صالح معاشرہ – وقت کی ضرورت !

Islam

Islam

تحریر: محمد آصف اقبال

انبیا کرام اور پیغمبران اسلام کو دنیا میں بھیجنے کامقصد تکمیل اخلاق تھا۔اس بات کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ پہلا مقصد یہ تھا کہ انسان صرف اللہ کی بندگی کرے اور دوسرا یہ کے وہ اعلیٰ اخلاق پر فائز ہو تاکہ وہ اپنے رب کو جانے، مانے، تصدیق کرے اور عمل کرتے ہوئے دنیا میں امن و سکون برقرار رکھے۔جس مقام پر یہ دو مقاصدپورے ہوتے نہ نظر آئیںاس مقام پر مقاصد کی تکمیل کے لیے نہ صرف جدوجہد کی جائے بلکہ تمام صلاحیتیں جو اللہ کی عطا کردہ ہیں انہیں بھی استعمال میں لانا چاہیے۔فرد واحد کی زندگی میں بھی تبدیلی لائی جائے اور معاشرہ کی صورتحال کو بدلنے کے لیے بھی کوشاں رہا جائے گا۔

ساتھ ہی ہر اس موقع پر جبکہ ایک عملی نمونہ کی ضرورت ہو، تو نبی امّی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کو سامنے رکھنا چاہیے۔ اللہ تعالی فرماتا ہے کہ “اور بے شک تم اخلاق کے بڑے مرتبے پر ہو”(القلم:٤)۔ آیت میں رسول اللہ کے اعلیٰ اخلاق کے تذکرے سے پتاچلتا ہے کہ آپ کی شخصیت نہایت صحیح الدماغ ،سلیم الفطرت تھی جس کا ذہن اور مزاج غایت درجہ متوازن تھا۔اور دنیا بھی اسی شخص کی پیروی پسند کرتی ہے جس کا دماغ صحیح ہو، جس کی فطرت صالح ہو اور جس کا مزاج معتدل ہو۔

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اخلاق کی بہترین تعریف حضرت عائشہ نے اپنے اِس قول میں فرمائی ہے کہ “قرآن آپ کا اخلاق تھا”۔ (امام احمد، مسلم، ابودائود، نَسائی، ابن ماجہ، دارمی )۔معنی یہ کہ رسول اللہ ۖنے دنیا کے سامنے محض قرآن کی تعلیم ہی پیش نہیں کی بلکہ خود اس کا مجسّم نمونہ بن کر دکھا دیا ۔قرآن میں جس چیز کا حکم دیا گیا آپ نے خود سب سے بڑھ کر اس پر عمل کیا، جس چیز سے اس میں روکا گیا آپ نے خود سب سے زیادہ اس سے اجتناب فرمایا، جن اخلاقی صفات کو اس میں فضلیت قراردیا گیا سب سے بڑھ کر آپ کی ذات ان سے متصف تھی، اور جن صفات کو اس میں ناپسندیدہ ٹھہرایا گیا سب سے زیادہ آپ ان سے پاک تھے۔

دوسری روایت میں حضرت عاشئہ فرماتی ہیں کہ “رسول اللہ ۖنے کبھی کسی خادم کو نہیں مارا، کبھی کسی عورت پر ہاتھ نہ اٹھایا، جہاد فی سبیل اللہ کے سوا کبھی آپ نے اپنے ہاتھ سے کسی کو نہیں مارا، اپنی ذات کے لیے کبھی کسی ایسی تکلیف کا انتقام نہیں لیا جو آپ کو پہنچائی گئی ہو الّا یہ کہ اللہ کی حْرمتوں کو توڑا گیا ہو اور آپ نے اللہ کی خاطر اس کا بدلہ لیا ہو، اور آپ کا طریقہ یہ تھاکہ جب دو کاموں میں سے ایک کا آپ کو انتخاب کرنا ہوتا تو آپ آسان تر کام کو پسند فرماتے تھا، الّا یہ کہ وہ گناہ ہو، اور اگر کوئی کام گناہ ہوتا تو آپ سب سے زیادہ اس سے دور رہتے تھے”(مسند احمد)۔ حضرت انس کہتے ہیں کہ”میں نے دس سال رسول اللہ ۖکی خدمت کی ہے۔

آپ نے کبھی میری کسی بات پر اْف تک نہ کی، کبھی میرے کسی کام پر یہ نہ فرمایا کہ تونے یہ کیوں کیا، اور کاکبھی کسی کام کے نہ کرنے پر یہ نہیں فرمایا کہ تونے یہ کیوں نہ کیا”(بخاری و مسلم)۔یہ ہے وہ زندگی اور اس کی مختصر جھلک جس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ اُس ذات کی کیا حیثیت ہے۔نبیۖ کی سیرت پر عمل کر نے سے انفرادی اور اجتماعی دونوں محاظ پر کامیابی ممکن ہے،کردار بے داغ بن سکتا ہے اورمکارم اخلاق کے اعلیٰ مقام تک پہنچا جاسکتا ہے۔

