نارووال پولیس کی ”بے مثال” کارکردگی

Police

Police

تحریر:قرة العین ملک

پولیس کے سالانہ بجٹ میں اربوں روپے کے اضافے کے باوجود جرائم کی شرح میں کمی کی بجائے بے تحاشا اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ دہشت گردی کی روک تھام کے نام پر اربوں روپے سالانہ اضافی وصول کرنے والی پولیس عوام کے جان و مال کی حفاظت میں قطعی ناکام نظر آتی ہے، اغوا برائے تاوان، ڈکیتی، چوری اور دیگر سنگین جرائم میں ملوث منظم گروہوں نے عوام کا جینا محال کر دیا ہے اور احساس تحفظ کی بجائے ہر شخص مجرموں سے خوفزدہ نظر آتا ہے۔ پولیس کے سالانہ بجٹ میں اضافے کا سلسلہ 2007ء میں شروع ہوا جیسے جیسے صوبے میں دہشت گردی میں اضافہ ہوا اسی شرح سے پولیس نے اپنے بجٹ میں بھی اضافہ کرنا شروع کر دیا، 2007ء میں اسمبلی میں پنجاب پولیس کیلئے 28 ارب 98 کروڑ 37 لاکھ 13 ہزار روپے کا سالانہ بجٹ منظور کیا گیا

مگر پولیس نے تقریباً پونے دو ارب روپے کے اضافے کے ساتھ 30 ارب 68 کروڑ 43 لاکھ 75 ہزار 786 روپے خرچ کئے اس سے اگلے سال 2008ء میں 30 ارب 31 کروڑ 16 لاکھ روپے کا بجٹ تھا مگر 39 ارب 14 کروڑ ساڑھے 49 لاکھ روپے خرچ ہوئے۔ 2009ء میں 43ارب 5کروڑ 75لاکھ روپے کے بجٹ کی بجائے 47ارب دو کروڑ روپے خرچ ہوئے۔ 2010/11ء کیلئے 48ارب 92کروڑ 40لاکھ 63ہزار روپے کے سالانہ بجٹ کی منظوری دی گئی تھی مگر پولیس نے 51ارب 33کروڑ 65لاکھ 60ہزار روپے خرچ کیے، اسی طرح 2011/12ء میں 55ارب روپے سے زائد رقم خرچ کئے جانے کا اندازہ ہے۔

سالانہ بجٹ میں اربوں روپے کے اضافے کے باوجود پولیس اب تک نہ تو دہشت گردی کی روک تھام کیلئے کوئی مربوط حکمت عملی طے کر سکی ہے اور نہ ہی دیگر جرائم پر قابو پایا جا سکا ہے۔صرف صوبائی دارالحکومت میں اغوا برائے تاوان، ڈکیتی، راہزنی، چوری اور دیگر سنگین وارداتوں میں گذشتہ سال کی نسبت تقریباً 30فیصد اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔ 2011ء کے دوران شہر سے اب تک جنرل (ر) طارق مجید کے داماد عامر ملک، امریکی شہری وارن وائن سٹائن اور سابق گورنر سلمان تاثیر کے بیٹے شہباز تاثیر سمیت 50سے زائد افراد تاوان کیلئے اغوا ہو چکے ہیں۔ شہر لاہور میں ہر روز 40 سے 50 ڈکیتی و راہزنی کی وارداتیں ہو رہی ہیں جن میں سے 9سے 14 وارداتوں کے مقدمات درج کر کے باقی ”گول” کر دی جاتی ہیں اور سرکاری ریکارڈ میں اعداد و شمار کا ہیرپھیر کر کے ایک سے دو فیصد تک اضافہ دکھایا جا رہا ہے

