پاکستان میں پھنسے ہزاروں برطانوی شہری حکومت پر برہم

Passport

Passport

اسلام آباد (اصل میڈیا ڈیسک) ہزاروں پاکستانی نژاد برطانوی شہری کورونا کی وبا کی وجہ سے پاکستان میں پھنس گئے ہیں اور اپنی برطانیہ واپسی کے لیے وہ لندن حکومت کی کوششوں سے بالکل مطمئن دکھائی نہیں دیتے۔ کچھ تو اسے نسل پرستی سے بھی تعبیر کر رہے ہیں۔

برطانیہ کا دفتر برائے خارجہ امور اور دولت مشترکہ اس وقت پاکستانی نژاد برطانوی شہریوں کی جانب سے شدید تنقید کا شکار ہے۔ پاکستان میں موجود ان برطانوی شہریوں کا کہنا ہے کہ ان کے ملک نے انہیں لاوارث چھوڑ دیا ہے۔ کئی شہری یہ سمجھتے ہیں کہ برطانوی حکومت کا انہیں پاکستان سے واپس برطانیہ پہنچانے کے حوالے سے تاخیری رویہ ‘نسل پرستانہ‘ ہے۔

ایسے ہزاروں برطانوی شہری اس وقت پاکستان میں پھنس کر رہ گئے تھے، جب اسلام آباد حکومت نے 21 مارچ کو لاک ڈاؤن کا اعلان کرتے ہوئے عمومی مسافر پروازوں پر پابندی عائد کر دی تھی۔ مارچ کی 23 تاریخ کو برطانوی وزیر خارجہ ڈومینِک راب نے تمام برطانوی شہریوں کو فوری طور پر وطن واپس لانے کا اعلان کیا تھا۔ اب تاہم حکام کا کہنا ہے کہ ایسے تمام ممالک جہاں برطانوی شہری موجود ہے لیکن جن کی فضائی حدود بند ہیں، لندن میں محکمہ خارجہ کے اہلکار ایسے برطانوی شہریوں کی مدد کے لیے ہمہ وقت کام کر رہے ہیں۔

برطانوی حکومت نے کئی ممالک سے اپنے شہریوں کی واپسی کے لیے خصوصی پروازوں کا انتظام کیا ہے، جن میں نیپال، بھارت اور پیرو بھی شامل ہیں۔ اس آپریشن کے لیے بانوے اعشاریہ آٹھ ملین ڈالر کی خطیر رقم استعمال کی گئی، تاہم پاکستان فضائی سفر کے لیے اس چارٹرڈ اسکیم میں شامل نہیں تھا۔ اسی وجہ سے ہزاروں برطانوی شہری پاکستانی فضائی کمپنی پی آئی اے کے رحم کرم پر چھوڑ دیے گئے، جب کہ پاکستان کی قومی فضائی کمپنی تواتر سے نہ صرف اپنی پروازیں معطل کرتی رہی بلکہ اس نے صارفین کی رقوم کی واپسی سے بھی انکار کر دیا۔

لیڈز سے تعلق رکھنے والی لکھاری سہیمیا منظور خان نے اسی تناظر میں ایک مہم شروع کی، جس میں اس معاملے سے نمٹنےکی حکومتی کوششوں پر تنقید کی گئی۔ انہوں نے اس مہم میں لوگوں کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ اراکین پارلیمان کو اپنی صورت حال سے براہ راست آگاہ کریں۔ اس مقصد کے لیے ایک خودکار ای میل سروس شروع کی گئی تھی، جس میں متاثرہ افراد کو تمام تر معلومات فراہم کی جاتی ہیں۔ اسی تناظر میں قریب 75 اراکین پارلیمان نے ڈومینک راب سے اس بابت فوری اقدامات کا مطالبہ بھی کیا۔ اراکین پارلیمان کی جانب سے وزیرخارجہ سے مطالبے کی اس مہم کی قیادت شیڈو وزیر ایملی تھونبری کر رہی ہیں۔ ان کے بقول، ”دنیا کے دیگر ممالک میں قائم برطانوی سفارت خانوں کے برعکس پاکستان میں برطانوی ہائی کمیشن مثالی اقدامات نہیں کر رہا اور برطانوی شہریوں کے لیے خدمات کی انجام دہی کی بابت ہمیں تشویش ہے۔‘‘ تھونبری نے راب کے نام اپنے مراسلے میں لکھا ہے کہ وہاں لوگوں کے پاس پیسے ختم ہو رہے ہیں اور انہیں درست معلومات اور تعاون کے حصول کے سلسلے میں کئی طرح کی مشکلات کا سامنا ہے۔

اسی طرح مغربی یارک شائر کے اقبال حسین کا گزشتہ برس سرطان کا آپریشن ہوا تھا اور تب سے پلاسٹک کی ایک ایسی تھیلی ان کے جسم کے ساتھ لگی ہوئی ہے، جس میں ان کے جسم سے خارج ہونے والے فاضل مادے جمع ہوتے رہتے ہیں۔ اس کے علاوہ انہیں مختلف قسم کی ادویات کی ضرورت بھی پڑتی ہے۔ ان کے بقول، ”میں نے تقریباﹰ روزانہ ہی برطانوی سفارتی حکام سے رابطہ کیا۔ اور مجھ سے جھوٹے وعدے ہی کیے گیے۔‘‘ اقبال حسین کو اب یہ تھیلے دھو کر دوبارہ استعمال کرنا پڑ رہے ہیں۔

پاکستان میں برطانوی ہائی کمشنر کرسٹیان ٹرنر نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ”ہم اکیس مارچ سے پاکستان میں پھنسے ہوئے برطانوی شہریوں کی واپسی میں تعاون کر رہے ہیں۔ یہ ایک غیر متوقع اور ہنگامی صورتحال ہے اور ہماری پوری کوشش ہے کہ اگلے ہفتے مزید افراد کو ان کے گھر پہنچایا جائے۔‘‘ انہوں نے مزید بتایا کہ اب تک سترہ ہزار پاکستانی نژاد برطانوی شہریوں کو واپس برطانیہ بھیجا جا چکا ہے۔