سٹی ہسپتال پر مہربانیاں

Shahbaz Sharif

Shahbaz Sharif

مسلم لیگ (ن) کی حکومت کو پنجاب میں چھ برس مکمل ہونے والے ہیں، 2008 میں بھی شہباز شریف وزیر اعلیٰ منتخب ہوئے تھے۔ مئی 2013 میں بھی مسلم لیگ (ن) نے ہی پنجاب میں حکومت قائم کی۔ اس سے قبل 2002 سے 2007 تک مسلم لیگ (ق) کے رہنما چوہدری پرویز الہی پنجاب کے وزیر اعلیٰ تھے۔ چوہدری پرویز الہی نے اپنے دور حکومت میں راولپنڈی ڈویژن کی تحصیل تلہ گنگ میں ایک ہسپتال کا سنگ بنیاد رکھا، تلہ گنگ میں ہونے والے ایک جلسے میں 20 ہزار کے لگ بھگ افراد نے اس ہسپتال کا نام متفقہ طور پر ایک قرارداد کی منظوری کے بعد”چوہدری پرویز الہی ہسپتال” منتخب کیا۔

جس کے بعد اسی نام سے ہسپتال کی تعمیر شروع ہوئی۔ 2005 سے شروع ہونے والا ہسپتال کا منصوبہ 2007 میں مکمل ہوا جس پر 25 کروڑ روپے کی لاگت آئی، تلہ گنگ شہر کے وسط میں جی پی او چوک کے قریب مین شاہراہ پر ہی ہسپتال کی عظیم الشان بلڈنگ مکمل ہوئی، اس ہسپتال کے لئے 176 آسامیوں کی گنجائش رکھی گئی تھی۔ ہسپتال میں کروڑوں روپے مالیت کی ایم آر آئی، سی ٹی سکن، ڈائلیسز، ایکسرے کی جدید ترین مشینیں بھی مسلم لیگ (ق) کے دور حکومت میں پہنچا دی گئیں۔جبکہ چھ ایمبولینس گاڑیاں بھی دی گئیں۔ 2008 میں انتخابات ہوئے تو مسلم لیگ(ن) کو پنجاب میں حکومت ملی جبکہ چوہدری پرویز الہی جو کہ این اے اکسٹھ تلہ گنگ سے الیکشن بھی لڑے تھے ہار گئے اور پنجاب میں مسلم لیگ (ق) اور پیپلز پارٹی کو اپوزیشن کا کردار ادا کرنا پڑا۔

City Hospital

City Hospital

الیکشن جیتنے کے بعد مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے تلہ گنگ کے چوہدری پرویز الہی ہسپتال پر مہربانیاں کرنا شروع کر دیں۔ وزیر اعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے حلف اٹھانے کے بعد سب سے پہلے چیف سیکرٹری پنجاب کو تلہ گنگ بھیجا جنہوں نے ہسپتال کا نام ”چوہدری پرویز الہی” سے تبدیل کر کے سٹی ہسپتال رکھ دیا۔ صرف اسی پر اکتفا نہیں کیا چوہدری پرویز الہی کے دور حکومت میں ہسپتال کو ملنے والی تمام قیمتی مشینری کو تلہ گنگ سے لاہور بھجوا دیا۔ مشینری لاہور جانے کے باوجود بھی مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے 2007 میں مکمل ہوجانے والی ہسپتال کو عوامی دبائو پر ستمبر 2010 میں فنکشنل کیا۔ لیکن 176 آسامیوں پر صرف 57 لوگوں کو تعینات کیا گیا۔

