رافیل ڈیل تنازعہ: کانگریس نے نریندر مودی کو شامل تفتیش کرنے کا مطالبہ کر دیا

Rahul Gandhi

Rahul Gandhi

نئی دہلی (جیوڈیسک) بھارتی اپوزیشن جماعت کانگریس کے صدر راہول گاندھی نے مطالبہ کیا ہے کہ رافیل طیاروں کے متنازع معاہدے اور دستاویزات کی چوری کی تحقیقات وزیراعظم نریندر مودی سے کی جائے۔

بھارتی سپریم کورٹ میں رافیل طیاروں کے معاہدے میں مبینہ بے ضابطگی سے متعلق زیرسماعت کیس میں حکومت نے گزشتہ روز مؤقف اختیار کیا تھا کہ معاہدے کی دستاویزات وزارت دفاع کے دفتر سے چوری ہوچکی ہیں جس کی تحقیقات کی جارہی ہے۔

راہول گاندھی نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے مودی حکومت کو آڑے ہاتھوں لیا اور کہا کہ حکومت کہہ رہی ہے کہ رافیل طیاروں سے متعلق دستاویزات چوری ہوگئیں جو اس بات کا ثبوت ہے کہ دستاویزات میں جو لکھا تھا وہ درست ہے۔

راہول گاندھی نے کہا کہ دستاویزات میں صاف لکھا ہے کہ رافیل طیاروں کی ڈیل کے لیے نریندر مودی اور وزیراعظم آفس براہ راست بات چیت کر رہے تھے اور نریندری مودی نے اپنے دوست انیل امبانی کو فائدہ پہنچانے کے لیے رافیل ڈیل کا بجٹ بڑھایا۔

کانگریس کے صدر کا کہنا تھا کہ اب تو مذاکراتی ٹیم نے بھی کہا ہے کہ نریندر مودی بائی پاس سرجری کر رہے تھے اور رپورٹ کے مطابق مودی نے صاف کہا کہ کنٹریکٹ انیل امبانی کو دیا جائے۔

راہول گاندھی نے کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی کا براہ راست نام سامنے آرہا ہے اس کے بارے میں بھی انکوائری کی جائے کہ پیسہ کہاں گیا، سب سچائی سامنے آ جائے گی۔

راہول گاندھی نے سوال کیا کہ نریندر مودی خود تحقیقات کیوں نہیں کرا رہے، مودی کہیں کہ وہ ملک کے چوکیدار ہیں اور وہ تحقیقات کرائیں گے۔

کانگریس کے صدر نے کہا کہ یہ کرپشن کا کیس ہے تو کرمنل انویسٹی گیشن کیوں نہ کی جائے، تحقیقات سب کے خلاف ہوسکتی ہے تو مودی کے خلاف کیوں نہیں ہوسکتی۔

یاد رہے کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے ستمبر 2016 میں فرانسیسی حکومت کے ساتھ 36 رافیل طیاروں کے معاہدے پر دستخط کیے تھے۔

اخبار ‘دی ہندو’ نے رافیل طیاروں کے معاہدے میں بے ضابطگیوں سے متعلق معاملے کو اٹھایا اور اس پر متعدد رپورٹس شائع کیں۔

بھارت میں اس معاملے نے اُس وقت زور پکڑا جب ستمبر 2018 میں سابق فرانسیسی صدر فرانسوا اولاند نے انکشاف کیا کہ بھارت نے 11 کھرب روپے مالیت کے 36 رافیل لڑاکا طیاروں کی خریداری کے لیے بزنس مین انیل امبانی کی دیوالیہ کمپنی کو پارٹنر بنانے کی تجویز دی تھی۔