راوی کنارے شہر

Lahore

Lahore

تحریر : روہیل اکبر

ہمارا ملک دنیا کا حسین ترین اور خوبصورت ملک ہے مگر بدقسمتی سے پاکستان پر قابض چند خاندانوں نے اسے قائد کا پاکستان بننے نہیں دیااور مفاد پرست عناصر نے اسے تباہ کرنے کی ہر ممکن کوشش کی وزیر اعظم عمران خان نے راوی کنارے نیا شہر آباد کرنے کا اعلان کیا تو وزیر اعلی سردار عثمان بزدار نے اس پراجیکٹ کو عملی جامہ پہنانے کے لیے کام شروع کردیایہ پراجیکٹ نہ صرف لاہور کی خوبصورتی کا سبب بنے گا بلکہ پاکستان کی پہچان بھی بنے گا پنجاب حکومت کی کوشش ہے کہ یہ پراجیکٹ جلد سے جلد پایہ تکمیل تک پہنچ مگر یہ ابھی تک سست روی کا شکار ہے۔

لاہور ہائیکورٹ نے تو اس منصوبے کو بند کرنے کا فیصلہ دیدیا تھا مگر خوش قسمتی سے سپریم کورٹ نے راوی اربن ڈویلمپنٹ منصوبے سے متعلق لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ کالعدم قرار دیتے ہوئے پنجاب حکومت کو کام جاری رکھنے کی اجازت دیدی ساتھ ہی جسٹس اعجازالاحسن نے کیس کی تیاری نہ کر کے آنے پر پنجاب حکومت کی قانونی ٹیم کی سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ آپ لوگوں کو یہ ہی علم نہیں کہ کیس ہے کیا؟بلکل اسی طرح محسوس ہوتا ہے کہ اس پراجیکٹ پر کام کرنے والے بھی اس منصوبہ کی افادیت سے بے خبر ہیں اور وہ صرف اپنی مراعات پر خوش ہیں جبکہ کچھ افراد پراپرٹی مافیا سے مل کر لمبی لمبی دیہاڑیاں لگانے میں بھی مصروف ہیں یہ منصوبہ اصل میں ہے کیا؟راوی ریور فرنٹ اربن ڈویلپمنٹ پراجیکٹ (RRUDP) لاہور پاکستان میں ایک شہری ترقیاتی میگا پروجیکٹ ہے جو شمال مشرق سے جنوب مغرب کی سمت میں دریائے راوی کے ساتھ ساتھ چلتا ہے اس میں منصوبہ میں جو زمین استعمال کی جائیگی وہ 102,074 ایکڑہے یہ منصوبہ تین مرحلوں میں مکمل ہونا ہے اور پھر جیسے ہی ہی منصوبہ مکمل ہوگا تو یہ دنیا کا سب سے بڑا ریور فرنٹ منصوبہ ہوگا۔

راوی ریور فرنٹ پر شہری ترقی کا خیال سب سے پہلے 1947 میں اس وقت کے ڈپٹی کمشنر لاہور نے تجویز کیا تھا 2013 میں حکومت پنجاب نے اس منصوبے پر غور شروع کیا جو ابتدائی طور پر 18,000 ہیکٹر (44,000 ایکڑ) پر پر مشتمل تھا مگر اس منصوبے کا افتتاح 7 اگست 2020 کو وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے کیا تھا اس کا 70% رقبہ 60 لاکھ درخت لگانے کے لیے مختص ہے پہلے مرحلے میں ایک جھیل، ایک شہری جنگل، تین بیراج اور چھ واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹس بنائے جائیں گے ضرورت پڑنے پر اپر چناب کینال اور بی آر بی کینال کو ترقی کے لیے پانی فراہم کرنے کے لیے استعمال کیا جائے گا اس منصوبے کا ماسٹر پلان دریائے راوی کے کنارے ایک جدید شہر کی تعمیر کا ہے جس میں 1.4 ملین رہائشی یونٹس کے ساتھ گرین بیلٹس، پیئرز اور بورڈ واکس شامل ہوں گے شروع شروع میں راوی ریور فرنٹ کی ترقی کو تنقید کا سامنا کرنا پڑا ہے کہ یہ لوگوں کی زمین پر زبردستی قبضے کا منصوبہ ہے جس سے ہزاروں کسان بے گھرہوسکتے ہیں جبکہ کچھ کا خیال یہ بھی تھا کہ حکومت اپنے خاص افراد کو نوازنے کے لیے یہ منصوبہ شروع کررہی ہے شروع شروع میں اس منصوبہ کے حوالہ سے بہت سے بے ضابطگیاں بھی پائی گئی جبکہ اس منصوبہ کی تعمیر کے لیے بنائی گئی اتھارٹی میں رکھے جانے والے افراد پر بھی کڑی تنقید ہوئی کہ ایسے افراد کو رکھا گیا ہے۔

