2017 میں پچاس ہزار عورتیں اہل خانہ کے ہاتھوں قتل ہوئیں

Women Violence

Women Violence

واشنگٹن (جیوڈیسک) عورتوں پر تشدد اور ان کے قتل کے کئی واقعات میں متاثرین کے قریبی حلقے ہی ملوث پائے جاتے ہیں۔ یہ مسئلہ دنیا بھر میں پایا جاتا ہے لیکن ایک تازہ رپورٹ کے مطابق افریقہ اور ایشیا میں ایسے واقعات کی تعداد بالخصوص نمایاں ہے۔

سن 2017 کے دوران دنیا بھر میں تقریبا پچاس ہزار عورتوں کو ان کے شوہروں، پارٹنرز یا دیگر اہل خانہ نے قتل کیا۔ یہ انکشاف منشیات و جرائم کے انسداد کے لیے سرگرم اقوام متحدہ کے دفتر (UNODC) نے پیر آٹھ جولائی کو آسٹریا کے دارالحکومت ویانا سے جاری کردہ ایک رپورٹ میں کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق دنیا بھر میں سن 2017 میں پر تشدد کارروائیوں یا جرائم کے نتیجے میں ہلاک ہونے والی عورتوں کی تعداد 87,000 رہی۔

اس رپورٹ کے مطابق کئی کیسز میں عورتوں کا ان کے اس وقت کے پارٹنرز، سابق پارٹنرز، والد، بھائیوں، ماں، بہنوں اور دیگر اہل خانہ کے ہاتھوں قتل ہوا۔ یہ امر اہم ہے کہ شوہروں یا پارٹنرز کے ہاتھوں قتل کے کیسز میں واردات عموما اچانک رونما نہیں ہوئی بلکہ علیحدگی کے خوف، حسد، شک اور دیگر وجوہات کی بنا پر طویل جھگڑے کے بعد ہی ایسی کارروائی سامنے آتی ہے۔ ایسے کیسز میں دیکھا گیا ہے کہ عورتیں قتل سے قبل تسلسل کے ساتھ تشدد کا شکار بھی بنتی ہیں۔

گھریلو تشدد کے سب سے زیادہ جان لیوا واقعات بر اعظم ایشیا میں دیکھے گئے۔ ایشیائی ممالک میں سن 2017 کے دوران بیس ہزار عورتوں کو ان کے اس وقت کے پارٹنرز، سابق پارٹنرز، والد، بھائیوں، ماں، بہنوں اور دیگر اہل خانہ نے موت کے گھاٹ اتار دیا۔ افریقہ میں ایسے کیسز کی تعداد انیس ہزار، بر اعظم امریکا میں آٹھ ہزار اور یورپ میں تین ہزار رہی۔ اگر بر اعظم کی مجموعی آبادی سے ایسے قتل کے تناسب کا موازنہ کیا جائے، تو براعظم افریقہ عورتوں کے لیے سب سے خطرناک ہے۔

عورتوں کے خلاف تشدد معاشرے میں پائے جانے والے دقیانوسی خیالات اور ‘مرادنگی کے تصور کے سبب پایا جاتا ہے۔ رپورٹ مرتب کرنے والے محققین کے بقول ایسے معاشروں میں مرد عموما سمجھتے ہیں کہ وہ جب چاہیں اپنی بیویوں کو جنسی عمل پر مجبور کرنا یا بیویوں پر زور چلانا ان کا حق ہے۔