مسلم لیگ صرف قائد کی ۔ باقی سب مفادات کی

Muslim League

Muslim League

تحریر : میر افسر امان

مسلمانان ِبرصغیر کی سیاسی جماعت ،صرف قائد اعظم محمد علی جناح کی آل انڈیا مسلم لیگ تھی، ہے اور رہے گی۔ پاکستان بننے کے بعد جتنی بھی مسلم لیگیں بنتی رہیں ،حکومتیں کرتی رہیں اور پھر ٹوٹتی رہیں صرف اور صرف مفادات کے لیے بنیں۔اب مکافات عمل کے تحت نون مسلم لیگ بھی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے۔ آثار بتا رہے ہیں کہ نون مسلم لیگ کے بتن سے اب چوہدری نثار صاحب کی قیادت میں کوئی نئی مسلم لیگ بننے جا رہی ہے ۔ مگر یاد رہے کہ یہ وقت کا ضیاع ہے۔ اس متوقع مسلم لیگ کا حشر بھی پرانی مسلم لیگوں کی طرح ہی ہو گا۔ضرورت اس امر کی ہے اصلی مسلم لیگی حضرات، اِندھر اُدھر مفادات کی مسلم لیگوں کی بجائے قائد کی اُسی اصل مسلم لیگ کی نشاةثانیہ کے لیے کام شروع کریں۔ جس نے برصغیر ہندوستان کے مسلمانوں کے سامنے یہ منشور رکھا تھا کہ پاکستان میں مدینہ کی اسلامی فلاحی ریاست کا اجرا کیا جائے گا۔ اسلامی نظام حکومت قائم کیا جائے گا۔جس میں عدل و انصاف ہو گا۔برابری ہو گی۔امن وامان ہو گا۔ پاکستان کا قانون قرآن اور حدیث ہو گا۔ جس پر مسلمانا ن برصغیر نے لاکھوں جانوں کی قربانیاں دیں۔ اپنی عزلتیں لٹائیں۔ اپنے خاندان اورماںباپ کی قبریں چھوڑیں۔ اپنے وطن چھوڑے۔ دنیا کی سب سے بڑی ہجرت کی۔ معلوم ہونے کہ باوجود کہ ان کے علاقوں میں پاکستان نہیں بنے گا۔ پھر بھی اسلام کے نام پر پاکستان کا ساتھ دیا۔ اب وہ بھارت میں متعصب قوم پرست ہندوئوں کے عذاب کانشانہ بن رہے ہیں۔

اگر چھوٹی چھوٹی مسلم لیگوں کو چھوڑ کر بات کی جائے تواس سے قبل کنونشین مسلم لیگ بنی،جونیجو مسلم لیگ بنی،ق مسلم لیگ بنی،نون مسلم لیگ بنی۔ ان مسلم لیگوں نے پاکستان پر حکومتیں کیں۔ پھر اپنے منطقی انجام تک پہنچ گئیں۔ ان سب مصنوہی مسلم لیگوں نے قائد کی مسلم لیگ سے ا نحراف کرتے ہوئے مملکت اسلامی جمہوریہ پاکستان کی اساس سے انحراف کیا۔ پاکستان کی منزل کھوٹی کیا۔ اپنے مفادات کے لیے سیاست کی۔ مسلمان وہ ہیں جنہوں اپنے اسلامی تدبر سے ایک ہزار سال تک چار براعظموں کی سیکڑوں قوموں کو اسلام کے ایک جھنڈے تلے متحد رکھا۔ مگر پاکستان کے مقتدر حلقے صرف ایک بنگالی قوم کے کے مسلمانوں کو اپنے ساتھ ملا کر نہ رکھ سکے۔جس سے پاکستان دو ٹکڑوں میں تقسیم ہو گیا۔
آل انڈیا مسلم لیگ ہی مسلمانانِ برصغیر کی نمائندہ سیاسی جماعت تھی۔ اس سے قبل ہند کے سارے سیاسی لیڈر جس میں مسلمان، ہندو اور سکھ شامل تھے، متحدہو کر انگریزوں سے آزادی حاصل کرنے کی جدوجہد میں لگے ہوئے تھے۔مصور پاکستان علامہ اقبال بھی متحدہ ہندوستان کے ترانے گاتے تھے۔ ان کی مشہور نظم:۔

