جماعت اسلامی کا تحریک لبیک سے اظیار یکجتیتی

Protest

Protest

تحریر : میر افسر امان

تحریک لبیک نے عمران خان حکومت کے ساتھ دو معاہودں پر عمل نہ ہونے کی وجہ سے 20 اپریل کو اسلام آباد دھرنا دینے کا اعلان کیا۔عمران خان نے کہا کہ احتجاج کی آڑ میں شربسندی نہیں کرنے دیں گے۔ تحریک لبیک کی ٹیم ایک طرف مذاکرات اور دوسری جانب مارچ کی تیاری کر رہی تھی۔ متوقع مارچ سے شر پسند عناصر فائدہ اُٹھاتے۔اسی سوچ کے تحت وقت سے پہلے تحریک لبیک کے سربراہ کو گرفتار کرلیا گیا۔ مگر اس کے رد عمل میں تحریک لبیک نے پورے ملک میں شاہراہوں کو بند کر دیا۔ حکومت کے مطابق تھانہ نوں کوٹ پر حملہ کیا گیا۔چار پولیس والے شہید اور کئی کو یلغمار بنا لیا گیا۔ اس لیے حکومت نے کاروائی کی۔ تحریک لبیک کے بھی چار کارکن شہید ہوئے اور سو پھر کاکن زخمی ہوئے درجنوں کا گرفتار کر لیا گیا۔ تحریک لبیک کے سربراہ سمیت درجنوں کارکنوں کے خلاف دہشت گردی کے تحت مقدمات قائم کر دیے گئے۔

تحریک لبیک پر ملک قانون کے مطابق پابندی لگا دے گئی۔ تحریک لبیک اور اس کے سربراہ کے اثاثے منجمد کر دیے گئے۔ تحریک لبیک نے ملتان روڈ پرمسجد رحمت العالمین کے سامنے لاشیں رکھ کر دھرنا دیا۔

سراج الحق امیرجماعت اسلامی نے پریس کانفرنس میں تحریک لبیک سے اظہار یکجہتی کرتے ہوئے کہا کہ حکومت اے ٹی ایف کی پاسداری میں اپنے لوگوں پر تشدد سے باز رہے۔ معاہدہ پرعمل نہ کرنے کے بعد حالت خراب ہوئے جوافسوس ناک ہے۔ عدالتی تحقیقات کرائی جائیں۔ فرانس کے سفیر کو ملک بدر کیا جائے۔ مظاہرین پر بلا جواز برائے راست گولیاں برسانا قابل مذ مت ہے ۔ تحریک لبیک پر پابندی سمجھ سے بلاتر ہے۔ سعد رضوی سمیت گرفتارشدگان کو رہا کیا جائے۔ سراج الحق نے مسجد رحمت لعالیمین جا کرتحریک لبیک کی قیادت سے اظہار یکجہتی کے ملاقات کی۔ اور کہا کہ الخدمت کے سارے ہسپتال تحریک لبیک کے زخمی کارکنوں کے لیے کھلے ہیں۔

تحریک لبیک کے کارکنوں نے پرجوش نعروں سے سراج الحق اوراس کی ٹیم کا استقبال کیا۔ سراج الحق نے ملی یکجہتی کونسل کا اجلاس طلب کیا۔ وزیر داخلہ سے کہا کہ معاملات بات چیت کے ذریعے حل کیے جائیں۔ ملک کے جید علما جیل میں تحریک لبیک کے سربراہ سعد رضوی سے ملنے اوراحتجاج ختم کرنے کی اپیل کی۔ مفتی منیب الرحمان نے ملک گیر شٹر ڈائون پہیہ جام ہڑتال کا اعلان کر دیا۔ جزوی طور پر ہڑتال کامیاب ہوئی۔ جمہوری دور میں ملک کی سیاسی پارٹیوں کو احتجاج کرنے،جلسے جلوس نکالنےکرنے اور دھرنے دینے کا حق حاصل ہے مگر ملک کے سارے حلقوں کے نذدیک ملک اور شہریوں کی پراپرٹیاں کو نقصان پہنچانا،امن و امان میں خلل ڈالنا، راستے بند کرنا جس سے عوام کی مشکلات میں اضافہ ہوتا ہے۔

مریضوں کو لے جانے والی ایبولنس سڑکیں بند ہو جانے سے کی وجہ سےرک جاتی ہیں کسی طور پر بھی پسندیدہ کام نہیں۔ اس کی جتنی بھی مزاہمت کی جائے وہ کم ہے۔ بول ٹی وی کے سینئراینکر پرسن سمیع ابراھیم نے اس بات کی بھی نشان دہی کی ہے کہ ایسے موقعوں پر ملک دشمن قادیانی شر پسنوں میں شامل ہو جاتے ہیں اور اپنی خباست نکالتے ہیں۔ اس بات کی تاہید گوجرہ کے فسادات کی اُس تحقیق سے ہوتی ہے جو سپریم کورٹ کے جج نے کی تھی۔ جس میں عیسایوں اورمسلمانوں میں فساد پھیلانے میں گوجرہ کا مقامی قادیانی ذمہ دار ملوث نکللا تھا۔ مگراس وقت کی حکومت نے اس رپورٹ پرکسی قادیانی کے خلاف کاروائی نہیں کی۔

