سینٹ کی بلی تھیلے سے باہر آ گئی

Senate Elections

Senate Elections

تحریر : عقیل خان
آخر کار اللہ اللہ کر کے سینٹ کے الیکشن ہو گیا۔ سینٹ الیکشن کے انعقاد میں کئی نشیب و فراز آنے کی پیشن گوئیاں سنی جارہی تھیں مگر حکومت اور الیکشن کمیشن کی محنت سے سینٹ الیکشن کا انعقاد مقررہ وقت پرممکن ہوا۔پس پردہ کچھ اس قسم کی باتیں سنی جارہی تھیں کہ شائد سینٹ کا الیکشن نہ ہو اور کچھ ایسی بھی آوازیں آ رہی تھیں کہ ن لیگ کو اس الیکشن سے آؤٹ کیا جائے تاکہ وہ سینٹ میں اکثریتی پارٹی نہ بن سکے۔یہی وجہ تھی کہ اس سینٹ الیکشن میں پہلی بار بڑی تعداد میں آزاد امیدواروںنے کامیابی حاصل کی۔آزاد امیدواروں کی کامیابی کی پیچھے بھی ایک کہانی چھپی ہوئی ہے۔آزاد امیدوار بننے کی اصل وجہ مسلم لیگ کے قائد اور وزیراعظم میاں نوازشریف کی نااہل ہونا ہے کیونکہ سپریم کورٹ نے میاں نواز شریف کو پہلے وزیراعظم شپ سے نااہل قرار دیا بعد میں ان کو ن لیگ کی قیادت سے بھی فارغ کردیا۔ جس کی وجہ سے ن لیگ کے تمام امیدواروں کو اس لیے پارٹی ٹکٹ پر الیکشن لڑنے کی اجازت نہیں ملی کہ ان کو ٹکٹ میاں نوازشریف نے الاٹ کیا تھا۔ جس کے باعث تمام ن لیگی امیدواروں نے آزاد حیثیت سے سینٹ الیکشن لڑا۔

سینٹ کی ٹوٹل سیٹیں 104 ہیںجن میں سے 52سیٹیں خالی ہوگئی تھیںاور ان پر الیکشن 3مارچ کو ہوا۔ سینیٹ کی 52 نشستوں پرانتخابات میں غیرحتمی وغیر سرکاری نتائج کے مطابق ایوان بالا میں پارٹی پوزیشن تبدیل ہوگئی ہے۔سینیٹ کی 52 نشستوں کے لیے وفاقی دارالحکومت اسلام آباد، چاروں صوبوں اور فاٹا سے مجموعی طور پر 133 امیدوار میدان میں اترے۔مسلم لیگ ن کے آصف کرمانی، مصدق مسعود ملک، زبیر گل سینیٹر اور سابق وزیر خزانہ اسحٰق ڈار سمیت 17 امیدواروں نے میدان مار لیا جس کے بعد سینٹ میں مسلم لیگ نے مجموعی طور سب سے زیادہ 33نشستیں حاصل کر لیں۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے مولا بخش چانڈیو اور مصطفیٰ نواز کھوکر سمیت 12 امیدوار منتخب ہوئے جس کے بعد سینٹ میں پیپلز پارٹی 20 سیٹوں کے ساتھ دوسری بڑی پارٹی بن گئی ہے۔جبکہ تحریک انصاف کے فیصل جاوید اور چوہدری سرور سمیت 6 امیواروں نے سینیٹ انتخاب میں کامیابی حاصل کی جس کے بعد سینیٹ میں پی ٹی آئی مجموعی طور پر 12 نشستوں کے ساتھ تیسرے نمبر پر ہے اس کے علاوہ 6 آزاد امیدواروں نے سینیٹ انتخاب میں کامیابی سمیٹی جس کے بعد سینٹ میں آزاد نشستوں کی تعداد مجموعی طور سترہ ہو گئی۔جبکہ سینیٹ انتخاب کے بعد ایم کیو ایم 5، نیشنل پیپلز پارٹی 5 جے یو آئی ف 4 اور جماعت اسلامی مجموعی طور پر 2 نشستیں رکھتی ہیں۔