اس کے علاوہ زمینوں پر قبضوں، منشیات فروشی اور قِمار بازی کے بھی منظم گروہ اپنی مذموم کارروائیوں میں مصروف ہیں ۔یہ صرف لاہور کی صورتحال نہیں بلکہ پنجاب کے باقی اضلاع میں بھی یہی کیفیت ہے۔ہر ضلع میں امن و امان کی مخدوش صورتحال ہے۔گزشتہ روز نارووال پولیس کی زیادتیوں کے خلاف شہری لاہور پریس کلب پہنچ گئے ۔پریس کلب کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کیا اور وزیر اعلیٰ پنجاب سے ڈی پی اور نارووال سمیت تمام ایس ایچ اوز کو برطرف کرنے کا مطالبہ کیا۔اس موقع پرڈی پی او نارووال کے خلاف شدید نعرے بازی کی گئی اور سڑک پر ٹائر بھی جلائے گئے جس سے ٹریفک جام ہو گئی۔نارووال کے رہائشی افراد نے بتایا کہ جرائم رکنے کا نام نہیں لے رہے لیکن پولیس خاموش تماشائی کا کردار ادا کرتی ہے۔

ڈکتییوں کی وارداتوں میں آئے دن اضافہ ہو رہا ہے۔دن دہاڑے مسلح افراد دکانیں،موٹر سائیکل لوٹ کر فرار ہو جاتے ہیں مگر پولیس مقدمہ درج نہیں کرتی ۔شہریوں نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ ڈی پی او نارووال ڈاکٹر انعام وحید پولیس سے بھتہ لیتے ہیں۔ایس ایچ اوز اپنے تھانوں کی کارکردگی رپورٹ بہتر بنانے کے لئے عوام کو ذلیل و خوا رکرتے ہیں۔ناروال سے آئے 45سالہ معذور شخص و مقامی صحافی،نیشنل پریس کلب ظفر وال کے نائب صدر محمد موسیٰ خان نے بتایا کہ قاسم کے بیٹے اسکے پلاٹ پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں ۔انہوں نے 3بار ہمارے گھر میں گھس کر خواتین پر تشدد کیا لیکن پولیس نے مقدمہ درج نہیں کیا۔اب چوتھی بار انہوں نے گھر میں گھس کر خواتین کے کپڑے پھاڑے اور ایک خاتون کو برہنہ کر کے پیٹ میں درانتی ماری اور پیٹ پھاڑ دیا ،پولیس بھی اس واقعہ کی چشم دید گواہ ہے۔

اس واقعے کے بعد پولیس نے معمولی دفعات لگا کر مقدمہ تو درج کر لیا لیکن پندرہ روز گزرنے کے باوجود ملزمان کو گرفتار نہیں کیا گیا۔متعدد بار ملزمان کی نشاندہی کر کے پولیس کی اطلاع دی گئی لیکن پولیس کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی۔نارووال پولیس کے اہلکار جرائم پیشہ افراد سے ملے ہوئے ہیں اور ان سے بھتے کے لے کر ڈی پی او نارووال کو پہنچاتے ہیں۔ایک کسان نے بتایا کہ دو مہینے قبل میری ٹربائن چوری ہوئی ۔ڈی پی او کے دفتر کے چکر لگا کر تھک گئے مگر مقدمہ درج نہیں ہوا۔رمضان کے آخری عشرے میں تھانہ ظفر وال کی حدود میں دوروڈ ڈکیتی کی وارداتیں ہوئیں جنکا مقدمہ تاحال درج نہیں ہوا۔ایک اور شہری عبدالقیوم نے بتایا کہ اس کا موٹر سائیکل چوری ہوا ۔ہم نے چور پکڑ کر پولیس کے حوالے کئے لیکن پولیس نے کوئی کاروائی نہیں کی۔

