پنجاب اور سندھ بلدیاتی انتخابات کروانے پر تیار

Elections

Elections

اسلام آباد (جیوڈیسک) ملک میں بلدیاتی انتخابات سے متعلق کیس کی سماعت چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں تین رکنی بنچ نے کی۔ ایڈیشنل اٹارنی جنرل شاہ خاور نے بتایا کہ اسلام آباد کے شہری اور دیہی علاقوں میں پہلی مرتبہ بلدیاتی انتخابات ہونے جا رہے ہیں۔

اس حوالے سے قانون سازی کیلئے مشاورت کا عمل مکمل ہو چکا ہے۔ وفاقی کابینہ سے منظوری کے بعد اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات کیلئے آرڈیننس جاری کئے جانے کا امکان ہے۔ جواد ایس خواجہ نے کہا کہ گزشتہ پندرہ پیشیوں سے یہی سن رہے ہیں۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ اگر آپ کی نیت ہوتی تو کل جاری ہونے والے تحفظ پاکستان آرڈیننس کے ساتھ یہ آرڈیننس بھی جاری کر دیا جاتا۔ پنجاب اور سندھ کا کہنا تھا کہ بلدیاتی انتخابات کیلئے ہماری تیاریاں مکمل ہیں۔ 27 نومبر کے بعد بلدیاتی الیکشن کروانے کو تیار ہیں۔ ڈی جی الیکشن کمیشن شیر افگن نے کہا کہ ہمیں صوبوں کی جانب سے حلقہ بندیوں کا حتمی نوٹیفکیشن دیا جائے جس پر چیف جسٹس نے کہا کہ آپ انتخابات کے انعقاد میں رکاوٹیں نہ ڈالیں۔

منتخب بلدیاتی اداروں سے غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے والے ساٹھ فیصد لوگ مستفید ہوتے ہیں۔ ایڈمنسٹریٹرز سے عوام کو کوئی فائدہ نہیں پہنچتا، وہ تو بادشاہ ہوتے ہیں۔ ایڈووکیٹ جنرل خیبر پختونخوا کا کہنا تھا کہ حلقہ بندیوں اور قانون سازی کا کام تیزی سے جاری ہے۔ اس پر چیف جسٹس نے کہا کہ قانون سازی میں تاخیر ہے تو آپ آرڈیننس جاری کر دیں۔ آئین پر عملدرآمد میں کوئی سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔ سپریم کورٹ نے سندھ اور پنجاب کو حلقہ بندیاں کے ابتدائی نوٹی فیکشن الیکشن کمیشن کے سپرد کرنے کا حکم دیا۔

عدالت کا کہنا تھا کہ حلقہ بندیوں کی عزرداریاں سننے کے بعد حتمی نوٹی فیکشن جاری کیا جائے۔ بلوچستان حکومت کا کوئی نمائندہ عدالت میں موجود نہیں تھا۔ کیس کی آئندہ سماعت بدھ کو ہو گی۔