سارے جہاں سے اچھا ہندوستان ہمارا

ہم بلبلیں ہیں اُس کی ،یہ گلستان ہمارا

سارے ہندوستان میں یہ نظم گنگنائی جاتی تھی۔ خود قائد اعظم بھی متحدہ پاکستان کے لیے جد وجہد کر رہے تھے۔طویل تجربے نے مسلمانوں کے دونوں قومیں لیڈروں پر واضع کیا کہ قوم پرست ہندو برہمن جس کے ہاتھوں میں ہندوئوں کی سیاسی لیڈرشپ ہے وہ مسلمانوں سے ازلی دشمنی رکھتے ہیں۔ اس لیے کہ مسلمانوں نے اقلیت ہو کر ہندوستان کی اکثریت پر ایک ہزار سال حکمرانی کی تھی۔ اپنی بہترین نظم نسق کے تجربے ،انسانیت دوستی،عدل و انصاف ، اسلام کی تعلیمات ،پر اُمن رویہ اور ساتھ لے کر چلنے کی پالیسیوں کی وجہ سے ہندوستان کے عام عوام مسلمانوں سے خوش تھے۔ اسی لیے برصغیر کے کروڑوںہندو مشرف بہ اسلام ہوئے۔مگرہندوئوں کا برہمن طبقہ اندر ہی اندر وہ انگریزوں سے ملا ہوا تھا۔ وہ آزادی کے بعد مسلمانوں سے دنیا میں راج سیکولر نظام، جس میں بقول علامہ اقبال تعدادیعنی سر گنتے ہیں ، کے تحت، اپنی ہزار سالہ غلامی کا بدلہ اپنی اکثریت کی بنیاد پر مسلمانوں کو اپنا غلام بنانے کے ارادہ رکھتے ہیں۔ انگریزوںتجارت کے بہانے مسلمانوں حکمرانوں سے ہندوستان کااقتدار چھینا تھا۔ اس لیے انگریزوں نے بھی برہمنوں کو ہندوستان میںمراعات دیں تھیں۔ مسلمانوں کو ہر طرح پیچھے رکھا کہ وہ کہیں دوبارہان سے اقتدار چھین نہ لیں۔مگر قائد اور علامہ اقبال نے برہمنوں کے عزاہم کو بھانپ لیا ۔ علامہ اقبال نے الہ آباد کی مسلم لیگ کی میٹینگ میں پاکستان کا مطالبہ رکھا۔ جسے مسلمانانِ برصغیر میں پزیرائی ملی۔ قائد نے آل انڈیا مسلم لیگ کو دو قومی نظریہ پر منظم کیا۔

برصغیر مسلمانوں نے قائد کی آواز پر لب بیک کہا۔پھر بر صغیر ہندوستان کے کونے کونے میں یہ نعرہ مستانہ گوجنے لگا۔ پاکستان کا مطلب کیا لا الہ الہ اللہ۔ مسلم ہے۔ تو مسلم لیگ میں آ۔ لے کے رہیں پاکستان ۔ بن کے رہے کا پاکستان۔ پاکستان بننے سے پہلے برصغیر کے حکمرانوں کے اصلی وطن یورپ میں عیسایوںمیں قوم پرستی عروج پر تھی۔ قوم پرستی کی بنیاد پر جنگ اول اور دوم لڑی گئیں۔کروڑوں انسانوں نے قومیت کی بنیاد پر اپنی جانیں دی تھیں۔ برصغیر کے برہمن بھی قائد کے دوقومی نظریہ کے مقابلے میں برصغیر کی ساری قوموں کو ایک ہندوستانی قوم تصور کرتے تھے۔علامہ اقبال نے اس کی نفی کی اور اسلام کے قومیت کے آفاقی نظام کو عام کیااور برصغیر کے مسلمانوں کو مخاطب ہو کر فرمایا کہ:۔

