fbpx

سوڈان کے علاقے دارفور میں تازہ حملوں میں مزید 60 افراد ہلاک

Sudan Attacks

Sudan Attacks

سوڈان (اصل میڈیا ڈیسک) اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ سوڈان کے علاقے دارفور میں تقریباﹰ 500 مسلح افراد نے مسالت برادری پر حملہ کر کے درجنوں افراد کو قتل کر دیا اور لوٹ مار کے علاوہ ان کے گھروں کو بھی جلا دیا گيا ہے۔

اقوام متحدہ میں انسانی امور کے روابط سے متعلق ادارے (او سی ایچ اے) سے وابستہ ایک سینیئر اہلکار کا کہنا ہے کہ سوڈان میں دارفور کے مستیری شہر میں مسالت کمیونٹی کو ایک بار پھر سے نشانہ بنایا گيا ہے۔ خبروں کے مطابق تقریباﹰ پانچ سو مسلح افراد نے حملہ کیا جس میں تقریبا 60 افراد ہلاک اور ساٹھ ہی کے قریب زخمی ہوئے۔ حملہ آوروں نے گھروں کو آک لگا دی اور مقامی بازار کے کچھ حصوں کو لوٹ بھی لیا۔

اقوام متحدہ نے اس سے متعلق ایک بیان میں کہا ہے، ’’یہ گزشتہ ہفتے کے دوران پیش آنے والے سکیورٹی کے واقعات میں سے ایک تازہ واقعہ ہے، جس میں متعدد دیہات اور مکانات نذر آتش کر دیےگئے، بازاروں اور دکانوں کو لوٹا گيا اور انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچایاگيا ہے۔‘‘

خرطوم میں ’او سی ایچ اے‘ کے دفتر کے مطابق، ’’دارفور کے مختلف حصوں میں تشدد میں اضافے کے سبب لوگوں کے بڑی تعداد میں بےگھر ہونے کا خدشے کے ساتھ ہی زرعی سیزن کے ضائع ہونے کا خطرہ ہے۔ اس سے جہاں جانی و مالی نقصان ہو رہا ہے وہیں ذریعہ معاش کی تباہی سے لوگوں کی مشکلات میں اضافہ ہوگا۔‘‘

دارفور میں کاشتکار قبائلی برادری اور عرب خانہ بدوشوں کے درمیان زمینی تنازعات سمیت مختلف امور پر جھگڑے رہے ہیں تاہم اس نوعیت کے حملے کافی عرصے بعد شروع ہوئے ہیں۔

تازہ حملوں کے بعد سینکڑوں مقامی افراد نے علاقے میں بہتر سکیورٹی کے مطالبے اور تحفظ کے لیے احتجاجی مظاہرہ کیا۔ ان کا کہنا ہے کہ جب تک حکام سخت کارروائی نہیں کرتے اس وقت تک وہ لاشوں کو دفن نہیں کریں گے۔

گزشتہ ہفتے بھی اسی طرح کے ایک حملے میں مقامی برادری کے کھیتوں کو نشانہ بنایا گیا تھا جس میں بچوں سمیت 20 عام شہری ہلاک ہوئے تھے۔ سوڈان کے وزیر اعظم عبداللہ حمدوق کا کہنا ہے کہ ان کی حکومت متاثرہ علاقوں میں سکیورٹی فورسز روانہ کرے گی تاکہ ذراعت سے وابستہ کمیونٹی اور فصل دونوں کو بچایا جا سکے۔

سوڈان میں گزشتہ برس زبردست عوامی تحریک اور احتجاجی مظاہروں کے بعد ایک مدت سے اقتدار میں رہنے والے صدر عمر البشیر کی حکومت کا تختہ الٹ دیا گيا تھا جس کے بعد سے ایک عبوری حکومت کام کر رہی ہے۔ یہ حکومت دیرینہ قیام امن کے مقصد سے فی الوقت کئی عسکریت پسند گروپوں کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے۔

عمر البشیر پر نشل کشی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا الزام ہے جس کے لیے ان پر بین الاقوامی فوجداری عدالت میں مقدمات دائر ہیں۔