سیاسی آمریت اور خاندانی بادشاہت

Load Shedding

Load Shedding

قوم جانتی ہے کہ سیاسی آمریت اور خاندانی بادشاہت کے دور میں ملک ترقی نہیں کر سکتا۔ اور اگر ترقی کی شاہراہیں طے کرنے کی جستجو کر بھی لے تو بقیہ ملکی سیاسی پارٹی شاید ایسا ہونے نہیں دیں۔ تضاد نظر آتا ہے نا کہ یہ جملہ کیوں لکھا گیا۔ کیا ہمارے یہاں ایسا ہی نہیں ہو رہا؟ جو روز میڈیا اور اخبارات کے ذریعے عوام کے ذہنوں میں تازہ بہ تازہ ہے۔ الیکشن سے پہلے لوڈ شیڈنگ ٦ ماہ میں ختم کرنے کے دعوے ٰ کئے گئے مگر اب کہا جا رہا ہے کہ آئندہ الیکشن سے پہلے لوڈ شیڈنگ ختم ہو جائے گا۔

مہنگائی نے غریب عوام کا خون نچوڑ لیا ہے ، ان میں سرِفہرست سرکاری ملازمین ہیں جن کی تنخواہوں میں خاطر خواہ اضافہ ناگزیر ہے۔ مگر پچھلے بجٹ میں بھی انہیں ١٠ فیصد اضافہ دیا گیا اور اس بار جب جمہوری حکومت نے اپنے ایک سال مکمل کر لیئے ہیں تب بھی صرف ١٠ فیصد کی ہی باز گشت سنائی دے رہی ہے۔ حکومت کو چاہیئے کہ سرکاری ملازمین کی دل سے داد رسی کرے اور مہنگائی کے تناسب سے ان کی تنخواہوں میں اضافہ کرے تاکہ یہ سرکاری ملازمین جو دل جمعی سے اپنے فرائض انجام دیتے ہیں انہیں اپنے گھر کی کفالت میں کوئی دقت کا سامنا نہ ہو۔ سابقہ حکومتیں ہو یا موجودہ کوئی کام بھی پایہ تکمیل کو نہیں پہنچاتیں ہیں۔ منصوبے بنائے جاتے ہیں اور پھر اس کے مکمل ہونے سے پہلے ہی نئے الیکشن کا دور دورہ شروع ہو جاتا ہے۔ یوں نامکمل منصوبے ردّی کی ٹوکری کے نظر کر دیئے جاتے ہیں۔

پانی کو ہی لے لیجئے ، آج کل شہرِ قائد میں پانی کی شدید قلت ہو رہی ہے۔ شہرِ قائد کا کوئی ایریا ایسا نہیں جہاں پانی کی کمی کا سامنا نہیں۔ ہمارا اپنا علاقہ تقریباً ڈیڑھ مہینے سے پانی کی بوند بوند کو ترس گیا ہے۔ حب ڈیم میں پانی کا ذخیرہ ختم ہو چکا ہے اور وہاں سے پانی کی سپلائی مکمل بند ہے۔ اس ذخیرہ کے ختم ہونے میں کون سے عناصر ملوث ہیں جنہوں نے اپنے کام میں غفلت کا مظاہرہ کیا ان پر کمند ڈالنے کے بجائے ان کی رسی کو چھوڑ ہی دیا گیا ہے تاکہ وہ مستقبل میں بھی ایسی غلطیاں سر زد کرتے رہیں۔ ظاہر تو یہی ہوتا ہے وگرنہ انہیں گرفت میں لانا چاہیئے۔ اس وقت ملک کو چھوٹے ڈیموں کی اشد ضرورت ہے، ہنگامی بنیادوں پر بارشوں سے پہلے چھوٹے ڈیموں کی تعمیر کی جائے تا کہ مستقبل میں پانی کی کمی نہ ہو ورنہ آنے والے سالوں میں یہاں کے لوگ پانی کو ترس جائیں گے۔

