طالبان کا حکومت سے مذاکرات نہ کرنے کا اعلان

Taliban

Taliban

لاہور (جیوڈیسک) کالعدم تحریک طالبان کے ترجمان کے مطابق حکیم اللہ محسود کی ہلاکت کے بعد پاکستانی حکومت سے کسی قسم کے مذاکرات نہیں کئے جائیں گے۔ ترجمان نے الزام لگایا کہ ”حکیم اللہ محسود کے قتل کے ذمہ دار پاک فوج اور امریکا ہیں”۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ کالعدم تحریک طالبان کے نئے امیر کی تقرری کیلئے آئندہ چند دنوں میں متفقہ فیصلہ کیا جائے گا۔

دوسری جانب برطانوی خبر رساں ادارے کے مطابق طالبان کے مرکزی ترجمان نے ایک بیان جاری کیا جس میں کہا گیا کہ تنظیم کے سرکردہ ارکان کے ایک اجلاس میں عصمت اللہ شاہین کو نگران سربراہ مقرر کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جبکہ آئندہ چند دنوں میں تنظیم کے مستقل سربراہ کا اعلان کر دیا جائے گا۔

حکیم اللہ محسود کی ڈرون حملے میں ہلاکت کے بعد طالبان کی طرف سے جاری ہونے والے پہلے بیان میں انتہائی سخت زبان استعمال کی گئی اور ان کی موت کا بھرپور انداز میں انتقام لینے کی دھمکی دی گئی۔ کالعدم تحریک طالبان پاکستان کے ترجمان نے اس بیان میں حکومت سے بات چیت نہ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ امریکی غلاموں سے کسی قسم کے کوئی مذاکرات نہیں ہو سکتے۔

بیان میں میڈیا کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ طالبان کے مرکزی ترجمان شاہد اللہ شاہد نے میڈیا کی ان خبروں کی بھی تردید کی ہے جن میں کہا گیا تھا کہ تحریک طالبان پاکستان بحران کا شکار ہے۔ انہوں نے کہا کہ تحریک طالبان پاکستان کسی بحران کا شکار نہیں ہے اور نئے امیر کی تقرری کے لیے شوریٰ اگلے چند دنوں میں متفقہ فیصلہ کا اعلان کرے گی۔