ایک اور شہری نے بتایا کہ وہ مرجال کا رہائشی اور ایک غریب آدمی ہے اور آٹے والی چکی لگائی ہوئی ہے اسے گزر بسر کر رہا ہے۔ایک رات چوروں نے 30ہزار مالیت کی گندم چکی سے چوری کر لی ۔اس کامقدمہ درج نہیں ہوا ۔لوگوں کوگندم واپس کرنے کے لئے جب گندم خرید کر لایا تو دوسرے دن پھر چور آ گئے ۔شور مچانے پر محلے کے افراد جمع ہوئے اور چور اپنا موٹر سائیکل چھوٹ کر فرار ہو گئے ۔پولیس کو اطلاع دی گئی لیکن پولیس نے کوئی کاروائی نہیں کی ۔ایک اور شخص بشیر نے بتایا کہ اس کی دکان پر دائو کے میں ڈکیتی کی واردات ہوئی ۔ہم نے ملزم پکڑ کرپولیس کے حوالے کئے تو ملزمان نے ہمیں دھمکی دی کہ صلح کرو نہیں تو دکانوں کو آگ لگا دیں گے۔صلح نہ کرنے پرمیری دکانوں کو آگ لگا دی گئی جس سے میرا لاکھوں روپے مالیت کا نقصان ہوا۔

Suspects

Suspects

پولیس مقدمہ درج کرنے سے انکار کر ہی تھی جس پر ہم نے احتجاج کیا اور نارووال میں سڑک بلاک کی جس پر مقدمہ تو درج ہو گیا لیکن ملزمان کو گرفتار نہیں کیا جا رہا ۔ایک اور شہری نے بتایا کہ اسکے پلاٹ پر جو گزشتہ36سال سے اسکی ملکیت میں ہے،ملزمان قبضہ کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں ،ڈی پی او نارووال سے ملنے کے باوجود کاروائی نہیں کی جا رہی۔نارووال کے شہریوں نے وزیر اعلیٰ پنجاب سے مطالبہ کیا کہ ڈی پی اوناروال ڈاکٹر انعا م وحید،ایس ایچ او تھانہ ظفر وال لیاقت،ایس ایچ او تھانہ غریب شاہ شاہد ڈھلوں کوبرطرف کیا جائے اورہمیں انصاف دلوایا جائے۔اگر ہمارے مطالبات نہ مانے گئے تو ہم جلد پنجاب اسمبلی،وزیر اعلیٰ ہائوس ،گورنر ہائوس کے سامنے دھرنا دیں گے۔پنجاب بھر میں امن و امان کی صورتحال دن بدن بگڑی جا رہی ہے

سر شام ہی ڈاکوسڑکوں پر دندناتے نظر آتے ہیں پولیس بر وقت اطلاع ملنے کے باوجود موقع پر لیٹ پہنچتی ہے جس کے باعث ڈاکو محفوظ مقامات پر پہنچنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ اس وقت پولیس مکمل طور پر عوام کے جان و مال کا تحفظ کرنے میں ناکام نظر آتی ہے۔ عوام اپنی جان و مال کے تحفظ کے لیے ٹیکس دیتے ہیں اور یہ تحفظ ہی انہیں دستیاب نہیں۔ پولیس نہتے عوام پر گولیاں چلانے میں تو بڑی شیر ہے لیکن عوام کے پیسوں سے تنخواہ وصول کرنے کے باوجود انہیں تحفظ فراہم میں ناکام رہے۔ آئے دن پولیس کی کارکردگی خراب سے خراب تر ہوتی جا رہی ہے لیکن پولیس حکام ٹس سے مس نہیں ہو رہے۔

Punjab

Punjab

آئی جی پنجاب امن و امان کے دگر گوں صورتحال کا نوٹس لیکر پولیس کی کارکردگی کو بہتر بنائیں تاکہ عوام بلا خوف و خطر زندگی گزار سکیں۔ امن و امان کی یہ صورتحال خادم پنجاب کیلئے بھی لمحہ فکریہ ہے۔ اگر لاہور اور پنجاب کے دوسرے شہروں میں بھی کراچی جیسے بدامنی والے حالات بن رہے ہیں تو پھر ان کے طرزِ حکمرانی پر بھی انگلیاں اْٹھ سکتی ہیں۔ وہ شہریوں کو جان و مال کے تحفظ کی اپنی آئینی ذمہ داریاں نبھائیں۔

تحریر:قرة العین ملک