داعش کا سربراہ شام میں امریکی فوجی آپریشن میں ہلاک، بائیڈن

killed ISIS leader

killed ISIS leader

امریکا (اصل میڈیا ڈیسک) صدر بائیڈن نے اعلان کیا ہے کہ دہشت گرد تنظیم ’اسلامک اسٹیٹ‘ یا داعش کا سربراہ شام میں امریکی فوج کے ایک خصوصی آپریشن میں مارا گیا ہے۔ امریکی صدر کے مطابق ابو ابراہیم الہاشمی القریشی کی موت سے دنیا زیادہ محفوظ ہو گئی ہے۔

امریکی صدر کی طرف سے جمعرات تین فروری کو جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا کہ شام میں امریکی فورسز نے اپنے ایک آپریشن میں ‘اسلامک اسٹیٹ‘ کے سربراہ کو ”میدان جنگ سے ہٹا دیا ہے۔‘‘

صدارتی بیان میں کہا گیا، ”گزشتہ رات شمال مغربی شام میں امریکی مسلح دستوں نے میرے حکم پر انسداد دہشت گردی کی ایک بڑی کارروائی میں حصہ لیا، جو کامیاب رہی۔ اس کا مقصد امریکی عوام اور ہمارے اتحادیوں کی حفاظت اور دنیا کو زیادہ محفوظ بنانا تھا۔‘‘

بیان کے مطابق، ”امریکی دستوں نے اپنی مہارت اور ہمت کی بدولت ‘اسلامک اسٹیٹ‘ (داعش) کے سربراہ ابو ابراہیم الہاشمی القریشی کو میدان جنگ سے ہٹا دیا۔‘‘ صدر بائیڈن کے الفاظ میں، ”اس آپریشن کے نتیجے میں دنیا کے لیے دہشت گردی کا ایک بڑا خطرہ ختم ہو گیا ہے۔‘‘

’دولت اسلامیہ‘ یا داعش القاعدہ سے علیحدگی اختیار کرنے والا ایک دہشت گرد گروہ قرار دیا جاتا ہے۔ داعش سنی نظریات کی انتہا پسندانہ تشریحات پر عمل پیرا ہے۔ سن دو ہزار تین میں عراق پر امریکی حملے کے بعد ابو بکر البغدادی نے اس گروہ کی بنیاد رکھی۔ یہ گروہ شام، عراق اور دیگر علاقوں میں نام نہاد ’خلافت‘ قائم کرنا چاہتا ہے۔

ایک اعلیٰ امریکی اہلکار کے مطابق داعش کے سربراہ الہاشمی القریشی نے شمال مغربی شام میں امریکی اسپیشل فضائی فورسز کی طرف سے رات کے وقت کیے گئے ایک آپریشن کے دوران خود کو دھماکے سے اڑا دیا۔

اس سرکردہ امریکی اہلکار نے بتایا کہ اس آپریشن کے دوران ابو ابراہیم نے اپنی جان لینے کے لیے جو زور دار بم دھماکا کیا، اس کے نتیجے میں اس کے اہل خانہ بھی مارے گئے، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل تھے۔
انتہائی طاقت ور بم کا دھماکا

امریکی حکام نے نیوز ایجنسی روئٹرز کو بتایا کہ جب ابو ابراہیم کو یہ اندازہ ہو گیا کہ وہ امریکی دستوں کے گھیرے میں آ چکا تھا، تو اس نے جس بم کا دھماکا کیا، وہ انتہائی طاقت ور تھا۔ امریکی عسکری ذرائع کے مطابق یہ اتنا بڑا بم دھماکا تھا کہ جس عمارت میں یہ بم پھٹا، اس کی کھڑکیوں سے کئی انسانوں کی لاشوں کے ٹکڑے بھی اڑتے ہوئے ملبے کے ساتھ کافی دور دور جا کر زمین پر گرے۔

صدر بائیڈن نے بعد ازاں اپنے ایک پبلک بیان میں کہا کہ اس آپریشن کے دوران ممکنہ شہری ہلاکتوں کی تعداد کم سے کم رکھنے پر پوری توجہ دی گئی تھی۔ بتایا گیا ہے کہ اس آپریشن میں کوئی امریکی فوجی اہلکار ہلاک یا زخمی نہیں ہوا۔
آپریشن میں کرد فورسز بھی شامل تھیں

داعش کے سربراہ کے خلاف اس شبینہ امریکی عسکری کارروائی میں کرد فورسز نے بھی حصہ لیا۔ یہ آپریشن شام میں ادلب کے اسی علاقے میں کیا گیا، جہاں ابو ابراہیم کا زیادہ معروف پیش رو اور داعش کا بانی سربراہ ابوبکر البغدادی بھی ایسے ہی ایک ملٹری آپریشن میں 2019ء میں مارا گیا تھا۔

ابو ابراہیم الہاشمی القریشی، جو امیر محمد سعید عبدالرحمان المولیٰ کے نام سے بھی جانا جاتا تھا، تقریباﹰ سوا دو سال پہلے کیے گئے ایک امریکی فوجی آپریشن میں ابوبکر البغدادی کی موت کے بعد داعش کا سربراہ بنا تھا۔