رسول اللہ کی زندگی ہمارے لیے اس لحاظ سے بھی قابل اہم ہے کہ آپ ہمارے قائد، رہنما، رہبراور نبی ہیں۔آپ کی زندگی ہماری اجتماعی زندگی کے لیے بھی بہت اہم ہے۔جب ہم اس لحاظ سے آپ کی زندگی کا مطالع کرتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ آپ کی گھریلو زندگی میں امہات المونین کے ساتھ حسن سلوک، ان کی تربیت ،ان سے محبت اور ہمدردی کا رویہ اختیار کرتے،بچوں سے بے انتہا محبت کرتے اور فرماتے کہ “بچے جنت کے پھول ہیں”۔حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ” حضور نے اپنے دست مبارک سے اللہ تعالیٰ کے راستہ میں جہاد کے علاوہ کبھی کسی کو نہیں مارا۔نہ کبھی کسی خادم کو نہ کسی عورت کو(بیوی یا باندی وغیرہ)کو”۔یہ اس طرح کے بے شمار تذکرے ہمیں سیرت اور احادیث کی کتابوں میں ملتے ہیں

جن سے ہمیں نہ صرف راہنمائی ملتی ہے بلکہ جذبے بیدار اور حوصلے بلند ہوتے ہیں۔ہماری اجتماعی زندگی کا وہ حصہ جس کوہم گھر کہتے ہیں،جہاں ماں ،باپ، بیوی بچے، بھائی بہن اور دیگر رشتہ دار ہوا کرتے ہیں۔ ان کے ساتھ کس طرح سے پیش آئیں اور ان کے ساتھ کون سارویہ اور طریقہ اختیار کریں اس کی مکمل وضاحت ایک طرف اللہ تعالی قرآ نِ احکیم میں فرماتا ہے وہیں دوسری جانب رسول اللہ کا اسوہ ہماری راہنمائی اور راہبری فرماتا ہے۔ انفرادی زندگی ہو یا اجتماعی ،کسی بھی سطح پر غفلت نہ برتیں ،شعوری اور سنجیدہ زندگی گزاریں تاکہ جب ہم قیامت میں اللہ کے سامنے حاضر ہوں تو کوئی اٹھنے والا ہاتھ ایسا نہ ہو جو ہماری جانب ہماری کوتاہیوں اور غلطیوں کا اشارہ کرے اور اللہ کا غضب ہم پر نازل ہوجائے۔ہمیں ہر لمحہ آخرت کے دن سے ڈرتے رہنا چاہیے۔

Allah

Allah

ہم جانتے ہیں کہ اللہ کے رسول نے کبھی کسی کو تکلیف نہیں پہنچائی، اور نہ ہی کبھی کسی کے حق میں بد دعا کی۔بہت سے واقعات آپ کی زندگی سے وابستہ ہیں جہاں لوگوں نے آپ کو تکلیفیں پہنچائیں لیکن آ پ نے ہمیشہ ان لوگوں کو معاف کر دیا اور یہی تعلیم آپ نے اپنے اصحاب کو بھی دی۔پڑوسیوں کے حقوق کا تذکرہ کرتے ہوئے حضرت عائشہ کہتی ہیںحضرت عمر سے مروی ہے کہ نبی کریم نے فرمایا: “جبریلِ ہمیشہ مجھ کو ہمسایہ(پڑوسی)کا حق ادا کرنے کی ہدایت کرتے رہتے تھے یہاں تک کہ میں نے یہ خیال قائم کر لیا کہ جبریلِ امین پڑوسی کو وارث قرار دیں گے”(یعنی ایک ہمسایہ کو دوسرے ہمسایہ کا وارث بنا دیں گے)(بخاری و مسلم)۔ اسی طرح لوگوں کی عزت احترام کے سلسلے میں فرمایا:”کبیرہ گناہوں میں سے یہ بھی ہے کہ کوئی اپنے والدین کو گالی دے۔صحابہ نے عرض کیا یا رسول اللہ کیا کوئی شخص اپنے ماں باپ کو بھی گالی دیتا ہے۔