اسوقت کے رکن قومی اسمبلی چوہدری ایاز امیر نے تلہ گنگ میں چکوال سے مسلم لیگ(ن) کے کارکنان کو ہسپتال میں بھرتی کر کے تلہ گنگ کے عوام کے حق پر دوسرا ڈاکہ مارا۔ ہسپتال کو فنکشنل کر دیا گیا مگر تعینات عملے نے علاقے کی غریب عوام کو لوٹنے میں کوئی کسی نہیں چھوڑی ہسپتال میں تعینات ڈاکٹرز نے پرائیویٹ کلینک پر ”مال” کمانا شروع کر دیا۔ اب سٹی ہسپتال کی موجودہ حالت یہ ہے کہ سپیشلسٹ ڈاکٹروں کے کنٹریکٹ ختم ہو چکے ہیں، مسلم لیگ(ن) کی حکومت جہاں صحت کے حوالہ سے بہت کام کر رہی ہے اسے لاہور سے نکل کر تلہ گنگ والوں کا بھی خیال کرنا چاہئے۔ ڈینگی کے خلاف گھر گھر مہم چلائی جاتی ہے، سیمینارز، ریلیاں، بینرز، اشتہارات غرضیکہ صرف تشہیری مہم میں پنجاب حکومت نے کرورڑوں خرچ کر دیئے لیکن تلہ گنگ کے سب سے بڑے ہسپتال کی صورتحال یہ ہے کہ پانچ روپے کی سرنج بھی دستیاب نہیں، ایکسرے مشین تو موجود ہے، شہباز حکومت اہلیان تلہ گنگ پر احسان کر کے صرف ایک ہی مشین چھوڑ کر گئی لیکن ایکسرے کی فلمیں موجود نہیں، جس کی وجہ سے ہسپتال میں آنے والے مریض کے اگر ایکسرے کروانے ہوں تو اسے پرائیویٹ کلینک پر بھیج دیا جا تا ہے، ان دنوں سٹی ہاسپٹل ایک بی ایچ یو کی شکل اختیار کر چکی ہے جہاں صرف اور صرف بخار، پیٹ درد کی ادویات دستیاب ہیں اسے بڑھ کر نہ تو ڈاکٹر اور ہی ادویات، حالانکہ اگر اس ہسپتال کو صحیح طریقے سے فنکشنل کیا جاتا تو راولپنڈی ڈویژن کا سب سے بہترین ہسپتال ہوتا، چار اضلاع، چکوال، میانوالی، اٹک، خوشاب کے لوگ اس ہسپتال سے مستفید ہوتے، اب تحصیل تلہ گنگ بلکہ ضلع چکوال میں کہیں بھی ایم آر آئی ٹیسٹ کی سہولت موجود نہیں، اگر مسلم لیگ(ن) کی حکومت مشینیں اٹھا کر لاہور نہ لے کر جاتی تو تلہ گنگ کی عوام کے لئے حکومت کے دل میں قدرو قیمت باقی رہنی تھی، کسی بھی ایمرجنسی کی صورت میں تلہ گنگ سے مریض کو راولپنڈی ریفر کیا جاتا ہے۔

تلہ گنگ شہر سے پنڈی کا راستہ کم از کم دو گھنٹے کا ہے۔ اور اگر یہی مریض یونین کونسل کوٹگلہ یا لاوہ والی سائیڈ سے آئے تو پنڈی پہنچتے پہنچتے ساڑھے تین سے چار گھنٹے لگ جاتے ہیں ایسی صورتحال میں اکثر مریض راستے میں ہی دم توڑ جاتے ہیں اور ان کا خون پنجاب حکومت کے کرتا دھرتا اور تلہ گنگ کے عوام کے ووٹوں سے منتخب ہونے والے ان عوامی نمائندوں پر ہے جو اپنے ذاتی کاموں کے لئے تو وزیر اعلیٰ سے مل لیتے ہیں لیکن عوامی و فلاہی کاموں کے لئے ان کے پاس وقت نہیں ہوتا۔ تلہ گنگ میں بیلوں کے جلسوں میں توپنجاب کے وزیر پہنچ جاتے ہیں، کلر کہار کالج کی تقریب ہو تو وزیر اعلیٰ شہباز شریف خود آتے ہیں اور کالج کے لئے گرانٹ کا اعلان کرتے ہیں، میاں نواز شریف الیکشن کے دنوں میں تلہ گنگ کی عوام سے وعدے کر کے چلے جاتے ہیں مگر اس ہسپتال میں جہاں آج مریض خوار ہورہے ہیں، ادویات نہیں، ڈاکٹر نہیں، بجٹ نہیں، کوئی سہولت نہیں، پنڈی سے قریب کوئی ٹیسٹ نہیں، اس ہسپتال کی حالت کو بہتر کرنے کے لئے نہ تو وزیر اعلیٰ کے پاس ٹائم ہے، نہ محکمہ ہیلتھ کے افسرا ن میں دلچسپی اور نہ ہی مسلم لیگ(ن) کے منتخب نمائندوں کے پاس، عوام دہائیاں دے رہی ہے، تلہ گنگ،لاوہ کے عوام بیماری یا کسی ایمرجنسی کی صورت میں پنڈی جاتے ہیں، انکا کیا قصور ہے، تلہ گنگ کے ساتھ پنجاب حکومت مسلسل زیادتیاں کر رہی ہے۔تحصیل تلہ گنگ و تحصیل لاوہ کی عوام کے لئے تلہ گنگ بلکہ ضلع چکوال بھر میں کوئی ایک بھی ایسا ہاسپٹل نہیں جہاں عوام کو ایمرجنسی کی بنیادی سہولیات میسر ہوں،کسی بھی ایمرجسنی کی صورت میں پنڈی کا رخ کیا جاتا ہے اگر کسی کو دل کی تکلیف ہو یا بخار،پیٹ درد سے ہٹ کر بیماری ہو تو اسے بھی پنڈی کے ہی چکر لگانے پڑتے ہیں۔