حالیہ سینٹ الیکشن میں سرعام میڈیا کے اوپر اسی قسم کا چرچہ رہا ہے کہ سینٹ کے الیکشن میں ووٹ کے لیے کروڑوں روپے تقسیم کیے جارہے ہیں۔ ہر سیاستدان ہارس ٹریڈنگ کا رونا رو رہا ہے مگر یہ نہیں پتہ کہ ہارس ٹریڈنگ کر کون رہا ہے۔کون بک رہا ہے اور کون خریدرہا ہے؟تحری انصاف کے سربراہ عمران خان نے الزام لگایا ہے کہ ہارس ٹریڈنگ ہوئی تو دوسری جانب ن لیگ کی عظمی نے رو رو کر برا حال کرتے ہوئے بتایا کہ چوہدری سرور نے سیٹ پیسوں کے بل پر جیتی ہے۔ سندھ میں ایم کیو ایم کے رکن اسمبلیوں پر الزام ہیں کہ انہوں نے بھی ووٹ ادھر اُدھر کیے ہیں۔ بلوچستان پر تو پہلے سے باتیں ہورہی تھیں کہ سیٹ کے الیکشن میں جھرلو پھرے گا۔ ان جھرلوں میں خیبر پختونخواہ بھی پیچھے نہیں رہا ادھر بھی نتائج وہ نہیں آئے جن کی امید کی جا رہی تھی۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے جو خود کو انمول سمجھتے ہیں بلکہ اپنے اپنے حلقوں میں خود جنرل الیکشن میں ووٹ خریدنے کے امیدوار ہوتے ہیں وہ خود بکتے ہوئے کیوں نہیں سوچتے؟ پھر کہاں گئے کرپشن کا شور مچانے والے؟ عدلیہ خاموش کیوں؟ جب صادق و امین کا سیاستدان لائسنس لیتے ہیں تو پھر جب میڈیا پر ایک دوسرے پر الزام لگاتے ہیںتو عدلیہ خود سوموٹو ایکشن لے تاکہ جھوٹ کا جھوٹ اور سچ کا سچ ثابت ہو۔ جو خریدار ہے یا جو بکے ہیں ان کو بے نقاب کیاجائے تاکہ عوام کو بھی ان کا اصل چہرہ نظر آئے۔ایسی حرکت کرنے والوں کو سخت سے سخت سزا دی جائے تاکہ دوبارہ ایسی کوئی حرکت نہ کرسکے مگر کیا کریں یہاں تو” کتی چوراں نال رلی ” کے مترادف ہر بار سینٹ کے الیکشن پر ہارس ٹریڈنگ کا واویلہ کیا جاتا ہے مگر اس کا تدارک نہیں۔

بحرحال اللہ اللہ کرکے الیکشن مکمل ہوامگر اب بھی کچھ تجزیہ نگار ،تبصرنگار فرما رہے ہیں کہ ن لیگ کے نومنتخب سینٹر فارغ ہوسکتے ہیں ۔ اب اللہ جانتا ہے کہ وہ کون سی منطق ہے یا سوچ ہے جو ان کو فارغ کرانا یا کرنا چاہتی ہیں او رکیوں؟جنرل الیکشن بھی ہوجائے گا مگر کیوں کا جواب ایسے دھول مٹی میں دب جائے گا اور عوام جواب کی منتظر رہے گی۔دعا ہے کہ رب العزت میرے ملک سیاسی بحرانوں سے نکالے اور ملک میں صالح قیادت نصیب کرے تاکہ ہم بھی سکھ کا سانس لے سکیں۔

Aqeel Khan

Aqeel Khan

تحریر : عقیل خان
aqeelkhancolumnist@gmail.com