ترکی پر امریکی پابندیاں ناجائز ہیں، ایرانی وزیر خارجہ

Russland Raketenabwehr-System S-400

Russland Raketenabwehr-System S-400

ایران (اصل میڈیا ڈیسک) ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف نے کہا ہے کہ ترکی پر امریکی پابندیاں ناجائز ہیں۔ امریکا ترکی کی جانب سے ایس فور ہنڈرڈ روسی دفاعی نظام خریدنے پر کئی مرتبہ اپنی تشویش کا اظہار کر چکا ہے۔

ترک صدر رجب طیب ایردوآن اس روسی دفاعی نظام کو خریدنے کے اپنے موقف پر ڈٹے رہے اور انجام کار اسے حاصل کر کے دم لیا۔ روس کی جانب سے اس دفاعی نظام کی ترکی کو ترسیل گزشتہ برس کر دی گئی ہے۔ اس وقت اس کی تنصیب اور آزمائشی عمل جاری ہے۔ امریکا نے ترکی کو اس روسی نظام کا حاصل کرنے سے گریز کا مشورہ دیا تھا۔

ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف نے ترکی پر روسی دفاعی نظام خریدنے کی پاداش میں عائد کی جانے والی امریکی پابندیوں کی پرزور مذمت کرتے ہوئے انہیں بین الاقوامی قوانین کی توہین قرار دیا۔ ظریف نے یہ بھی کہا امریکا کو اب پابندیاں لگانے کا نشہ ہو گیا ہے اور وہ اس عادت سے مجبور ہو کر بین الاقوامی قانون کی دہجیاں بکھیر رہا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ نے یہ بھی کہا کہ ان کا ملک ان امریکی پابندیوں کی شدید مذمت کرتا ہے اور وہ ترک عوام اور حکومت کے ساتھ کھڑا ہے۔ انہوں نے ٹویٹر پر ‘ہمسائے سب سے پہلے‘ کا ہش ٹیگ بھی لگایا۔

پیر چودہ دسمبر کو امریکی حکومت نے ترک فوج کے لیے قرضہ حاصل کرنے کی سہولت اور ایکسپورٹ کے اجازت نامے منسوخ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ اس کے ساتھ یہ بھی کہا گیا کہ اس ملک کا صدر امریکا کے سفر اور وہاں اثاثے بنانے کا مجاز نہیں ہو گا۔ امریکی حکومت نے ترکی پر یہ پابندیاں انتہائی جدید روسی دفاعی نظام ایس فور ہنڈرڈ (S 400) خریدنے کی وجہ سے عائد کی ہیں۔ امریکا نے انقرہ حکومت کو روسی دفاعی نظام خریدنے سے روکنے کی ہر ممکن کوشش کی تھی لیکن ترک صدر رجب طیب ایردوآن اس خریداری کو اپنے ملک کے لیے ضروری قرار دیتے رہے۔

ترکی پر پابندیاں لگانے کے حوالے سے امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کا کہنا ہے کہ یہ ایک واضع پیغام ہے کہ واشنگٹن دفاعی اور انٹیلیجنس سیکٹر میں روس کے ساتھ کسی بھی قسم کے سودے یا خریداری کو کسی بھی صورت میں برداشت نہیں کرے گا۔ ترکی کو روسی دفاعی نظام ایس فور ہنڈرڈ کی فراہمی گزشتہ برس کر دی گئی ہے۔

اس جدید دفاعی نظام کی خریداری اور فراہمی کے دوران امریکا نے ترک حکومت کو کئی مرتبہ انتباہ بھی کیا کہ وہ اس کو خریدنے سے باز رہے۔ دوسری جانب ترکی اپنی خریداری کے سودے سے پیچھے نہیں ہٹا۔ ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے ان پابندیوں کو ترکی کے وقار کے منافی قرار دیا اور اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ جلد اس دفاعی نظام کا آزمائشی عمل شروع کیا جا رہا ہے۔