وزیراعظم صاحب نے ١١مئی کو ملک بھر میں لوڈ شیڈنگ نہ کرنے کا عندیہ دیا تھا مگر شہرِ قائد میں لوڈ شیڈنگ ٹائم ٹو ٹائم کیا گیا۔ یہ کیسا حکم ہوتا ہے جہاں ملک کے سب سے بڑے عہدے پر فائز ہونے کے باوجود ادارے ان کی حکم کی تعمیل نہیں کرتے ، ایسے اداروں سے باز پرس ہونی چاہیئے جنہوں نے عوام کی زندگی اجیرن بنا دی ہے۔ شاید اسی کو خاندانی بادشاہت کہتے ہیں جہاں حکم نامہ تو جاری ہوتا ہے مگر اس پر عمل در آمد نہیں کیا جاتا، یا پھر یہی سیاسی آمریت کہلاتا ہے۔

قوم شاید ٹھیک ہی کہتی ہے کہ ملک میں خاندانی سیاست کا دور دورہ ہے ۔ عوام کی ترجمانی تو ہے ہی نہیں، ملک اس وقت توانائی، بے روزگاری، مہنگائی، اور معیشت بدحالی کا شکار ہے جبکہ امن و امان کی صورتحال بھی بدترین سطح پر ہے۔ غریب اور متوسط طبقہ ان تمام برائیوں میں پِس رہا ہے مگر خاندانی سیاست میں اس کا حل نظر نہیں آ تا یا پھر خاندانی سیاست کے بادشاہ گر لوگ اس طرف خصوصی توجہ دینے کے موڈ میں ہی نہیں ہیں۔ کل ڈی چوک ریلی میں بھی اس بارے میں اظہارِ خیال کیا گیا کہ انتخابات اور جمہوریت کے نام پر سیاسی آمریت اور خاندانی بادشاہت کا دور چل رہا ہے، اداروں کے درمیان ٹکرائو، دفاعی اداروں کے ساتھ توہین آمیز سلوک اور بیان بازی آخر کب تک ہوگی، کب تک اصل ایشوز سے پردہ پوشی کی جائے گی اور الزامات در الزامات کا دور دورہ رہے گا؟ وہ دن کب آئے گا کہ جب ہم سب متحد قوم کی طرح ایک پیج پر ہونگے؟ وہ دن کب آئے گا جب ملک سے بنیادی مسائل کا خاتمہ ہوگا؟ وہ دن کب آئے گا جب ملک کے غریب عوام کو ان کا حق دیا جائے گا؟ غریب عوام کی سواری ٹرین ہے جس کے ذریعے لوگ اندرون ملک سفر کرتے ہیں مگر اب یہ سفر بھی ان کے لئے سود مند نہیں رہا۔ دہشت گردی کے ذریعے اس سفر میں بھی غریب عوام گاہے بگاہے موت کے منہ میں جا رہے ہیں۔

Crime

Crime

پورے پاکستان میں جرائم کی شرح جس تیزی سے بڑھ رہی ہے اس کو دیکھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ ہمارے معاشرے نے مجرموں اور بد کرداروں کے آگے سپر ڈال دی ہے اور مرکزی حکومت ہو یا ریاستی حکومتیں ، سب کا کام جرائم پر قابو پانا نہیں بلکہ ان کے اعداد و شمار جمع کرنا رہ گیا ہے اسی کا نتیجہ ہے کہ ملک کے شہری خوف و دہشت کے ماحول میں زندگی گزار رہے ہیں کہ کب راہ چلتے اور کسی علاقے سے گزرتے وہ عادی مجرم کا نشانہ بن جائیں یا ان کے افرادِ خاندان کو کوئی پیشہ ور مجرم لوٹ کا شکار بنا لے۔کہنے کو جرائم آج پوری دنیا میں ہو رہے ہیں اور ہر جگہ ان کی شرح میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے لیکن ہمارے ملک میں جرائم اور دہشت گردی کی رفتار اس کی آبادی میں اضافہ سے کہیں زیادہ ہے۔ جبکہ جرائم کی شرح کے اعداد و شمار کی تلاش کرنے والے ماہرین کہتے ہیں کہ وہ واقعات جن کی تفصیلات عام طور پر معلوم ہو جاتی ہیں وہ حقیقی طور پر رونما ہونے والے واقعات کا بہت کم حصہ ہوتے ہیں اور حکومت ان کی تفصیل جاننے کے بعد واحد کام یہ کرتی ہے کہ پولیس کی بھرتی میں معمولی اضافہ کر دیتی ہے۔

