پاکستان میں کوئلے کے ذخائر کو استعمال میں نہیں لایا گیا،اجمل فاروق

Coal

Coal

پاکستان (جیوڈیسک)آل پاکستان ٹیکسٹائل پراسیسنگ ملز ایسوسی ایشن کے مرکزی چیئرمین میاں اجمل فاروق اور ریجنل چیئرمین رضوان اشرف نے کہا ہے کہ افریقہ ، پولینڈ، چائنا، آسٹریلیا، قزاقستان، بھارت ، چیکو سلواکیہ جیسے ممالک میں 60 سے 93 فیصد بجلی کی پیداوار کوئلے سے حاصل کی جارہی ہے ، پاکستان میں بھی کوئلہ سے بجلی پیداکرنے کی پیداواری صلاحیت 2300میگاواٹ سے استفادہ کرکے سستی بجلی پیداکی جاسکتی ہے۔ اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ افسوس کا مقام ہے کہ 66برس میں بھی پاکستان کے کوئلے کے ذخائر کو استعمال میں نہیں لایا گیا۔

انہوں نے کہا دنیا بھر میں کوئلے کے ذریعہ بجلی بنانے کو ترجیح دی جاتی ہے اور تقریبا 41فیصد بجلی کوئلے سے حاصل کی جا رہی ہے۔ یہ گزشتہ دس سالوں کے دوران بجلی کی مجموعی پیداوار کا 50فیصد ہے جبکہ پاکستان میں ساری توجہ فرنس آئل پر چلنے والے پاور پلانٹس کی تعمیر پر دی گئی۔ جس کے نرخ ناقابل برداشت ہو چکے ہیں اور ان سے تیار ہونے والی بجلی بھی بے حد مہنگی پڑتی ہے۔

انہوں نے کہا کوئلے سے حاصل ہونے والی بجلی بے حد سستی ہے۔ پاکستان میں کوئلہ سے بجلی پیدا کرنے کی پیداواری صلاحیت2300 میگاواٹ ہے مگر اس سے انتہائی کم بجلی پیدا کی جا رہی ہے جو صرف6 میگاواٹ کے قریب ہے جبکہ پاکستان میں موجود کوئلہ کے ذخائر سے روزانہ کم از کم 50ہزار میگا واٹ بجلی پیدا کی جاسکتی ہے۔