پولیو ایک تکلیف دہ مرض

Polio

Polio

تحریر: وقارانساء

مستقبل کے معمار بیساکھیوں کے سہارے کب تک؟ پولیو بچون کا فالج ہے يہ بیماری 1988 ميں تیزی سے پھیلنے والی بیماری کے طور پر سامنے آئی جس نے 125 ممالک کوا پنی لپیٹ مین لیا يہ ایک وائرل –نظر نہ آنے والی بیماری اپنے اندر بہت سے خطرات رکھتی ہے اور جس کو اپنی گرفت مین لے لے اسے عمر بھر کے لئے مفلوج کر دیتی ہے اس بیماری کا وائرس انسان کے خون ميں داخل ہو جاتا ہے اور انسان کے مدافعاتی نظام کو متاثر کرتا ہے اس طرح جسم بیماری سے لڑنے کی طاقت کھو بیٹھتا ہے اور نتیجے کے طور پر انسان اعصابی کمزوری اور فالج کا شکار ہو جاتا ہے

يہ جراثیم دماغ اور حرام مغز مین پہنج کرپیرون کے عضلات کو بیکار کر دیتا ہے يہ وائرس متاثرہ انسان کے فضلے سے پانی مین چلا جاتا ہے اسی لئے ان جگہون پر زیادہ پايا جاتا ہے جہان سیوریج کا نظام بہتر نہین ہوتا پولیو کا مکمل طور پر علاج دریافت نہین کیا جا سکا اگر علامات ملنے پر بروقت ٹیسٹ کروا لیا جائے اور ڈاکٹر سے رجوع کیا جائے تو اس کے نقصانات کو روکا جا سکتا ہے اور مریص کو مرنے سے بچایا جاسکتا ہے

آج اس بیماری کے شکار پاکستان افغانستان اور نائیجیریا ہی رہ گئے ہيں باقی ممالک حفاظتی تدابیر اختیار کر کے اس بیماری کو بھگانے ميں کامیاب ہو گئے ہين ھمارے دیہی علاقے اس سے زیادہ متاثر ہو رہے ہیں پولیو سے بچاؤ کی مہم ساری دنیا مین چلائی جا رہی ہے کہ اس وائرس کے حملے سے پہلے اس کو روکا جاسکے اس کے لئے پوری دنیا ميں پانچ سال تک کے بچون کو قطرے لازمی پلائے جاتے ہیں

Pakistan

Pakistan

بدقسمتی سے پچھلے سال سے پاکستان ميں سب سے زیادہ کیسز ديکھنے مین آئے
عالمی برادری پولیو کے خاتمے کی کوشش کر رہی ہے اس سلسلے میں عالمی ادارہ صحت اور عالمی ادارہ اطفال فعال ہیں- کيا وجہ ہے کہ پاکستان میں بچے اس مرض کاشکار ہو رہے ہيں-يہ نقطہ غور طلب ہے – اس مرض کے لئے بچوں کو ویکسین دی جاتی ہے جس کے استعمال سے ديگر ممالک ميں اس مرض سے چھٹکارہ مل گیا –تو آخر ھمارے ملک میں یہ کیوں کار گر ثابت نہیں ہو رہی-؟

متعلقہ محکمہ اس بات کا ذمہ دار ہے کہ اس بات کی جانچ پڑتال کی جائے کہ صحیح ویکسین بچوں تک پہنچ رہی ہے قطرے پلانے کے لئے ڈيوٹی پر مقرر بندے کیا تمام علاقون تک پہنچ رہے ہيں لوگوں کو شعوری پروگرام کے تحت اس بیماری کے نقصانات سے آگاہ کرنے کی کوشش کی جائے سیوریج نظام کو بہتر کیا جائے لوگوں کو حفظان صحت کے حوالے سے معلومات دی جائین ھمارے ملک میں جا بجا پڑے غلاظت کے ڈھیڑ گندگی سے بھرے نالے

گھرون سے باہر کھلی نالیان اور بہتا ہوا پانی! ابھی تک ان پریشانیون کا حل ہی نہین ڈھونڈھ سکے اس تکلیف دہ صورت حال پر قابو پانے کے اقدام کرنے کی بجائے کبھی ان قطرون کو نقصان دہ قرار دیا جاتا ہے اور کبھی شر پسند ان اقدام کو ناکام بنانے کے لئے ان ٹیموں کو خون ميں نہلا دیتے ہيں معصوموں کی زندگی بیساکھیوں کے سہارے کب تک؟ ان بچون نے بیساکھيوں سے نجات پاکر اپنے پاؤں پر کھڑا ہونا ہے اپنے ملک کے لئے کام کرنا ہے

Children

Children

ان والین کی تکلیف کا اندازہ کریں جن کی زندگی ایک آزمائش بن جاتی ہے ہر پل اور ہردن کس اذیت سے گزرتا ہے جن بچون کو کل ان کا سہارا بننا ہے ان کے بے جان وجود وہ خود گھسیٹتے پھر رہے ہيں اگر دیگر ممالک اس سے چھٹکارہ پا لیا ہے تو ھمارے ملک کے بچے کب نجات پائیں گے يہ سوچنا حکومت وقت کا کام ہے

تحریر: وقارانساء