آج ہمارے معاشرے میں قتل و غارت گری، ڈاکہ، لوٹ مار، ڈکیتی، عصمت دری روز مرّہ کا معمول ہیں اس کی بنیادی ذمہ داری انتظامیہ پر عائد ہوتی ہے جن پر سالانہ کروڑوں اربوں روپے خرچ ہوتے ہیں۔ اب یہ تمام برائیوں سے ارضِ وطن کو کون پاک کرے گا، ظاہر ہے کہ موجودہ حکمرانوں پر اس کی ذمہ داری بنتی ہے، وہ کوششیں بھی کرتے ہونگے اور کر رہے ہیں مگر زیادہ تر ناکامی کا سامنا ہوتا ہے۔ عدالتوں سے مجرموں کو سزائیں بہت کم ملتی ہیں یوں یہ تمام برائیاں اہلِ وطن پر آج بھی سر چڑھ کر بول رہی ہیں کہ ” میں ہی ہوں۔

آج ہر شخص اپنی غفلت کو دوسرے کی خطا ثابت کرنے ہی کی کوشش میں رہتا ہے ایسے میں کہاں سے وقت آئے کہ وہ کوششیں جن سے عوام کو ہر طرح محفوظ رکھنا ممکن ہو سکے۔ ضرورت اس اس بات کی ہے کہ دیکھا جائے کون کس کام پر مامور ہے اور وہ کیا کرتا ہے اگر ہر شخص اپنی جگہ مستعد رہے اور ایمانداری سے کام کرے تو کسی کے لئے بھی کوئی تخریبی حرکت کرنا ممکن نہ سکے لیکن ہم خود اپنی اصلاح نہ کرکے دوسروں پر الزام تراشی کو ہی حب الوطنی سمجھنے لگے ہیں ۔آج قوم پریشانی کے عالم میں اپنے زندگی کے شب و روز گزار رہے ہیں، ان کی زندگی اجیرن بن گئی ہے، ملک میں ہر چیزجو عوام کی بنیادی کہلاتی ہیں ناپید ہے، ایسے میں عوام کے سروں پر جو آپ تخت نشین ہیں تو یہ آپ ہی کی ذمہ داری بنتی ہے کہ ان دکھ تکالیف کا سدِّباب کریں۔

اب وقت آ گیا ہے کہ خاندانی آمریت سے اس قوم کو نجات دلایا جائے، اور دوسرا راستہ یہ ہے کہ حکمرانی چاہے ایسی ہی رہے مگر عوام کی بنیادی مسائل حل ہوں۔ بادشاہت کا رواج بیشتر ملکوں میں رائج ہے مگر وہاں عوام کا خاص خیال رکھا جاتا ہے، وہ عوامی کی بنیادی مسائل کو حل کیا جاتا ہے، وہاں عوام خوش باش ہیں، کیا ہی اچھا ہو کہ ہمارے بھی عوام کو خوشیاں میسر آجائے۔ سچ ہے کہ اس قوم کی سچی خوشیاں آج تک نصیب ہی نہیں ہوئی ورنہ یہ قوم تو اپنے رہبروں کو سروں کا تاج بنا کر رکھیں۔ سوچیئے، سمجھئے اور فیصلہ کیجئے جناب!۔

Muhammad Javed Iqbal Siddiqui

Muhammad Javed Iqbal Siddiqui

تحریر: محمد جاوید اقبال صدیقی