برطانوی حکومت کی ایشین میڈیا کے ساتھ دوغلی پالیسی

Asian Media

Asian Media

تحریر: اے حق۔لندن
اس جدید دور میں میڈیا خوراک اور کپڑے کی طرح ضروری ہوگیا ہے۔ میڈیا معاشرے کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ عالمی دنیا میں میڈیا اگر اپنا کردار ادا نہ کرے تو یقینا دُنیا بھر کے سیاستدان اور حکمران عوام کو کچا چبھا جائیں۔ کیونکہ اقتدار اور طاقت کا نشہ وہ واحد نشہ ہے جس کا کوئی علاج نہیں کوئی دوا نہیں اور کوئی تدبیر نہیں۔باقی تمام نشوں سے انسان چھٹکارا حاصل کر سکتا ہے لیکن اس نشے میں گِرا ہوا انسان سوائے موت کے، چھٹکارا نہیں پا سکتا۔

میڈیا عوام کی آنکھ،کان اور دماغ کا کردار ادا کرتا ہے۔اگر میڈیا کی آنکھ بند ہو جائے تو عوام معاشرے کے پہلوں سے بے خبر ہو کر ویرانی کی دُنیا میں کھو جاتی ہے ۔اگر میڈیا کے کان بند ہو جائیں تو عوام معاشرے کا شور شرابا سُننے سے محروم ہو جاتی ہے اور اگر میڈیا کا دماغ چلنا بن ہو جائے تو عوام معاشرے میں راہ گیر کی حیثیت سے رہ جاتی ہے جسے کُچھ معلوم نہیں ہوتا کہ کس راستہ کی طرف بڑھنا ہے۔میڈیا کی مدد سے عوام ایک دوسرے کی زندگیوں سے واقفیت حاصل کرتے ہیں اور جان پاتے ہیں کہ معاشرے میں ایسا کیا کُچھ ہو رہا ہے جس سے ہمیں بچ کر رہنا چاہئے۔مثلاً اگر ایک گروح انسانوں کو دھوکہ دینے کی کوشش کرے اور کسی ایک شہر کو لوٹ لے۔

جبکہ میڈیا پر یہ خبر نہ دیکھائی جائے یا پھر میڈیا موجود ہی نہ ہو۔تو وہ گروح چند ہی شہروں کو لوٹ کر اُمراء کی فہرست میں شامل ہو جائے گا اور کسی دوسرے ملک کا رُخ کر لے گا۔پھر اُس گروح کے بارہ میں کسی کو کیا پتہ کون تھے،کہاں سے آئے تھے،کہاں گئے وغیرہ وغیرہ اس بات میں کوئی شک نہیں کہ ایشیائی میڈیا دوسری دُنیا کے میڈیا سے مختلف اور تیز ہے۔خبر کو اس انداز سے پیش کرنا کہ خبر کے باقی پہلو بھاگ بھاگ کر میڈیا کی طرف آئیں یہ وہ انداز ہے جو مغربی میڈیا ابھی تک نہیں اپنا سکا اور نہ اپنا سکے گاہاں مغربی میڈیا منفی پراپوگینڈا میں ایشین میڈیا کو بہت پیچھے چھوڑ چکا ہے اس میں کوئی شک نہیں اور میں ان تجزیہ نگاروں سے اتفاق کروں گا جو کہتے ہیں

اگر خبر کو منفی بنا کر پیش کرنا سیکھا جائے تو یہ سبق ہمیں مغربی میڈیا سے حاصل کرنا چاہیے۔ برطانوی حکومت نے اپنے ملک میں ہمیشہ سے ایشین میڈیا کونظر انداز کرنے کی کوشش کی ہے۔یا یوں کہیں کہ ایشین میڈیا کے ساتھ دوغلی پالیسی برتے رکھی ہے۔اس کی چھوٹی سے مثال یہ ہے کہ برطانوی حکومت کے موجودہ وزیر اعظم نے حال ہی میں ایک ایشین تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ مستقبل میں ایشیائی وزیر اعظم دیکھنا چاہتا ہیں۔لیکن وزیر اعظم کے اس دوغلے بیان پر میں یہ واضح کرنا چاہوں گا کہ جب ایشیائی میڈیا کا نام لینے کی باری آتی ہے تو وزیر اعظم صاحب انہیں بڑھا چڑھا کر پیش کرتے ہیں اور جب بجٹ بنتا ہے توایشین میڈیا کو صفر کی حیثیت دی جاتی ہے۔