آپنے فرمایا ہاں جب یہ کسی کے باپ کو گالی دیاتا ہے تو وہ اس کے باپ کو گالی دیتا ہے اور یہ کسی کی ماں کو گالی دیتا ہے تو وہ اس کی ماں کو گالی دیتا ہے”(جامع ترمذی)۔لوگوں سے ہمدردی کے تعلق سے اللہ کے رسول فرماتے ہیں :”جو شخص لوگوں پر رحم نہیں کرتااللہ اس پر رحم نہیں کرتا”(جامع ترمذی)۔اللہ تعالیٰ قرآن حکیم میں فرماتا ہے:”نیکی یہ نہیں ہے کہ تم نے اپنے چہرے مشرق کی طرف کرلیے یا مغرب کی طرف، بلکہ نیکی یہ ہے کہ آدمی اللہ کو اور یومِ آخر اور ملائکہ کو اور اللہ کی نازل کی ہوئی کتاب اور اس کے پیغمبروں کو دل سے مانے اور اللہ کی محبت میں اپنا دل پسند مال رشتے داروں اور یتیموںپر، مسکینوں اور مسافروں پر ، مدد کے لیے ہاتھ پھیلانے والوں پر اور غلاموں کی رہائی پر خرچ کرے، نماز قائم کرے اور زکوٰة دے۔

اور نیک وہ لوگ ہیں کہ جب عہد کریں تو اسے وفا کریں، اور تنگی و مصیبت کے وقت میں اور حق و باطل کی جنگ میں صبر کریں۔ یہ ہیں راستباز لوگ اور یہی لوگ متقی ہیں”(البقرہ:١٧٧)۔ اس آیت کریمہ میں ایک مہذب معاشرہ کی مکمل تصویر پیش کردی گئی ہے۔بتایا گیا ہے کہ معاشرہ سے تعلق رکھنے والے لوگوں پر کون سے کام لازم ہیں اور کس طرح وہ اپنی ذمہ داریوں کو ادا کرتے ہوئے لوگوں کے لیے خیر ثابت ہوتے ہیں۔یہاں اللہ کے بندوں کے حقوق اداکرنے کی بات ہے،اللہ کے حقوق یعنی عبادت کا تذکرہ ہے،لوگوں کے ساتھ معاملات اور معاہدوں کو بھی بہ خوبی ادا کرنے کی بات ہے۔اس طرح کی بے شمار ہدایات واحکامات قرآن و حدیث میں موجود ہیں ان احکامات پر عمل کرنے کے نتیجہ میں صالح معاشرہ وجود میں آسکتا ہے۔

معاشرتی اور اجتماعی زندگی کے ان پہلوئوں پر بھی توجہ دینے کی ضرورت ہے جن کا تعلق حکومت اور ریاست سے ہے۔ان میں معیشت، معاشرت، تعلیم اور سیاست موٹے طور پر آتے ہیں۔ان کے تعلق سے بھی ہمیں اللہ کی کتاب اور اس کے رسول کی زندگی میں مکمل ہدایات و رہنمائی ملتی ہے۔فرمایا: ” یہ وہ لوگ ہیں کہ اگر ہم انھیں زمین پر اقتدار عطا کریں تو وہ نماز قائم کریں گے، زکوة دیں گے، معروف کا حکم دیں گے اور منکر سے روکیں گے۔ اور تمام معاملات کا انجام کار اللہ کے ہاتھ میں ہے”(سورة حج:٤١)۔نیز فرمایا: “اور لوط کو ہم نے حکم اور علم بخشا اور اسے اس بستی سے بچا کر نکال دیا جو بدکاریاں کرتی تھی۔ درحقیقت وہ بڑی ہی بری،فاسق قوم تھی۔

لوط کو ہم نے اپنی رحمت میں داخل کیا،وہ صالح لوگوں میں سے تھا “(الانبیآء :٧٤)۔ معلوم ہو اکہ حصولِ علم کامقصد معصیت کے کاموں سے بچنا اور ان کاموں سے گریز کرنا ہے جن کی ممانعت کی گئی ہے۔ علم کا مقصد یہ بھی ہے کہ اپنے ربِ حقیقی کو پہنچانا جائے، اس پر کامل یقین کیا جائے نیز اس کے تمام احکامات خوش خلقی کے ساتھ ادا کیے جائیں۔اس طرح ملک، حکومت، سیاست، معیشت اورتعلیم کے ذریعہ ایک صالح معاشرہ تشکیل پائے گا۔ معاشرہ صالح ہوگا تو اس میں بسنے والے لوگ امن و سکون اور اطمینان کی زندگی بسر کریں گے۔اسلامی تعلیمات پر مبنی معاشرہ وجود میں آئے اس کی خواہش فرد واحدکو بھی ہونی چاہیے اور اسلامی اجتماعیت کو بھی۔یہ وہ جائز خواہش ہے جس پر عمل کے نتیجہ میں شخصیتیں نکھریں گی،فساد فی الارض ختم ہوگا وہیں دوسری جانب معاشرہ اور ملک بھی صحیح راہ پر گامزن ہوجائے گا۔

Mohammad Asif Iqbal

Mohammad Asif Iqbal

تحریر: محمد آصف اقبال
maiqbaldelhi@gmail.com
maiqbaldelhi.blogspot.com