اپنی ملت پر قیاس ،اقوام مغرب سے نہ کر

خاص ہے ترکیب میں قوم رسولِ عاشمیۖ

اسلام کے اس فلسفہ کو برصغیر میں عام کیا تھا۔کچھ نادان مسلمان طبقے برہمنوں کی چال کو سمجھ نہ سکے اور ہندوئوں کے نعرے قومیں اوطان یعنی وطن سے بنتیں کے پر فریب نعرے میں متحدہ پاکستان کی باتوں میں آ گئے۔ پاکستان اور قائڈ اعظم کی مخالفت کی تھی۔ اللہ نے مولانا موددی کے دل میں قومیت کے مسئلہ پر بات ڈالی۔ مولانا نے قومیت کے مسئلہ پر اسلامی نقطہ نظر سے مضامین لکھے۔جسے تحریک پاکستان کے دوران آل انڈیا مسلم لیگ نے برصغیر ہندوستان میں خوب پھیلایا۔ جو اب بھی کتابی شکل میں موجود ہیں۔ پھر جب اللہ کے فضل اور قائد کی انتھک جمہوری کوششوںسے دنیا میں مسلمانوں کی اُس وقت کی سب سے بڑی سلطنت وجود میں آگئی۔ پاکستان بن گیا تو قائد اعظم نے مولانا موددیسے کہا کہ آپ پاکستان کے مسلمانوں کو بتائیں کہ پاکستان میںا سلامی نظام کیسے قائم کیا جائے گا۔ مولانا مودودی نے قائد اعظم کی ہدایات پر ریڈیو پاکستان پر اسلامی کے عملی نفاذ کی کئی تقرریں کیں۔ جو اب بھی ریڈیو پاکستان کے ریکارڈ اور عام پاکستانیوں کے مطالعہ کے لیے کتابی شکل میں بھی موجود ہیں۔

صاحبو!مصنوہی مسلم لیگوں نے پہلے پاکستان کی ترقی میں کوئی خاص کردار ادا کیا۔ بلکہ پاکستان کے دو ٹکڑے ہو گئے۔ مصنوہی مسلم لیگوں نے قائد کی وژن کے مطابق پاکستان میںاسلامی نظام حکومت رائج کرنے کی کوشش بھی نہیں کی۔اپنے ذاتی مفادات کو ہی سامنے رکھا۔اب تو نون مسلم لیگ بھی اپنی فطری عمر پوری کر چکی ہی ہے۔ نواز شریف خود اس اس کا خاندان کرپشن کے مقدمات میں پھنس چکے ہیں۔نواز شریف پاکستان کی اعلیٰ عدلیہ کی طرف سے نا اہل قرار دیے جا چکے ہیں۔چند ہفتوں میں ان کے مقدمات کا فیصلہ سامنے آنے والا ہے۔متوقع طور پر سزا بھی ہونے والی ہے۔ اب نواز شریف اپنی کرپشن چھپانے کے لیے تمام حدیں پار کر چکے ہیں۔ کبھی غدار وطن شیخ مجیب کو محب وطن قرار دے رہے ہیں۔فوج اور عدلیہ پر وار کر نے کے بعد مملکت اسلامی جمہوریہ پاکستان کو مجرم ثابت کرنے لگے ہیں۔ تین دفعہ پاکستان کے راز کی حفاظت کا حلف لینے والے نا اہل وزیر اعظم نواز شریف پاکستان پر حملہ کر چکے ہیں۔ڈان اخبار کو انٹر ویو دے کر مملکت پاکستان پر الزام لگا رہے ہیں۔گریٹ گیم کے تینوں کردار، بھارت ،امریکا اور اسرائیل کسی طور پر بھی اسلامی اور ایٹمی پاکستان کو برادشت کرنے کی لیے تیار نہیں۔ نواز شریف پریشانی کے عالم میں یا دانستہ طور پر بھارت، امریکا اور اسرائیل کے ہاتھ مضبوط کر رہے ہیں۔ اب اس موقعہ پر پاکستان سے محبت کرنے والے لوگوں،مقتدر حلقوںاور اصلی مسلم لیگیوں سے پاکستانی قوم کی درخواست ہے کہ چوہدری نثار کی سربراہی میں کوئی نئی مصنوہی مسلم لیگ بنانے کے بجائے قائد کی آل انڈیا مسلم لیگ طرز ،کی پاکستان میں پھر سے تحریک اُٹھائیں۔جس کا نعرہ تھا پاکستان کا مطلب کیا”لا الہ الا اللہ” حکمران اللہ سے معافی مانگیں۔ برصغیر کے مسلمانوں سے کیا گیا وعدہ کو پورا کرنے کی کوشش کریں۔ اس سے اللہ کی مدد شامل حال ہو گی۔ پاکستان مضبوط ہو گا۔مسلم لیگ صرف قائد کی ۔باقی سب مفادات کی۔ اللہ پاکستان کی حفاظت فرمائے۔ آمین۔

Mir Afsar Aman

Mir Afsar Aman

تحریر : میر افسر امان