British Government

British Government

جبکہ برطانوی حکومت کو چاہئے کہ عوام میں شعور پیدا کرنے کے لئے ایشین میڈیا کی مدد لی جائے اورعوام کو مختلف پہلوں سے آگاہ کیا جائے۔جبکہ دیکھا جائے تو خاص تو پر گذشتہ حکومتوں نے ایشین میڈیا کے ساتھ سخت برتائو رکھا اور نام کی حد تک انہیں قبول کیا یا پزیرائی دلائی لیکن باقی معاملات میں ان کے ساتھ وہ سلوک کیا جو انتہائی غیر مناسب تھا۔یہاں پر ایک بات بلکہ اہم بات یاد دلاتا چلوں کہ جب بھی برطانیہ میں کوئی ایسا کام یا افسوس ناک واقع ہو جائے جس میں کوئی ایشین شامل ہو تو اس خبر کو منفی میڈیا کے ذریعے بہت اچھالا جاتا ہے اور اس بات کا تاثر دیا جاتا ہے کہ برطانیہ میں ایشین ملک کے لئے کچھ اچھے نہیں اور اس کے ساتھ ساتھ ایشین کمیونٹی کو پیغامات اور عوامی پیغامات ایشین میڈیا کی بجائے اور کمیونٹی اخبارات کی بجائے اس میڈیا میں اور ان اخبارات میں مہم چلاتے ہیں

جس کا ایشین کمیونٹی سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں۔ برطانوی حکومت اگر چاہتی ہے کہ ان کے پیغامات اور کمیونٹی کو اکٹھا رکھنے کی مہم چلائی جائے تو اشتہارات ایشین میڈیا کو دئیے جائیں اور ایشین میڈیا کو بھی سپورٹ کی جائے اور ان کی بھی حوصلہ افزائی کی جائے اس سے پہلے کہ ایشین میڈیادل برداشتہ ہو کر کوئی اور شعبہ اپنا لے۔ برطانوی حکومت کو چاہئے کہ ایشین میڈیا کے ساتھ سوتیلوں والا سلوک ہرگز نہ کریں اورجس طرح بیانات میں ایشین میڈیا کو یاد رکھتے ہیں اُسی طرح بجٹ کے وقت بھی ایشین میڈیا کو یاد رکھیں اور بہتر معاشرہ بنانے کے عزم کو لے کر چلتے ہوئے عوام کوتمام پہلوں سے آگاہ کرنے کے لئے ایشین میڈیا سے خدمات حاصل کریں۔

برطانوی حکومت کو اپنے دوغلے بیانات سے پرہیز کرتے ہوئے یہ یاد رکھنا چاہئے کہ ایشین میڈیا کی مدد سے ہی چند دہائیاں قبل برطانیہ میں ملی جُلی عوام کو بہتریں شہری بننے کی آگاہی کا سبق دلایا گیا ۔برطانوی حکومت کو یہ بھی نہیں بھولنا چاہئے کہ میڈیا کی خدمات کو ایک طرف رکھ کر دیکھا جائے تو عوام کے کردار اور حکومتی رویہ دیر پا چلنے والے نہ تھے جبکہ ایشین میڈیا نے ہی آگاہی سے عوام کو باعزت اور امن پسند شہری رہنے کا راستہ دیکھایا اور ہر لحاظ با وفاء شہری رہنے کی تر غیب دی۔

Atta Ul Haq

Atta Ul Haq

تحریر: اے حق۔ لندن