جاوید ہاشمی ملکی سیاست کا ایک روشن باب

Javed Hashmi

Javed Hashmi

جاوید ہاشمی صاحب ملتان کے ایک گائوں مخدوم رشید میں یکم جنوری 1948ء میں پیدا ہوئے۔ جاوید ھاشمی صاحب نے ایم اے پولیٹکل سائنس کیا اور اس کے علاوہ پنجاب یونیورسٹی سے فلسفے میں ایم اے کی ڈگری حاصل کی۔ جاوید ہاشمی صاحب زمانہ طالب علمی میں جماعت اسلامی کی طلباء تنظیم اسلامی جمعیت طلبہ کے سر گرم رکن تھے۔ جاوید ہاشمی اسی تنظیم کے پلیٹ فارم سے طالب علم رہنما کے طور پر سامنے آئے۔

ہاشمی صاحب نے پاکستان قومی اتحاد کی جانب سے شروع کی جانے والی بنگلہ دیش نامنظور تحریک میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا اور اس تحریک سے انہوں نے کافی شہرت حاصل کی ،اس کے بعد 1977 میں ذولفقار علی بھٹو کی حکومت کے خلاف چلنے والی تحریک میں بھی پیش پیش رہے ۔ذولفقار علی بھٹو کی حکومت کے خاتمے کے بعد ہاشمی صاحب نے بھی دوسرے کئی سیاستدانوں کی طرح اپنی سیاست کا آغاز آمریت کے دور میں شروع کیا اور 1978ء میں جنرل ضیا الحق کی کابینہ میں وزیر مملکت برائے امور نوجوانان مقرر ہوئے ۔اس سے پہلے 1977ء میں جاوید ہاشمی صاحب لاہور سے قومی اتحاد کی ٹکٹ سے صوبائی اسمبلی کی نشست کے امیدوار تھے لیکن قومی اتحاد نے الیکشن کا بائیکاٹ کر دیا ۔اگر ہاشمی صاحب کی انتخابی سیاست کے حوالے سے بات کی جائے تو وہ 1985ء میں غیر جماعتی الیکشن میں حصہ لے کر رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے۔

ہاشمی صاحب کچھ عرصہ اصغر خان صاحب کی جماعت تحریک استقلال میں بھی رہے ،اس کے بعد وہ مسلم لیگ (ن) میں شامل ہو گئے۔ 1999 ء میں ایک دفعہ پھر ملک میں آمریت وارد ہوئی اور جنرل پرویز مشرف صاحب نے شب خون مارتے ہوئے ،ملکی اقتدار پر قبضہ کرلیا اور اس وقت کے وزیر اعظم کو جبری ان کے عہدے سے ہٹا دیا گیا،2000ء میں میاں نواز شریف صاحب کو ان کے خاندان سمیت جلا وطن ہونا پڑا تو جاوید ھاشمی صاحب کو مسلم لیگ (ن) کا قائم مقام صدر مقرر کر دیا گیا ۔اس دوران نیب نے ہاشمی صاحب کے خلاف غیر قانونی اثاثے بنانے کے الزام میں لاہور کی احتساب عدالت میں ریفرنس دائر کردیا اور انہیں گرفتار کر لیا گیا ۔ہاشمی صاحب نے دوران اسیری جیل میں سے ہی 2002ء کے عام انتخابات میں حصہ لیا اور لاہو ر کے حلقے سے وہ رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے ۔ 26اگست 2004 ء کو اپوزیشن جماعتوں کے اتحاد (اے – آر- ڈی )کی جانب سے سابق وزیر اعظم شوکت عزیز کے مقابلے میں ہاشمی صا حب کو وزیر اعظم کا امید وار نامزد کیا گیا۔

