کیا پاکستانی ایک قوم…..!؟

Journal Ashfaq Parvez Kayani

Journal Ashfaq Parvez Kayani

کاکول میں یوم آزادی کی پریڈ سے خطاب کرتے ہوئے جرنل اشفاق پرویز کیانی نے کہا ‘ ‘کہ قوم متحد ہو تو کوئی بحران ہماری دسترس سے باہر نہیں، دہشت گردی کے سامنے جھکنا کوئی حل نہیں، ایک قومی اتفاق رائے پیدا کرنے کی ضرورت ہے ہمیں ملک و قوم کے لئے ایک ہو کر سوچنا پڑے گا، ہمیں علاقائی تعصبات سے بالا تر ہو کر سوچنا ہو گا جرنل صاحب کے اس بیان میں اک حسرت و یاس جس کی جھلک محسوس ہو تی ہے انہوں نے تمام مسائل کا حل ایک قومی سوچ میں پنہا قرار دیا، کاش ہم قومی سوچ بنائیں اور متفق ہوں … یہ پڑھ کر مجھے بشدت مرحوم و مغفور جناب ملک معراج خالد وہ زولفقار علی بھٹو کے ساتھی پی پی پی کے بانیوں میں سے ماہر قانون درویش صفت انسان تھے یاد آئے وہ ہمیشہ ہر فورم پر یہ کہتے کہ پاکستانی قوم نہیں بلکہ ایک ملی جلی بھیڑ ہے مجھے یہ کہنے دیجئے یہی خطہ پاک اور بسنے والے کروڑوں عوام بد قسمتی ہے کہ گزشتہ ٦٦ برسوں میں بھی ایک قومی سوچ نہ بنا سکے مگر کیوں ..؟ سو پہلے دیکھتے ہیں۔

قوم کیوںکر اور کن عناصر سے مل کر تشکیل پاتی ہے قوم کے لئے، نسلاً ایک، زبان ایک، خطہ ایک اور مقامی رسم و رواج یہ سب ایک ہوں تو قوم بنتی ہے مذہب ثانوی … اب ہمارے دانشور تاریخ نویس مسلمان ہونا ایک قوم قرار دینے پر مُصر…، اگریہ ہی سچ ہے توپھر یہ ایرانی، مصری، عرب، ترک کیوں..؟ ایک پاکستانی تمام عمر عربوں کے ساتھ گزار دے مگر وہ عرب قوم کا حصہ نہیں بن سکتا، یہاں صرف یہ مثال کافی ہے کہ مذب کے حوالے سے قوم بنتی تو مشرقی پاکستان کے الگ ہونے کا کوئی جواز نہیں بنتا، پھر یہ نعرہ پاکستان کا مطلب کیا پھر بنگالیوں نے اس نعرہ کا انکار کیوں کیا …؟ مگر نہیں ایسا نہیں مشرقی اور مغربی پاکستان کے عوام میں صرف ایک قدر مشترک تھی وہ مذہب دیگر خطہ، زبان، نسل، اور رسم و رواج فرق تھے لیکن پھر بھی ہمارے محققین اور اہل فکر آج تک مختلف تاویلات کر کے تاریخی سچائی کو مسخ کر کے آئندہ نسلوں کو گمراہ کر رہے ہیں۔

