حکمران لوگوں کو حقوق دیں، ورنہ وہ خود چھین لیں گے: طاہر القادری

Tahir-ul-Qadri

Tahir-ul-Qadri

لاہور (جیوڈیسک) مہنگائی کے خلاف ریلی سے خطاب کرتے ہوئے عوامی تحریک کے سربراہ طاہر القادری کا کہنا تھا حکمران چوری کے مینڈیٹ سے اقتدار میں آئے ہیں، ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ پاکستان کو قائد کا پاکستان بنا کر دم لیں گے اور آج کارکنوں نے دکھا دیا مہنگائی کی آگ میں نہیں مریں گے یہ ان کے شعور کی بیداری کا ثبوت ہے۔

انہوں نے کہا حکومت 50 ارب کا کالا دھن سفید کرنے والوں کو سہولتیں دے رہی ہے جبکہ چھوٹی صنعتوں کو نکال دیا انہوں نے کہا حکمران بڑے بڑے ادارے نجکاری کے نام پر خود خریدنا چاہتے ہیں اگر کرپشن ختم کر دی جائے تو یہی ادارے منافع دینے لگ جائیں گے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا 50 فیصد ارکان پارلیمنٹ ٹیکس ادا نہیں کرتے ایسے لوگوں کو پارلیمنٹ میں بیٹھنے کا کوئی حق نہیں۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا عوام کو دھوکا دینے کے لئے قائد کے نام پر جماعتیں بنائی ہوئی ہیں۔ طاہر القادری نے کہا غریبوں کو روزمرہ کی اشیا سستی دی جائیں اور ان غریبوں کی بجلی کے بلوں سے ٹیکس ختم کر دیئے جائیں۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا ایک خاندان کے لیے 50 ایکٹر اراضی کی حد مقرر کر دی جائے۔ انہوں نے کہا آئین کے آرٹیکل 38 کے مطابق انقلاب لے کر آؤں گا، سکینڈ راؤنڈ ہی آخری راؤنڈ ہو گا تیسرے کی ضرورت پیش نہیں آئے گی۔

طاہر القادری نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا دہشت گردی کا آج تک کیا علاج کیا گیا؟، ملک میں ایک ہی خاندان کی حکومت قائم ہے، مشرف نے تو بھیج دیا تھا، ہم ملک لوٹنے والوں کو جانے نہیں دیں گے، قوم اٹھے گی اور ایک ایک پائی کا حساب لے گی، سرحدوں کی نگرانی کے لیے ہیلی کاپٹر چاہئیں، دوروں کے لیے نہیں، حکمرانوں سے کہتا ہوں لوگوں کو روٹی دو، حکمران فرانس کے بادشاہ کی زندگی سے سبق سیکھیں ہم ملک میں 35 صوبے بنائیں گے پاکستان میں بےشمار وسائل ہیں جس کی بدولت پاکستان ایشین ٹائیگر بن سکتا ہے۔

انہوں نے کہا 1947 میں ملک نہیں تھا لیکن ایک قوم تھی آج ملک ہے مگر قوم ختم ہو چکی ہے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا قائداعظم اور نیلسن منڈیلا کے بعد اب طاہر القادری کا انقلاب آئے گا۔ واضح رہے عوامی تحریک کے سربراہ علامہ طاہر القادری کی مہنگائی اور کرپشن کے خلاف کال پر کارکن صبح سے ہی ناصر باغ میں جمع ہونا شروع ہو گئے تھے۔ جہاں کارکنوں کے لئے استقبالیہ اسٹالز بھی لگائے گئے بعد میں سیکڑوں کی تعداد میں کارکنوں نے اسمبلی ہال تک ریلی نکالی جس میں لاہور کے علاوہ دیگر شہروں سے بھی کارکنوں کے قافلے جمع ہوتے رہے۔ ریلی کے روٹ مال روڈ پر بینرز اور ہولڈنگ بھی لگائے گئے۔

علامہ طاہر القادری کے صاحبزادے حسین محی الدین کا کہنا تھا کہ ریلی نے ثابت کر دیا کہ عام انتخابات ڈرامہ تھا۔ الیکشن اور ایسے حکمرانوں کو قوم مسترد کرتی ہے۔ ریلی کے دوران کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچنے کیلئے مال روڈ پر ایک ایس پی، تین ڈی ایس پیز اور سات سو پولیس اہلکار تعینات کئے گئے۔ ریلی میں شریک کارکن ملک میں تبدیلی کیلئے بہت پرجوش تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکمرانوں کی ناقص پالیسیوں نے جینا محال کر دیا ہے یہی وجہ ہے کہ مہنگائی اور کرپشن کیخلاف باہر نکلے ہیں۔

عوامی مسائل پر خواتین اور بچے بھی مردوں کے شانہ بشانہ رہے۔ عوامی تحریک کی پرجوش خواتین کارکن مہنگائی کے خلاف سراپا احتجاج بن گئیں۔