ساری دنیا کے مسلمان اپنے پیارے پیغمبرحضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شان اور تحفظ ناموس رسالت میں گستاخی سے بے چین ہو جاتے ہیں۔ اپنا احتجاج ریکارڈ کراتے ہیں۔ اس کے اتحجاج میں شر پسند ملک دشمن عناصر شامل ہو جاتے ہیں غیر قانونی کاروائیاں کرتے ہیں جس سے پاکستان کی بدنامی ہوتی ہے۔ جب فرانس میں رسول اللہ کی شان میں گستاخی کرتے ہوئے ایک اخبار نے آزادی اظہار کی آڑ میں خاکے شایع کیے۔ پھر فرانس کے صدراس میں شریک ہو گئے۔ اس کی حمایت کی اورفراس کے دیواروں پران خاکوں کوسجا دیا۔جس سے مذید تشیرہوئی۔اس حرکت سے مسلمانوں میں غم وغصہ میں اضافہ ہوا۔ تحریک لبیک نے ملک میں احتجاج ریکارڈ کرایا۔ فراس کے سفیرکوملک سے نکالنے کا کہا۔ حکومت نے معاہدہ کیا کہ پارلیمنٹ میں اس معاملے کر رکھیں گے۔

حکومت کے بقول ایک طرف ہم سے بات چیت ہو رہی تھی اور دوسری طرف تحریک لبیک اسلام آباد پر چڑھانی کرنے کی پلائنگ کر رہی تھی۔ اس وجہ سے تحریک لبیک کے سربراہ سعد رضوی کو گرفتار کیا گیا۔اے کاش کے حکومت عقل سے کام لیتی اور فرانس کے سفیر کو نکالنے کے لیے اپنے وعدے کے مطابق یہ مسئلہ پارلیمنٹ میں پیش کرتی۔ مگر عمران خان کے ساتھ کچھ لوگ ہیں جو ان کے حکومت کو ختم کرنے کے دربے ہیں اورعمران خان کو اس کا ادراک نہیں۔حکومت کے غلط فیصلہ سے ملک کے حالات خراب ہوئے۔ملک کا نقصان ہوا ملک کے شہری چائے پولیس والے ہوں یا تحریک لبیک کے کارکن ہوں یا عام شہری سب رسول اللہ سے محبت کرنے والے،مسلمان اور پاکستانی ہیں ۔ ان کی جانیں ضائع نہیں ہونے چاہیے تھیں۔ حکومت نے تحریک لبیک پر پابندہ لگا دیں۔ اس کے سارے اثاثے ضبط کر لیے گئے۔ بلا آخرتحریک لبیک اورحکومت کے درمیان مذاکرات کامیاب ہوئے۔تحریک لبیک کے دھرنے ختم،پابندی اور مقدمات برقرار۔سعد رضوی کی رہائی۔ تحریک لبیک کی شوری نے اعلان کیا کہ حکومت پارلیمنٹ میں قراداد پیش کر دی۔ دیگر معاملات پر پیش رفت ہوئی ہے۔ اب احتجاج کی ضروت نیہں۔ سعد رضوی کی رہائی پر کارکنوں نے خوشی کا اظہار کیا۔

مذاکرات کے وقت تیار شدہ ڈرافٹ پارلیمنٹ میں رکھنے پر نواز لیگ نے احتجاج کیا۔حادثاتی سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے آپے سے باہرہوکرسپیکر قومی اسمبلی کوجوتےمارنےکی دھمکی دی۔ جس پر اس کو نوٹس جاری کر دیا کہ سات دن کے اندر معافی یا وضاحت کروورنہ قانون کے مطابق سزا کے لیے تیار ہو جائو۔ جو کچھ دنوں کےلیےممبرشب کی مطعلی بھی ہوسکتی ہے۔پیپلز پارٹی نے روشن خیلال کے اپنے پرانے بیانے پرعمل کرتے ہوئے فرانسیسی سفیر کی ملک بدری کی قراداد کا بائیکاٹ کیا۔ پارلریمنٹ میں اس قراداد پر بحث ہو گی جس چیزپرپارلیمنٹ متفق ہوگی اس پرعمل کیا جائےگا
صاحبو! ہائے اس زود پشیمان ما کا بشیمان ہونا والی بات عمران خان حکومت پر فٹ بیٹھتی ہے۔ سیدھے طریقے سے یمن کے بارے میں سعودی عرب کی دیمانڈ کہ پاکستان ہماری مدد کے لیے فوجیں یمن بھیجے۔ پارلیمنٹ نے منظوری نہیں دی اور معاملہ نپٹ گیا۔ اسی طری فراس کے سفیر کو ملک بدر کرنے کو بھی تحریک لبیک سے معاہدے کے مطابق پارلینٹ میں پیش کر دیتے تو ملک میں افراتفری نہ ہوتی۔ ہر بات پرعمران خان کا اڑ جانا عمران خان کو نقصان پہنچائے گا۔ اللہ کرے یہ معاملہ خوش اسلوبی سے حل ہو جائے آمین۔

Mir Afsar Aman

Mir Afsar Aman

تحریر : میر افسر امان