ملک بھر میں گیس کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنایا جائے، سپریم کورٹ

Gas

Gas

اسلام آباد (جیوڈیسک) اسلام آباد لوڈشیڈنگ کیس کی سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ بجلی اور گیس چوری کرنے والوں کی سزا ادائیگی کرنے والوں کو نہ دی جائے۔ عدالت نے چاروں صوبائی چیف سیکرٹریز، سیکرٹری خزانہ اورسی ای اوکے ای ایس سی کو بھی طلب کرلیاہے۔چیف جسٹس افتخار محمد چودھری کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے لوڈشیڈنگ کیس کی سماعت کی۔

عدالتی حکم میں کہا گیا ہے کہ چیف سیکرٹریز خود یا ایڈووکیٹ جنرلز کے ذریعے پیش ہوں۔ گیس چوری پر پوری طرح قابو نہیں پایا گیا، گیس کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنایا جائے۔ عدالت نے سوئی سدرن اور سوئی ناردرن کے ایم ڈیز سے گیس فراہمی اور چوری کی تفصیلات بھی طلب کرلی ہیں۔

چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ مینجمنٹ میں بہتری سے بجلی کی ضرورت پوری کی جاسکتی ہے۔ کے ای ایس سی بتائے کہ اس کی پیداواری گنجائش کتنی ہے اوروہ اپنے وسائل سے کتنی بجلی پیدا کر رہا ہے۔ کے ای ایس سی اپنی ضرورت کے مطابق بجلی پیدا کر رہا ہے تو یہ قابل ستائش ہے۔چیف جسٹس نے کہاکہ وزیراعظم توانائی پالیسی کا اعلان کرنے والے ہیں، بعد میں سماعت 2 ہفتے کیلئے ملتوی کر دی گئی۔