Pakistan

Pakistan

جبکہ آج بھی یہاں قومیتوں کے حوالے سے شدید اختلافات موجود ہیں تو ثابت ہوأ کہ مذہب اِس ملی جلی مسلم بھیڑ کو متحد و متفق رکھنے میں ناکام ہے موجودہ پاکستان میں نسلاً کتنے گروہ ہیں، سندھی، بلوچ، پختون، اور پنجابی ان میں بھی لسانی فرق ہے یہ کیونکر ایک قوم بن کر کہیں متفق ہو سکتے ہیں، کالا باغ ڈیم بھی ایک مثال ہے جس پر قوم کا کثیر سرمایہ صرف ہو چکا ہے مگر گز شتہ 40 برس سے اِس مسلے پر اتفاق نہیں ہو پایا کیوں ؟ اس لئے کہ مختلف قومیتوں، لسانی گروہ اور پھر صوبا ئی عصبیت، خطوں پر مشتمل اک بھیڑ، جنکے اپنے اپنے مفادات ہیں….، اور یہ پاکستان ہی میں نہیں دنیا کے کسی بھی خطے میں خواہ مغرب یا مشرق کہیں بھی صرف مذہب کے حوالے سے قوم تشکیل نہیں پاتی قوم کے لئے مذہب نہیں دیگر اجزا اہم اور ضروری جو قوم کیلئے بنیاد فراہم کرتے ہیں، جرنل صاحب کا یہ فرمانا کہ ملک و قوم کے لئے ایک ہو کر سوچنا پڑے گا ہمیں مذہبی اور علاقائی تعصبات سے بالا تر ن ہو کر سوچنا ہو گا۔

انہوں کھل کر یہ سچ کہا کہ ہمیں مذہبی اور علاقائی تعصبات سے کے دائرے سے نکل کر سوچنا ہے اور یہی مشکل ہے…زرہ غور. بھارت جہاں ٢٨ صوبے ہیں سات مذاہب کے لوگ ٢٩ زبانیں، اگر تو وہاں ایسا کوئی تماشہ ہوتا ہے جیسا کل اسلام آباد میں ہوأ ،یا ہر روز خود کش حملے بم دھماکے، ٹارگت کلنگ، تو بات سمجھنے میں مشکل نہیں ہو گی لیکن وہاں تو…. ہمارے تاریخ نویسوں نے وہاں را م راج کی کوشش کی مگر ریاست کو تلک لگا کر ہندو نہ بنایا گیا…. اب ہم کہاں کھڑے ہیں، غور کریں ،ملک میں ایک قررآن ایک اللہ ایک رسولۖ مسلمان جو ٩٨ فیصد مگر سوچ ایک نہیں کیوں ….؟ نہ تو سچ کہ سکتے ہیں اور نہ ہی سن سکتے کہ دونو ہی ملاوٹ زدہ، جناب خواجہ سعد رفیق فرماتے ہی 22 سالوں میں نفرت کے بیج بوئے گئے امن لانے میں وقت لگے گا جناب یہ سچ بھی بتائیں کے نفرت کے بیج کس نے بوئے، کیوں بوئے اور آبیاری کس نے کہ آج یہ تناور درخت بن چکے ہیں، اگر تو قوم متحد ہو۔

متفق ہو قومی سوچ ایک ہو تو نفرت کے درخت کو جڑ سے اکھاڑنا کوئی مشکل نہیں قوم( روٹین میں قوم کا لفظ استعمال کیا جا رہا ہے جبکہ یہ ہرگز قوم نہیں یہ تو ملی جلی بھیڑ ہے اگر قوم ہوتی تو پھر یہ نہ کہنا پڑتا کے قوم متفق و متحد ہو تو کوئی بحران ہماری دسترس سے باہر نہیں …) کے لئے اگر کچھ مشکل ہے تو وہ قومی سوچ و اتفاق پر۔ اب یہ کہنا کہ دہشت گردی کے سامنے جھکنا کوئی حل نہیں جناب جرنل صاحب حل ہے آپ جماعت اسلامی، جمعیت علماء اسلام (سمیع) سے رابطہ کریں اور اپنے سابق جرنل حمید گل صاحب سے بھی مشورہ کریں وہ آپ کو اسان حل بتائیں گے، یا پھر اُن کی طرف سے جاری کردہ ہر روز کے بیانات سے بھی مدد مل سکتی ہے۔

Badar Sarhadi

Badar Sarhadi

تحریر : بدر سرحدی