جرائم پیشہ عناصر اور تعلیمی نظام

Criminals

Criminals

کوئی بھی معاشرہ اپنے آپ کو معمولی اور سنگین جرائم سے قطعی پاک قرار نہیں دے سکتا۔ بعض عرب ممالک جہاں مجرموں کوسخت ترین سزائیں دی جاتی ہیں جن میں سرے عام موت کی سزابھی شامل ہے وہ بھی آج تک جرائم سے مکمل طور پر پاک نہیں ہو سکے کڑے احتساب اور قانون کی فوری گرفت کے باوجود جرائم کا ارتکاب یہاں تک کے خواتین کی بے حرمتی ،ڈاکہ زنی ،لوٹ مار اور بد عنوانی کا سلسلہ جاری ہے اس حوالے سے میرے ماموں جا ن امتیاز علی شاکر جو میرے استاد بھی ہیں کا کہنا ہے کہ سٹریٹ کرائمز کے خاتمے کے لیے موئثر حکمت عملی اپنانے کی ضرورت ہے، آئین و قانون کی حکمرانی بلا شبہ اچھی بات ہے اور ایک اچھے اصول کا درجہ رکھتی ہے۔

جب تک بھتہ مافیہ اور ان کی سر پرستی کرنے والوں کا کڑا احتساب نہیں کیا جاتا ،جرائم پیشہ عناصرکی حوصلہ افزائی کرنے والوں کو بھی قانو ن کی گرفت میں نہیں لایا جاتاہر قسم کی نسلی یا لسانی سیاسی اور گروہی وابستگی کو پس پشت ڈالتے ہوئے مجرموں کو کیفر کردار تک نہیں پہنچایا جاتا ،اس وقت تک معاشرے کو سنگین جرائم اور جرائم پیشہ عناصرسے پاک نہیں کیا جا سکتا صرف اسی صورت میں عوام کے جان و مال کے تحفظ کے احساس کو تقویت دی جا سکتی ہے اور انہیں امن و سلامتی کی نعمت سے بہر ہ ور کیا جا سکتا ہیں

Pakistan

Pakistan

حکومت کو اس طرف خصوصی توجہ دینی چاہیے اور خاص طور پر جرائم پیشہ عناصر اور مجرموں کی سر پرستی کرنے والوں کو خواہ وہ کس قدر بااثر ہی کیوں نہ ہوں ،قانون کے کٹہرے میں لایا جائے تا کہ امن و سلامتی کی فضا پیدا کی جا سکے۔اس کے ساتھ ساتھ ہمیں اپنے پیارے پاکستان میں امن بحال اور برقرار رکھنے کے لیے عوام میں شعور پیدا کرنا ہو گا۔جرائم کے ساتھ ساتھ ہم اور بھی بہت سی مشکلوں کا سامنا کر رہے ہیں۔توانائی بحران، مہنگائی ،مسلسل ناانصافی، بے روزگاری ، ناکارہ تعلیمی نظام ،دہشت گردی ، لود شیڈنگ ،سیلابی اوردھرنا سیاست یہ سب ہمارے ملک کی جڑیں کھوکھلی کر رہے ہیں۔

اگر ہمیں تکلیف دہ غربت اور مسلسل بڑھتے قرضوں سے نجات حاصل کرنی ہے،تو یہ ضروری ہے کہ ہم مضبوط تعلیمی پالیسی اختیار کریں اور یہ تب ہی ممکن ہو سکے گاجب ہم اپنے آئین میں اس طرح ترمیم کریں کے ہمارے پالیسی ساز ادارے اس بات پر مجبور ہو جائیںکہ وہ ملک میں تعلیم کے فروغ کو اپنی اولین ترجیح قرار دیںاس کو عمل میں لائیں ۔ملائشیا تیس سال سے اپنے بجٹ کا 30فیصد حصہ تعلیم وتربیت کے اخراجات پورے کرنے میں صرف کر رہا ہے جبکہ ہم ابھی بہت پیچھے ہیں۔

ہمارے ہاں خیراتی منصوبوں پرتواربوں خرچ کر دیئے جاتے ہیں مگر افسوس کہ تعلیم جو ترقی کی ضمانت دیتی پر توجہ نہیں دی جاتی۔ہمیں بھی آئینی طریقہ کار کے ذریعہ یہی لائحہ عمل اختیار کرنا چاہئے۔پاکستان کے لئے اپنی موجودہ مشکلات غربت،کرپشن اور ملک میں امن وامان کی خراب صورتحال سے نکلنے کی واحد صورت یہ ہے کہ ہم تعلیم کے فروغ کو نصب ا لعین بنائیں۔ہمارے ملک میں 9کڑور نوجوان ایسے ہیں جن کی عمریں 19سال سے کم ہیں ۔ ان میں بے پناہ صلاحیت ہے کہ وہ اپنی محنت اور مشقت سے وطن عزیز کو ترقی یافتہ ممالک کی صف میں لا کھڑا کریں۔یہ ایسے قیمتی پتھرجنہیں تراش کر ہیرے بنانے کی ضرورت ہے ۔ان پتھروں کوتراشنے کیلئے مظبوط ،شفاف اور یکساں نظام تعلیم مربوط کرنا ہوگا

Sajjad Ali Shakir

Sajjad Ali Shakir

تحریر۔سجاد علی شاکر
sajjadalishakir@gmail.com.03226390480