PTI

PTI

وہ دو سال گرفتار رہنے کے بعد جب رہا ہوئے تو 19اکتوبر 2003ء کو ایک پریس کانفرنس میں ایک فوجی افسر کا خط پڑھنے کی بنا ء پر ان کو بغاوت کے جرم میں ایک دفعہ پھر گرفتار کر لیا گیا۔ اور اس جرم میں وہ تقریبا چار سال قید رہے اور پھر2007ء میں سپریم کورٹ کے حکم پر ان کو رہائی ملی۔اسطرح جاوید ہاشمی صاحب پرویز مشرف کے دور میں تقریبا چھ سال جیل میں رہے۔جب ہاشمی صاحب لاہور کی کوٹ لکھپت جیل میں قید تھے تو مجھے بھی ان سے دو تین بار ملاقات کرنے کا اتفاق ہوا۔دوران قید بھی ہاشمی صاحب انتہائی حوصلہ مند اور انتہائی پر عزم دکھائی دئیے دوران اسیری انہوں نے شہرہ آفاق کتاب ہاں میں باغی ہو ں اور تختہ دار کے سائے تلے بھی لکھی اورجب سپریم کورٹ کے حکم کے بعد ان کو کوٹ لکھپت جیل سے رہاکیا گیا تو لاہور میں ان کا فقیدالمثال استقبال ہوا ۔مسلم لیگ (ن) کے قائدمیاں نواز شریف کی وطن واپسی اور 2008 ء کے انتخابات کے بعد جاوید ہاشمی صاحب پارٹی پالیسیوں سے نالاں دکھائی دئیے اور کئی بار پارٹی پالسیوں پر اپنے تحفظات کا اظہار بھی کیا اور وہ گاہے بگاہے پارٹی پالیسیوں پر تنقید بھی کرتے رہے۔اس طرح ان کے اور مسلم لیگی قیادت کے درمیان دوریاں پیدا ہوتی چلی گئیں ۔جولائی 2010 میں جاوید ہاشمی صاحب پر فالج کا حملہ ہوا اور وزیر اعلی پنجاب ان کو اپنے ہیلی کاپٹر پر ملتان سے لاہور لائے اور ان کے علاج معالجے کیلئے ڈاکٹروں کا ایک پینل تشکیل دے دیا گیا ،علاج کے بعد وہ کافی حد تک صحت یاب ہو گئے ،لیکن پارٹیوں پالیسوں پر مسلم لیگ (ن) کی قیادت سے ان کے اختلافات برقرار ر ہے اور بلا اخرجاوید ہاشمی صاحب پارٹی پالیسیوں کے خلاف علم بغاوت بلند کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) سے علحیدہ ہو گئے اور 24 دسمبر 2011 ء کو پاکستان تحریک انصاف میں شامل ہو گئے۔

شاہ محمود قریشی کے روکنے کے باوجود عمران خان صاحب نے کراچی ائر پورٹ پر ان کا استقبال کیا۔عمران خان صاحب نے جب حکومت کے خلاف آزادی مارچ کا اعلان کیا اور اس مارچ سے کچھ دن پہلے انہوں نے ملک میں ٹیکنو کرٹیس کی حکومت بنانے کا مطالبہ کیا تو ہاشمی صاحب مارچ کی تیاریا ں ادھوری چھوڑ کر ملتان چلے گئے اور انہوں نے عمران خان کے ٹیکنو کریٹس کی حکومت کے مطالبے کی مخالفت کر دی ۔بعد میں پی ٹی آئی کے چند رہنما ان کو منانے ان کے پیچھے ملتان پہنچ گئے اور خان صاحب بھی ٹیکنو کرٹیس کی حکومت کے قیام کے مطالبے سے پیچھے ہٹ گئے اور ہاشمی صاحب دھرنے میں پہنچ گئے ۔بعد میں ریڈ زون میں داخلے کو لے کر ایک بار پھر عمران خان صاحب سے اختلاف پیدا ہو گئے اور جب خان صاحب نے کور کمیٹی کے فیصلے کے بر عکس وزیر اعظم ہاوس کے سامنے جانے کا اعلان کیا تو ہاشمی صاحب ایک بار پھر دھرنا چھوڑ کر روانہ ہو گئے اور اگلے دن انکشافات سے بھر پور ایک پریس کانفرس کر ڈالی جس نے ملکی سیاست کا رخ ہی موڑ کر رکھ دیا ۔اور اگر کوئی چور دروازے سے اقتدار میں آنے کی خواہش رکھتا بھی تھا تو اس کی ساری امیدوں پر پانی پھر گیا،اس پریس کانفرنس نے سارے چور دروازے بند کردئیے ،انہوں نے یہاں تک کہہ دیا کہ اگر ملک میں مارشل لا لگا تو میری لاش پر لگے گا۔ہاشمی صاحب کی ملک میں جمہوریت کے قیام کیلئے جدوجہد اور اصولی سیاست کے قیام کیلئے ان کی خدمات قابل قدر ہیں۔

جاوید ہاشمی صاحب کو تمام سیاسی اور غیر سیاسی جماعتوں میں غیر متنازع شخصیت سمجھا جاتا ہے اور ہر جماعت کا رہنما اور کارکن ہاشمی صاحب کو عزت کی نگاہ سے دیکھتا ہے۔تحریک انصاف چھوڑنے کے بعد پی ٹی آئی کی جانب سے سوشل میڈیا پر جاوید ہاشمی صاحب کی جو کردار کشی کی جارہی ہے وہ انتہائی شرمناک ہے۔ہاشمی صاحب کے خلاف جو لوگ یہ کمپین چلا رہے ہیں وہ دراصل سیاسی نا پختگی کا شکار ہیں۔ان کم فہم لوگوں کے علم میں یہ بات ہونی چاہیے کہ جاوید ہاشمی جیسے رہنما ملکی سیاست کا روشن باب ہیں۔

MM Ali

MM Ali

تحریر: ایم ایم علی