پارا چنار دھماکوں میں ہلاکتوں کی تعداد 50 ہو گئی

Para Chinar

Para Chinar

پارا چنار میں یکے بعد دیگر ے ہونے والے دو دھماکوں میں جاں بحق افراد کی تعداد 50 ہو گئی ہے۔ واقعے میں 187 زخمی بھی ہوئے جن میں سے30 کی حالت نازک ہے۔ زخمیوں کو پشاور منتقل کر نے والی پولیس موبائل پر فائرنگ سے دو اہلکار زخمی ہو گئے۔ تحفظ عزاداری کونسل نے ملک بھر میں 3 روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔

دہشتگرد بیگناہ شہریوں کا خون بہانے میں مصروف ہیں۔ پارا چنار میں لوگ افطاری کی تیاری کر رہے تھے کہ دہشتگردوں نے بربریت کی انتہا کر دی۔ اسکول روڈ پر پندرہ سالہ خودکش بمبار نے خود کودھماکے سے اڑا لیا جس کے چند منٹ بعد کرمی بازار میں بھی دھماکا ہو گیا اور دیکھتے ہی دیکھتے جیتے جاگتے انسان موت کی وادی میں چلے گئے۔ ہر طرف لاشیں اور زخمیوں کی آہ وپکار قیامت صغری کا منظر پیش کرتی رہی۔ دھماکوں کے زخمیوں کو پارا چنار کے سرکاری اسپتال لیجایا گیا جہاں سے شدید زخمیوں کو پشاور منتقل کر دیا گیا۔

پولیٹکل انتظامیہ کے مطابق دونوں دھماکے خودکش تھے۔ واقعہ کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا جبکہ مین بازار میں کرفیو نافذ کر دیا گیا۔ پاراچنار دھماکے کے زخمیوں کو پشاور منتقل کرنے والی پولیس موبائل پربھی فائرنگ سے دو اہلکار زخمی ہو گئے جھیں لیڈی ریڈنگ ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔ وزیراعظم میاں نوازشریف نے پارا چنار دھماکوں کی مذمت کرتے ہوئے قیمتوں جانوں کے ضیاع پر افسوس کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے زخمیوں کو ہر ممکن طبی امداد کی فراہمی یقینی بنانے کی ہدایت بھی کی۔