جرم کی حد سے بھی آگے کے گہنگار ہو تم

Allah

Allah

حضرت علی کا قول ہے کہ مظلوم کی بددعا سے بچو کیونکہ وہ اللہ سے اپنا حق طلب کرتا ہے اور مظلوم کے اور خدا کے درمیان کوئی پردہ نہیں ہوتا۔ مہذب قومیں اپنے لیئے ہمیشہ عادل حکمرانوں کا انتخاب کرتی ہیں۔ مظلوموں ور غریبوں کی داد رسی ان کی اولین ترجیح ہوتی ہے۔ وہ کسی بھی صورت ظالموں کی حمایت نہیں کرتے۔

پوری دنیا میں جتنے بھی ممالک ہیں چاہے وہ عالم اسلام ہو یا مغربی دنیا، یورپی یونین ہو یا سمندری جزیروں کے باشندے ، یا پھر وہ دنیا کے نقشے پہ ابھرا ہوا کوئی بھی ملک ہو ، ہر سلطنت کی اپنی ثقافت ، اپنے اپنے رہن سہن کے طریقے ، مختلف قاعدے اور نظم و ضبط اور علیحدہ علیحدہ قوانین ہوتے ہیں۔ اور تعزیرات کے تحت سزائوں کے شیڈول اور دورانیے بھی مختلف ہوتے ہیں ۔ مگر ترقی کی شاہرہ پر وہی ممالک گامزن ہوتے ہیں جو جرائم سے پاک ہوتے ہیں۔

امن و امان کی فضا ان ریاستوں میں قائم ہوتی ہے۔ جہاں عدل وانصاف کا بول بالا ہو ، عدلیہ آزاد ہو اور قانون کی لاٹھی چھوٹے ، بڑے ، امیر و غریب ، وڈیرے، جاگیردار اور جرم کے مرتکب افسر شاہی پر یکساں برسے اور انہیں قانون کی گرفت میں لا کر اپنے منتقی انجام تک پہنچائے۔

اس کے برعکس جن ملکوںکے اندر قانون میں رنگینی ہوتی ہے اور قانون صرف اور صرف غریبوں اور ناداروں پر لاگو ہوتا ہے جہاں ملزموں کو سزائیں نہ دی جاتی ہوں بلکہ سزائیں معاف کر کے ان کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہو، جہاں اندھیر نگری ہو، جہاں جاگیرداروں اور وڈیروں کی شاہی قائم ہو، جہاں میڈیا کا گلا دبا کر ریاست کے چوتھے ستون کو گرانے کی سازشیں شروع ہوں، جہاں ہر محکمہ کریشن کا شکار ہو ، جہاں توانائی بحران ہو اور قتل و غارت گری کا بازار گرم ہو ، لاقانونیت عروج پر ہو ، اور پولیس سیاسی آقاوں کی پرستش کرتی ہو وہاں نت نئی ظلم و جبراور بربریت کی داستانیں جنم نہیں لیں گی تو اور کیا ہو گا؟ اور ایسے ہی حالات کا شکار (جن کا ذکر اوپر کر چکا ہوں) ۔ ہمارا وطن عزیز پاکستان ہے جہاں جاگیردار اپنی دولت اور طاقت کے بل بوتے پر غریبوں پر ظلم و تشدد کی دھجیاں اڑا کر دندناتے پھرتے ہیں انہیں ہماری پولیس گرفتار کرنے سے گریزاں ہے۔

آپ کی توجہ پنجاب کے شہر گجرات کے نواحی چک بھولا میں رونما ہونے والے واقعہ کی طرف مبذول کرانا چاہتا ہوں ۔ جہاں مقامی زمیدار غلام مصطفی عرف خاکوانی نے 10 سالہ تبسم شہزاد پر ذاتی رنجش کی بناء پر ظلم کر کے اک نئی تاریخ رقم کر دی ہے۔ اس واقعے پر ہر غیر تمند شہری کی آنکھ اشکبار ہے ۔ گجرات کی پولیس نے تو مقامی جاگیردار کے خلاف کاروائی کرنے سے بھی انکار کر دیا تھا ۔ حیرت کی بات ہے کہ معصوم بچے کے بازو کاٹنے والے درندہ صفت کو پولیس پارٹی کی حمایت حصل تھی۔

Shahbaz Sharif

Shahbaz Sharif

یہ تو خدا بھلا کرے ہمارے خادم اعلیٰ پنجاب محمد شہباز شریف کا جنہوںنے نہ صرف اس واقع کا از خود نوٹس لیا بلکہ خود وہاں پہنچے اور معصوم بچے کی عیادت کرتے ہوئے 10 لاکھ امدادکا اعلان بھی کیا اور F.I.R تاخیر سے درج کرنے پر ڈی۔پی۔او۔ گجرات کو او۔ایس۔ڈی جبکہ ڈی۔ایس۔پی، ایس۔ایچ۔او اور ایم ایس کو عہدوں سے برطرف کر دیا۔ جس سے گرات پولیس کی نااہلی کھل کر سامنے آگئی۔

ضرورت اس امر کی ہے ہرواقعے کا نوٹس وزیراعلیٰ پنجاب نے ہی لیاتو پھر پولیس کس چیز کی مراعات لے رہی ہے۔ ۔ پولیس کو منصفانہ طریقہ اپنانا ہو گا تب جا کر خطے میں امن و امان قائم ہو گا اور ایسے انسانیت سوز واقعات میں کمی آئی گی۔ مگر افسوس ناک بات یہ ہے کہ گجرات سابق صدر فضل الٰہی کا شہر ہے ۔ انقلاب کے خواہاں چوہدری برادران نے وہاں جانے کی زحمت تک نہیں کی۔

مشہور بزرگ دین شاہ دولہ دریائی کی دعائوں کے طفیل پنجاب کے مردم خیز اور پررونق ، میجر عبدالعزیز بھٹی شہید ، عنایت حسین بھٹی، سوہنی مہیوال اور مولانا ظفر علی خان کے شہر دریائے چناب کے کنارے واقع سرسبز وشاداب گجرات کی فضائیں بھی اس انسانیت سوز واقعے پر سوگوار ہیں اور ماتم کناں ہیں۔ آئیں ہم سب مل کر ظالموں کے خلاف آواز بلند کر کے اپنے ملک میں امن و امان کی فضاء قائم کرتے ہیں۔ بقول شاعر۔

کچھ نہ کہنے سے بھی چھن جاتا ہے اعزاز سخن
ظلم سہنے سے بھی ظالم کی مدد ہوتی ہے۔

Syed Mubarak Ali Shamsi

Syed Mubarak Ali Shamsi

تحریر : سید مبارک علی شمسی
ای میل۔۔۔۔۔۔mubarakshamsi@gmail.com