابی قبائل اور دوسرے مسلح جنگجووں نے نوری المالکی حکومت کے کھلی جنگ شروع کر رکھی ہے۔

عراقی فضائیہ نے عراق میں قبائلی جنگجوئوں کے زیر نگیں مخلتف علاقوں پر شدید بمباری کی۔ اس کارروائی میں انہیں شامی فضائیہ کی مدد حاصل تھی جس نے عراق اور شام کے سرحدی علاقے القائم اور الرطبہ پر بم برسائے جس سے دسیوں افراد ہلاک ہوئے۔

نوری المالکی کی فوج نے خونریز جھڑپوں کے بعد دولت اسلامی عراق و شام ‘داعش’ کے مسلح جنگجوئوں کی عراق کے شمالی اور مغربی علاقوں میں پیش قدمی روک دی۔ شمالی عراق میں نوری المالکی نے بیجی شہر میں واقع تیل صاف کرنے والی ملک کی سب سے بڑی ریفائنری پر داعش کے مسلح جنگجووں کے حملے پسپا کر دیئے ہیں۔

جنگجوئوں کے زیر نگین عراقی شہروں اور دیہات پر عراقی فضائیہ کے حملوں میں کم سے کم چالیس افراد کے مارے جا چکے ہیں۔

ادھر شامی فضائیہ کے لڑاکا طیاروں نے مغربی عراق کے سرحدی شہر الرطبہ پر دو میزائل داغے جس میں ایک پٹرول پمپ پر گرا جس کے نتیجے میں چالیس افراد ہلاک و زخمی ہوئے۔

دریں اثنا انقلابیوں نے عراقی فوج کا ایک ہیلی کاپٹر مار گرانے کا دعویٰ کیا ہے۔ انہوں نے عراقی فوج کے ہمراہ لڑائی میں شریک 35 ایرانیوں کو بھی گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔

اس سے پہلے ایران اور اس کی سرکردہ قیادت بشمول صدر حسن روحانی واشگاف اعلان کر چکے ہیں کہ ان کی فوج عراق میں شیعہ مزارات کے تحفظ کی خاطر عراق کے اندر کسی براہ راست کارروائی کے لئے تیار ہے۔