طویل عرصے تک کم نیند موٹاپے کا سبب بنتی ہے : ماہرین

Girl

Girl

کیا آپ نے محسوس کیا کہ دن میں آپ کو بھوک کچھ زیادہ ہی لگتی ہے ؟ اگر ہاں تو طبی سائنس کا بھی کہنا ہے کہ نیند کی کمی موٹاپے کا خطرہ بڑھا دیتی ہے ، کیونکہ لوگ زیادہ کیلوریز کو جسم کا حصہ بنانے لگتے ہیں ۔ یہ بات نئی طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

کنگز کالج لندن کی تحقیق کے مطابق جب انسان تھکاوٹ اور غنودگی کا شکار ہوتا ہے تو اس کی بھوک بھی بڑھ جاتی ہے ۔ اس سے قبل تحقیقی رپورٹ میں یہ بات سامنے آچکی ہے کہ نیند کی کمی موٹاپے اور ذیابیطس ٹائپ ٹو کا خطرہ بڑھاتی ہے مگر یہ پہلی بار ہے کہ کم سونے اور زیادہ کھانے کے درمیان تعلق کو دریافت کیا گیا ہے۔

اس تحقیق کے دوران 18 سے 50 سال کے 172 مرد و خواتین کا جائزہ لیا گیا جن میں سے کچھ صحت مند جسامت رکھتے تھے جبکہ دیگر موٹاپے کا شکار تھے ۔نتائج سے معلوم ہوا کہ جو لوگ کم نیند یعنی چھ گھنٹے سے کم سوتے ہیں وہ روزانہ اوسطاً 385 کیلوریز زیادہ جسم کا حصہ بناتے ہیں۔

محققین نے یہ بھی دریافت کیا کہ رات گئے تک جاگنا اضافی کیلوریز کو گھلانے میں مددگار ثابت نہیں ہوتا اور طویل عرصے تک کم نیند موٹاپے کا باعث بنتی ہے۔

محققین کا کہنا تھا ہمیں ابھی مزید تحقیق کی ضرورت ہے تاکہ موٹاپے کے خطرے کا کوئی علاج دریافت کیا جاسکے۔