عام آدمی کو خاص بننے کی تمنا

Allah

Allah

تحریر:اے حق لندن
انسانی فطرت میں یہ چیز شامل ہے کہ ایک عام آدمی جب بھی موقع پاتا ہے تو خاص آدمی بننے کی کوشش کرتا ہے۔جبکہ کچھ انسان ایسے ہوتے ہیں جنہیں اللہ نے خاص چُن لیا ہوتا ہے۔اُن کے خاص چُنے جانے کی وجہ اُس کے اندر کی وہ چند خوبیان ہوتی ہیں جو اللہ نے اُن کے اندر ڈالی ہوتی ہیں۔ اِسی طرح کچھ لوگ اللہ نے ایسے بھی چُن رکھے ہوتے ہیں جنہیں اللہ خاص بننے نہیں دیتا اور اُس کی وجہ اُن لوگوں میں موجود وہ خامیاں ہوتی ہیں جن سے دوسرے انسان متاثر ہوتے ہیں۔ انسان کا دوسرے انسان کو متاثر کرنا یا نقصان پہنچانے کی کوشش کرنا وہ واحد عمل ہے جو اللہ کو سب سے زیادہ نا پسند ہے۔

ہمارے ملک پاکستان کی جمہوریت میں پہلا سبق یہ ہوتا ہے کہ” دوسرے کو نقصان پہنچائواور خود آگے آئو”۔سیاستدانوں کی زندگیوں پر نظر دوڑائیں تو کوئی ایک بھی ایسا نہیں ہوگا جو کسی دوسرے کی ٹانگ کھینچے بِنا آگے آیا ہو۔کرپشن کرنا، سرعام لوٹ مار کرنابھی لوگوں کو نقصان پہنچانے کی قسمیں ہیں۔عام انسان کی عام زندگی سے خاص انسان کی خاص زندگی تک کا سفر کسی انسان کے خاص بننے کے بعد تو عام ہی لگتا ہے۔

مگر اس انسان سے پوچھا جائے کہ اُس نے خاص مقام تک پہنچنے کے لئے کتنے عام لوگوں کو روندا ہے۔تو کوئی بھی رحم دل انسان اس سفر کو طے کرنے سے انکار کر دے گا۔لیکن جسے اقتدار اور طاقت کی لت لگ جائے تو وہ یقینا اُس سے بھی بُرے انداز سے لوگوں کو روندتا ہوا خاص بننے کی کوشش میں لگ جائے گا۔

پاکستان کی طرح دُنیا کے مشہور و معروف شہر لندن میں بھی رہنے والی پاکستان کمیونٹی کے خاص لوگ کچھ اسی طرح لوگوں کو روندتے ہوئے خاص بننے ہیں۔جنہیں اللہ نے چُنا اُنہیں کسی کو روندنے کی ضرورت نہیں پڑی اوراُن پر دُنیا بھر کے سامنے اُن پر اُنگلی اُٹھائی جائے ،دُنیا یقینا اُنگلی اُٹھانے والے کو ہی بُرا کہے گی نہ کہ اُس خاص شخص کو۔جبکہ جو لوگ عام سے خاص بنے اُنہیں اکثر راہ جاتے ہوئے بھی لوگ بُرا بھلا کہہ دیتے ہیں۔ایسے خاص لوگوں کے لئے یہ کالم لکھ رہا ہوں جو یہ سمجھتے ہیں کہ ہم مرنے کے بعد سیدھا فرشتوں کے ذریعے اللہ تعالیٰ سے مُک مکاکر لیں گے۔

نعوذبااللہ۔ ایسا ہر گز نہیں ہوگا، معصوم اور بے گناہ انسانوں کو دُکھ اور تکلیف پہنچانے والے بھی کبھی خدا کے دوست ہو سکتے ہیں؟انسانیت کی خدمت کرکے تو اللہ تعالیٰ سے معافی مانگتے ہوئے مُک مکا کیا جا سکتا ہے البتہ انسانوں کو دُکھ دے کر اللہ سے مُک مکا کرنے والوں کو منہ کی ہی پڑ سکتی ہیں۔ہر انسان اپنی دھن میں مست زندگی گزار رہا ہے۔میرا یہ پیغام ہے اُن خاص لوگوں کے نام کہ”عام انسان کی زندگیوں سے کھیلنا بند کریں۔

Common Man

Common Man

ہر خاص انسان اپنی دھن میں محنت کے ساتھ کام کرے تو کامیابی ہر ایک کے قدم چومے گی۔لیکن لوگوں کو نقصان پہنچانے کے بعد وقتی طور پر کامیابی مل جائے تو ایک الگ بات ہے البتہ مستقل کامیابی اور سکون کبھی میسر نہیں آسکتا۔میرا یہ کام میرے دل کی گہرایوں سے اُن بھائیوں، دوستوں، دشمنوں اور ہر اُس خاص شخص کے لئے پیغام ہے کہ خدا را اپنا اُلو سیدھا کرنے کے لئے عام انسان کو بے سکون مت کرو۔ سکونِ قلب و جان چاہتے ہو تو اپنی مستی میں اپنے راستہ پر چلتے رہو اور کسی کو دُکھ نہ دو۔

A Haq

A Haq

تحریر:اے حق لندن