جنکا اس حوالہ سے کوئی تجربہ نہیں یہی وجہ ہے کہ یہ منصوبہ ابھی تک تاخیر کا شکار ہے اگر یہاں بھی کام کے بندے لگادیے جائیں تو کوئی شک نہیں کہ یہ منصوبہ بھی پایہ تکمیل تک پہنچ جائے گاتجربہ کار اور اپنے فن میں ماہر افراد کی ہمارے ہاں کوئی کمی نہیں ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ ہم انہیں وہی کام دیں جو وہ کرسکتے ہوں فضول میں سرکاری پیسوں پر عیاشی کرنے والے تو پہلے ہی ہمارے پاس بہت زیادہ ہیں اور انہی افراد کی وجہ سے ہمارے ادارے تباہ و برباد ہوئے ہم اس وقت دنیا میں ایک مقام رکھتے ہیں اور یہ انہی افراد کی بدولت ہے جو ملک قوم کے لیے کچھ کرنا چاہتے تھے انہی افراد کی کوششوں اور کاوشوں سے اس وقت پاکستان پہلا اور واحد اسلامی ملک ہے جو ایٹمی طاقت بنا پاکستان میں دنیا کا چوتھا بڑا براڈ بینڈ انٹرنیٹ سسٹم موجود ہے پاکستان کے پاس دنیا کی چوتھی بڑی فوجی طاقت موجود ہے ایئر کموڈور محمّد محمود عالم نے ایک منٹ کے اندر اندر انڈیا کے 5 جنگی جہاز مار گرائے تھے جن میں پہلے چار جہاز صرف 30 سیکنڈز میں تباہ کیے جو کہ ایک عالمی ریکارڈ ہے۔

پاکستان کو اگلے گیارہ ممالک کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے گیارہ ممالک جو بریکس کی فہرست میں شامل ہیں جو کہ اکیسویں صدی کی بڑی معیشت حاصل کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں ہمارے پاس دنیا کی دوسری اور نویں بلند ترین پہاڑی چوٹیاں کے ٹو اور ننگا پربت پاکستان میں ہیں پاکستان آبادی کے اعتبار سے دنیا کا چھٹا بڑی آبادی والا ملک ہے پاکستان مسلمان اکثریت کے اعتبار سے دوسرا بڑا ملک ہے تربیلا ڈیم رقبے کے لحاظ سے دنیا کا سب سے وسیع اور دوسرا بڑا ڈیم ہے ایدھی فاونڈیشن دنیا کی سب سے بڑی ایمبولینس نیٹ ورک چلاتی ہے براعظم ایشیا کا سب سے بڑا ریلوے سٹیشن پاکستان میں واقع ہے۔

سائنسدانوں اور انجینیرزکے لحاظ سے دنیا کا ساتواں بڑا خطہ ہے دنیا کی بہترین فضائی فورسز میں پاکستانی ماہر پائلٹس کا شمار ہوتا ہے دنیا کی سب سے گہری سمندری بندرگاہ گوادر ہے پوری دنیا کے تقریباً 50 فیصد فٹ بالز پاکستان میں بنتے ہیں پاکستان اور چین کو جوڑنے والی شاہراہ قراقرم دنیا کی سب سے بڑی ہموار بین الاقوامی سڑک ہے دنیا کی دوسری بڑی نمک کی کان کھیوڑہ پاکستان میں ہے دنیا کا بلند ترین پولو گراونڈ شندور پاکستان میں واقع ہے جس کی بلندی 3700 میٹرہے پاکستان میں دنیا کا سب سے بڑا نہری نظام ہے دنیا میں سب سے زیادہ پہاڑی سلسلے پاکستان میں ہیں ہمارے پاس کسی چیز کی کمی نہیں اگر ہے تو صرف نیت کی کمی کا سامنا ہے وہ بھی اس صورت میں جب کسی نااہل کو اہم سیٹ پر تعینات کردیا جاتا ہے۔

Rohail Akbar

Rohail Akbar

تحریر : روہیل اکبر