سرکاری ہسپتال میں علاج معالجہ کی بنیادی سہولتیں حاصل کرنا ناممکن دکھائی دیتا ہے مریضوں کے لواحقین ہسپتال سے بنیادی طبی سہولتیں دستیاب نہ ہونے سے مایوسی کا شکار اکثر تو اپنے مریضوں کا پرائیویٹ ڈاکٹروں، ہسپتالوں سے علاج کرانے پر مجبور ہوتے ہیں ہسپتال کی ایمرجنسی وارڈ میں آنے والے مریضوں کو یوں محسوس ہوتا ہے کہ جیسے وہ کسی سرکاری ہسپتال کی بجائے مضافاتی علاقے کی کسی دسپنسری میں علاج کروانے کی غرض سے آئے ہیں۔ حکومت کو چاہئے کہ تلہ گنگ کے اس عظیم الشان ہسپتال سے جتنی بھی مشنری اٹھائی گئی ہے سب واپس لائے اور تمام آسامیوں پر عملہ تعینات کیا جائے۔ یہ تلہ گنگ کے عوام کا حق ہے۔حکومت پنجاب فنڈز نہ ہونے کا جواز بناتی ہے لیکن جاتی عمرہ کی سڑکوں کی تزئین وآرائش پر اربوں روپے خرچ کئے جارہے ہیں۔ غیر ترقیاتی اخراجات، وزراء اور مشیروں کی فوج ظفر موج نے صوبے کی معاشی حالت کو بدحالی کی طرف دھکیل دیا ہے۔ اگر لاہور میں کینسر کا ہسپتال حکومت پنجاب بنا سکتی ہے تو تلہ گنگ کے ہسپتال کے ساتھ اتنی بے رخی کیوں؟ حالانکہ اس حلقہ سے مسلم لیگ(ن) ہمیشہ جیتی، ووٹ ملے لیکن میاں برادران شاید اس لئے توجہ نہیں دے رہے کیونکہ چوہدری پرویز الہی اس حلقہ کو اپنا گھر کہتے ہیں۔

خدارا عوام کو اگر حکومت سہولیات نہیں دے سکتی تو چھینی مت جائیں،وہ منتخب نمائنندے جو ہسپتال کا دورہ تو کر لیتے ہیں لیکن عملی طور پر زیرو ہو چکے ہیں عوام کو چاہئے کہ جنہیں ووٹ دیئے انکویاد کروائیں کہ ٹمن، ملتان، پچنند،لاوہ، دندہ کے مریض کا علاج پنڈی، اسلام آباد میں کیوں ہو رہا ہے۔اگر عوام نے اپنا حق نہ مانگا تو خود بخود نہیں ملے گا اور ایسے نمائندوں کی موجودگی میں محرومیاں بڑھتی جائیں گی۔ عوام کو اپنے حق کے لئے متحد ہو کا آواز بلند کرنی ہو گی تبھی ممکن ہے کہ تلہ گنگ کے مسائل ہوں اور جناب وزیر اعظم نے جودیگر وعدے کئے تھے وہ بھی پورے ہوں۔

Mumtaz Awan

Mumtaz Awan

تحریر: ممتاز اعوان
برائے رابطہ:03215473472