کراچی میں دہشت گردوں کے نیٹ ورک کا سراغ نہیں مل سکا

Terrorists

Terrorists

کراچی (جیوڈیسک) سندھ کی صوبائی حکومت نے تسلیم کیا ہے کہ قانون نافذ کرنے والی ایجنسیاں خیبر پختونخوا میں جاری مختلف آپریشن کے باعث بڑی تعداد میں کراچی آنے والے عسکریت پسندوں کے نیٹ ورک کا سراغ لگانے میں ناکام ہو چکی ہیں۔ پیر کو سندہ ہائی کورٹ میں ایک کیس کی سماعت کے دوران اس بات کا اعتراف کیا گیا۔

ماورائے عدالت قتل اور کراچی میں جاری آپریشن کے دوران متحدہ قومی موومنٹ کے بارہ کارکنوں کے قتل کے حوالے سے سات مختلف مقدمات کی سماعت کے موقع پر ایڈوکیٹ جنرل عبدالفتح ملک نے جسٹس محمد علی مظہر اور شاہنواز طارق پر مشتمل عدالتی بنچ کے سامنے ایک رپورٹ پیش کی۔

صوبائی حکومت کے چیف لاء آفیسر ایڈوکیٹ جنرل عبدالفتح ملک نے عدالت کو بتایا کہ پولیس اور قانون نافذ کرنے والی ایجنسیاں حتّی الامکان کوشش کے باوجود بھی دہشت گردوں کے نیٹ ورک کا سراغ لگانے میں ناکام رہی ہیں۔

انہوں نے عدالت کو بتایا کہ وزیراِعلٰی سندھ نے اس سلسلے میں دو اجلاس طلب کیے جس میں عدالتی نوٹس کے حوالے سے ماورائے عدالت قتل کا سختی سے جائزہ لیا گیا۔

چیف لاء آفیسر کے مطابق وزیرا علٰی نے صوبے کے پولیس اور رینجرز چیف کو ہدایت کی وہ انسانی حقوق کی خلاف ورزی کو ہر ممکن حد تک روکنے کے سلسلے میں پیشہ ورانہ مہارت کا ثبوت دیں۔

ایڈوکیٹ جنرل عبدالفتح نے کہا کہ صوبائی حکومت ہمیشہ اس حوالے سے محتاط رہتی ہے کہ ماورائے عدالت قتل یا تشدد کا کوئی واقعہ سامنے نہ آئے۔

انہوں نے رپورٹ میں مؤقف اختیار کیا کہ خیبر پختونخوا میں مختلف آپریشنز کے نتیجے میں عسکریت پسندوں کی ایک بڑی تعداد کراچی منتقل ہو چکی ہے اور ہر ممکن کوشش کے باوجود سیکیورٹی ایجنسیاں اُن کے نیٹ ورک کو تلاش کرنے میں ناکام رہی ہیں۔

چیف لاء آفیسر کے مطابق کراچی میں جاری آپریشن کے دوران پولیس اور رینجرز کے متعدد جوان جان کی بازی ہار چکے ہیں۔ اس سے قبل 29 مئی کو عدالت نے ایڈوکیٹ جنرل کو حکم دیا تھا کہ وہ وزیراعلٰی سندھ، ہوم سیکریٹری، ڈی جی رینجرز، سندھ پولیس کے چیف اور دیگر متعلقہ افسران کے سامنے اس معاملے کو اٹھائیں، تاکہ اس مسئلے کی روک تھام کے لیے ایک متفقہ حل پیش کیا جا سکے جو سب کے لیے قابلِ قبول ہو۔

سماعت کے دوران ایم کیو ایم کے کونسل ایڈووکیٹ حسنین بخاری نے کہا کہ اُن کی پارٹی کراچی میں جاری آپریشن کے خلاف نہیں ہے، لیکن اس ضمن میں بے گناہ افراد کے قتل کی مذمت کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ متحدہ کے کارکنوں کے قتل کی وجہ آپریشن نہیں ہے بلکہ انہیں ذاتی دشمنی کی بناء پر قتل کیا گیا۔