تریپولی میں جھڑپوں میں کم ازکم 23 افراد ہلاک

تریپولی(جیوڈیسک) لبنان کے بندرگاہی شہر تریپولی میں سنی اور الاویتی رہائشیوں کے درمیان شامی تنازع سے منسلک جھڑپوں میں 23 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔تریپولی غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق جمعرات کا روز جھڑپوں میں خونی ترین دن تھا جب 24 گھنٹوں میں کم ازکم 11 افراد ہلاک ہوئے۔ الاویتی اکثریتی علاقے جبل موسن اور اس سے ملحقہ سنی مسلم بابل طبانے ضلع میں جھڑپوں کے دوران کم ازکم 167 افراد زخمی ہو چکے ہیں۔

تشدد کا تعلق شامی تنازع سے ہے جہاں سنی قیادت میں احتجاجی تحریک صدر بشارالاسد اور الاویتی کی حکومت کو فارغ کرنے کے لئے برسرپیکار ہے۔ تازہ ترین تشدد کا آغاز اس وقت ہوا جب اسد کی فوج نے شام کے وسطی صوبے حمص میں باغیوں کے مضبوط گڑھ قصائر میں ان کے خلاف آپریشن کیا ہے۔ تریپولی جو مارچ 2011 میں شامی تنازع کے آغاز کے بعد سے مسلسل جھڑپوں کی زد میں ہے میں جھڑپیں زیادہ تر دو ہمسایہ علاقوں کے درمیان تک محدود ہیں۔

مزید برآں پانچ لاکھ آبادی والے شہر میں کچھ حد تک نظام زندگی معمول پر ہے۔ تاہم ٹریفک اور سکول معمول کے مطابق زیادہ تر بند ہیں جبکہ اکثر دکانیں ابھی تک کھلی ہیں۔ شہر کے جنوب مغرب میں جبل موسن اور بابل طبانے کی گلیاں سنسان ہیں اور کچھ رہائشی اپنے گھر بار چھوڑ چکے ہیں۔

تشدد کے پھوٹنے کے بعد سے شہر بھر میں فوج تعینات کی جا چکی ہے تاہم ان کی موجودگی اور مقامی رہنماں اور سکیورٹی سربراہان کے درمیان متعدد مذاکرات بھی لڑائی کو روکنے میں ناکام رہے ہیں۔ جمعہ کی صبح لڑائی میں کمی دیکھی گئی لیکن یہ فوری طور پر یہ واضح نہیں ہے کہ آیا یہ سکون کی بحالی علامت ہے یا بعد از دوپہر لڑائی کے دوبارہ شروع ہونے سے قبل معمول کے مطابق اس میں رکاوٹ آئی ہے۔