لاہور: 10 سال کی ملازمہ مالکان کے تشدد سے ہلاک

Lahore

Lahore

لاہور (جیوڈیسک) لاہور میں ایک اور کمسن گھریلو ملازمہ درندگی کا نشانہ بن گئی۔ عسکری نائن میں گھر کے مالکان نے دس سال کی بچی کو تشدد کرکے موت کی نیند سلا دیا۔ مقتولہ کے عزیز نے دو افراد کو پولیس کے حوالے کیا لیکن استفسار پر پولیس مکر گئی۔

چند پیسوں کیلئے غلام رکھنے کا رواج آج بھی کسی اور انداز میں موجود ہے جس میں دیہات اور قصبات کے کمسن بچے گھریلو کام کاج کیلئے والدین کو معاوضہ دے کر شہروں میں لائے جاتے ہیں اور پھر ان کے ساتھ غلاموں جیسا سلوک کیا جاتا ہے ایسا ہی اوکاڑہ کی دس سال کی ارم کے ساتھ ہوا جو لاہور کے علاقے عسکری نائن کے ایک گھر میں ڈھائی ہزار روپے ماہانہ کا وعدہ کر کے ملازمہ رکھی گئی لیکن یہ کمسن بچی مالکان کے وحشیانہ تشدد کو برداشت نہ کر سکی اور دم توڑ گئی۔

رات گئے ارم کو مردہ حالت میں سروسز ہسپتال لایا گیا۔ ارم کے ایک عزیز نے مکان مالک محمود الطاف اور اس کے بیٹے سجاد کو پولیس کے حوالے کیا اور تھانے تک گیا مگر معاملہ ہی کچھ اور نکلا۔ پولیس نے اپنا موقف ہی بدل دیا۔

تھانے میں کونسی کھچڑی پک ر ہی ہے۔ عوامی محافظوں کے رویے نے مقتولہ کے عزیزوں کو اس سوچ میں ڈال دیا ہے کہ کیا انصاف ان کا حق نہیں ہے۔